Thursday , October 18 2018
Home / اضلاع کی خبریں / محکمہ پولیس میں تعصب کے بڑھتے اثرات باعث تشویش

محکمہ پولیس میں تعصب کے بڑھتے اثرات باعث تشویش

کریم نگر میں احتجاجی پروگرام سے ایم اے قدیر و دیگر کا خطاب

کریم نگر میں احتجاجی پروگرام سے ایم اے قدیر و دیگر کا خطاب
کریم نگر /19 اپریل (فیکس) کریم نگر کے مسلم نوجوانوں نے ایک احتجاجی پروگرام منعقد کیا، جس کو مخاطب کرتے ہوئے جناب محمد عبد القدیر نے پانچ مسلم نوجوانوں کو ورنگل جیل سے حیدرآباد منتقلی کے دوران منصوبہ بند طریقہ سے سفاکانہ قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے محکمہ پولیس میں مسلمانوں کے تعلق سے تعصب کے بڑھتے اثرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور مرکزی و ریاستی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ مجسٹریٹ کے فوری آزادانہ تحقیقات کروائیں اور ان درندہ صفت مبینہ قاتل پولیس عہدہ داروں کو برطرف کرتے ہوئے ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ جناب محمد عبد اللہ سماجی کارکن نے ان پانچ نوجوانوں کی مظلومانہ ہلاکت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے مجبور و بے بس ہتھکڑیوں میں جکڑے ہوئے ان قیدیوں کو گولیوں کا نشانہ بناکر قتل کردیا، جب کہ عدالت سے باعزت بری ہونے کا وقت قریب تھا۔ انھوں نے کہا کہ ہندوستان میں اس طرح کی ہلاکتیں ایک سنگین مسئلہ بنتی جا رہی ہیں، جب کہ این ڈی اے حکومت کے قائدین اور وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے پارلیمنٹ میں مسلمانوں کے تعلق سے بیان دیا کہ مسلمان عالمی دہشت گردی کے منصوبوں کو ناکام بنانے میں سرگرم ہیں۔ انھوں نے کہا کہ سیکورٹی فورسیس مسلم نوجوانوں کو انتہا پسند اور دہشت گرد تنظیموں تک پہنچنے جیسے حالات پیدا کر رہی ہے۔ جناب محمد نعیم نے کہا کہ اگر انصاف کے علمبردار دیانتداری سے کام کریں تو دنیا سے ظلم و زیادتی ختم ہو جائے گی۔ انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ خاطی ملازمین پولیس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور شہید نوجوانوں کے پسماندگان کو کم از کم پچاس پچاس لاکھ روپئے ایکس گریشیا دیا جائے۔ مولانا عبد العلیم نے مسلم نوجوانوں کی انکاؤنٹر ہلاکت کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ انصاف کا خون ہے اور یہ مسلم نوجوانوں کو انتہا پسندی کی راہ پر لاکھڑا کرنے کی سوچی سمجھی سازش ہے، جب کہ این ڈی اے حکومت کے سیاسی آقاؤں کا دعویٰ ہے کہ ہندوستانی مسلمان دہشت گردی کی لعنت سے محفوظ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ این ایس اے اور دیگر سیکورٹی ایجنسیاں مسلم نوجوانوں کو انتہا پسندی اور دہشت گردی کی راہ پر پہنچانے مل جل کر کام کر رہی ہیں۔ جناب محمد مقیم نے مسلم نوجوانوں کے انکاؤنٹر کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ من گھڑت قصے بیان کرکے پولیس عوام کے ذہن میں بداعتمادی پیدا کر رہی ہے اور اپنا وقار کھو رہی ہے۔ اس موقع پر مسرز عبد الجبار سماجی کارکن، عبد الناصر، عبد المنعم، فخر الدین، سراج، علیم، منیر، محمد لئیق، خلیل احمد کے علاوہ نوجوانوں کی کثیر تعداد موجود تھی۔ پروگرام کا آغاز حافظ عبد الحق کی تلاوت سے ہوا اور مولانا عبد العلیم کی دعا پر اختتام عمل میں آیا۔

TOPPOPULARRECENT