Wednesday , October 17 2018
Home / شہر کی خبریں / محکمہ مال میں رشوت ستانی و بدعنوانیاں عروج پر

محکمہ مال میں رشوت ستانی و بدعنوانیاں عروج پر

اراضیات کی غیر مجاز فروختگی کا سلسلہ برقرار ، حکومت سے انسداد کے اعلانات بے فیض
حیدرآباد۔11اکٹوبر(سیاست نیوز) حکومت کی جانب سے جائیدادوں پر قبضہ جات کو روکنے اور ان کی غیر مجاز فروخت پر قابو پانے کے لئے متعدد اعلانات کئے جا رہے ہیں لیکن اس کے باوجود محکمہ مال میں موجود رشوت ستانی اور بدعنوانیو ںکے سبب شہر بالخصوص شہر کے نواحی علاقوں میں موجود کھلی اراضیات کی غیر مجاز فروخت اب بھی ممکن ہے اور محکمہ مال کے علاوہ اسٹامپ و رجسٹریشن کے عہدیداروں و ملازمین کے ساز باز کے سبب اب بھی ایسی خرید و فروخت کا سلسلہ جاری ہے اور دستاویزات میں الٹ پھیر کے ذریعہ یہ صورتحال پیدا ہورہی ہے۔ حکومت تلنگانہ نے ریاست میں اراضیات کے ریکارڈس کو باقاعدہ بنانے کی مہم چلائی اور ریکارڈس کو باقاعدہ بنانے کے دعوے کئے گئے لیکن اس کے باوجود اب بھی کئی اراضیات کے ریکارڈس جوں کے توں ہیں اور ان پر موجود ناجائز قابضین کی جانب سے ان جائیدادوں کو فروخت کیا جا رہاہے لیکن محکمہ مال کی جانب سے متعدد مرتبہ توجہ دہانی کے باوجود ان کی فروخت کو روکنے کے کوئی اقدامات نہیں کئے جا رہے ہیں بلکہ محکمہ مال کی جانب سے ریاست میں جائیدادوں کی خرید و فروخت کے ذریعہ ہونے والی آمدنی کو مثبت تبدیلی اور ریاست میں جائیدادوں کی خرید و فروخت کو ترقی پر محمول کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جبکہ شہر حیدرآباد کے علاوہ مضافاتی علاقوں میں کھلی اراضیات پر قبضوں اور غیر مجاز فروخت کے معاملات تیزی سے عروج پر ہیں اور غیر مجاز خرید و فروخت کو روکنے کے بجائے محکمہ مال کے عہدیدار بغیر ریکارڈس کا جائزہ لئے جائیدادوں کی فروخت کو ممکن بنانے کے اقدامات کر رہے ہیں۔ شہر یا مضافات کے کسی بھی رجسٹریشن آفس میں بغیر کسی ایجنٹ کے کام نہیں ہوتے اس بات سے سب واقف ہیں لیکن اس کے باوجود یہ کہا جا رہا ہے کہ تلنگانہ میں اراضیات کے ریکارڈس کو باقاعدہ بناتے ہوئے حکومت نے محکمہ مال سے بدعنوانیوں کے خاتمہ کے لئے جو اقدامات کئے ہیں وہ قابل ستائش ہیں جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے کیونکہ ایجنٹس اور درمیانی آدمی کا چلن اب بھی رجسٹرار کے دفتر میں برقرار ہے اور جائیدادوں کی غیر مجاز فروخت کے اقدامات کا سلسلہ بھی جاری ہے ۔ جائیدادوں کی غیر مجاز فروخت کو رجسٹرار کے دفتر تک ہی روک دیا جائے تو عدالتوں میں جائیدادوں کے تنازعات کم ہوسکتے ہیں لیکن رجسٹرار کے دفاتر میں جاری بدعنوانیاں اور غیر مجاز فروخت کے سبب مالکین ‘ قابضین اور خریداروںکے مابین فروغ پانے والے تنازعات عدالتوں تک پہنچ رہے ہیں۔ حکومت تلنگانہ کے بدعنوانیوں کے خاتمہ کے دعوے محکمہ مال کے علاوہ دیگر محکمہ جات میں بھی نظر تو نہیں آرہے ہیں لیکن حکومت دعوے کرنے سے بھی احتیاط نہیں کر رہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT