Saturday , December 16 2017
Home / اضلاع کی خبریں / محکمہ پولیس کی جانب سے جرائم کی روک تھام کیلئے موثر اقدامات

محکمہ پولیس کی جانب سے جرائم کی روک تھام کیلئے موثر اقدامات

خواتین سے چھیڑ چھاڑ پر قابو پانے شی ٹیمس کا قیام ، پولیس کمشنر کارتیکیا کی پریس کانفرنس

نظام آباد۔27 ڈسمبر (سیاست ڈسٹرکٹ کام)کمشنر آف پولیس نظام آباد مسٹر کارتیکیا نے آج پولیس ہیڈ کوآرٹر پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے ضلع میں امن و امان کی برقراری کیلئے پولیس محکمہ کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات اور جرائم کی روک تھام کیلئے کئے گئے اقدامات اور ضلع میں پیش آئے واقعات کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے بتایا کہ سال 2015ء کی نسبت سے اس سال میں جرائم کے واقعات میں قابل لحاظ کمی واقع ہوئی ہے انہوں نے کہا کہ سال 2014ء میں قتل کی 57 وارداتیں پیش آئی تھی اور 2015ء میں 63 اور 2016ء میں صرف 37 وارداتیں پیش آئی ۔ اسی طرح اقدام قتل کے 2014ء میں 32 ، 2015ء میں 25 اور 2016ء میں 28 وارداتیں پیش آئی ۔ انسانی قتل سے متعلق 2014ء میں 5واقعات ، 2015ء میں 9 واقعات اور 2016ء میں صرف 5واقعات پیش آئے۔ فسادات سے متعلق 2014ء میں 30 ، 2015ء میں 18 اور 2016 ء میں صرف 6 واقعات پیش آئے ہیں ۔ اغواء سے متعلق تفصیلات پیش کرتے ہوئے کہا کہ 2014ء میں 37 ، 2015ء میں 10 اور 2016ء میں 16 واقعات پیش آئے ہیں ۔ عصمت ریزی سے متعلق 2014ء میں 25 ، 2015ء میں 29 اور 2016ء میں 26واقعات پیش آئے ۔ حادثات میں زخمی ہونے کے 2014ء میں 464 ، 2015ء میں 491اور 2016ء میں 492 واقعات پیش آئے ہیں ۔ اس طرح 2015ء میں جملہ 645 واقعات پیش آئے تھے ، 2016ء میں 610 واقعات پیش آئے ۔ مسٹر کارتیکیا نے بتایا کہ سال 2015ء کا اس سال سے تقابل کیا گیا تو 41.3% فیصد قتل کے کیسوں میںکمی واقع ہوئی ہے ۔ فسادات سے متعلق 66.6 فیصد کمی واقع ہوئی ہے ۔جسمانی اذیتوں کے واقعات میں 35 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرڈر فار گین (فوائد کیلئے قتل ) کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سال 2014ء میں 13 واقعات، 2015ء میں 4واقعات اور 2016 ء میں 6واقعات پیش آئے ہیں ۔ ڈاکہ زنی کے 2014ء میں 3واقعات، 2015ء میں 3اور 2016ء میں ایک بھی واقعہ پیش نہیں آیا۔ لوٹ کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سال2014ء میں 17 ، 2015ء میں 12 اور 2016ء میں 12 واقعات پیش آئے ہیں ۔ قفل شکنی دن میں سال 2014ء میں 49 ، 2015ء میں 28 اور 2016ء میں 27 اور قفل شکنی رات کے اوقات میں سال2014ء میں 240 ، 2015ء میں 228 اور 2016ء میں 191 واقعات پیش آئے ہیں ۔ خواتین کے گلوں سے چین چھیننے کے واقعات 2014ء میں 99 ،2015ء میں 28 اور 2016ء میں 52 واقعات پیش آئے ہیں ۔ برقی ٹرانسفارمرس سے کالس کے سرقہ کی 2014ء میں 31، 2015ء میں 23 اور 2016ء میں 30 ،آٹو موبائیلس کے سرقہ کی 2014ء میں 201، 2015ء میں 237 اور 2016ء میں 177 و دیگر سرقہ کی وارداتوں 2014ء میں 170 ، 2015ء میں 204 اور 2016 ء میں 165 ۔ اس طرح جملہ سال 2014ء میں 823 ، 2015ء میں 822 اور 2016ء میں 660 واقعات پیش آئے ہیں۔ پولیس کمشنر نے بتایا کہ مسروقہ اشیاء کی برآمد 2014ء میں 3,38,18,207/- روپئے کا سرقہ اور برآمد 1,51,54,907/- روپئے اور 41.16 فیصد برآمد ۔ 2015ء میں 3,39,60,039/- روپئے کا سرقہ اور برآمد 1,80,60,645/- اور 53.18فیصد برآمد اور 2016ء میں 1,95,77,759 روپئے کا سرقہ ، برآمد 87,34,596 روپئے ، 44.61 فیصد برآمد ۔ سڑک حادثات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مہلک اور غیر مہلک واقعات 2014ء میں349 مقدمات درج 375افراد کی موت واقع ہوئی اور 647 غیر مہلک مقدمات 815افرادزخمی ۔ 2015ء میں 312مقدمات ، 334 ہلاک ،غیر مہلک سے متعلق 706 مقدمات ، 1076 زخمی ۔ 2016ء میں 261 ہلاک کے مقدمات ، 280 ہلاکتیں اور غیر مہلک کے مقدمات 559 اور 802 زخمی ۔ سفید پوش جرائم سے متعلق ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 2014ء میں چاٹنگ کے 211، 2015ء میں 160 اور 2016ء میں 171 ، سی بی ٹرسٹ کے 2014ء میں 18، 2015ء میں20 ، 2016ء میں 19 ۔ سی ایف کرنسی 2014ء میں 2، 2015ء میں صفر اور 2016ء میں صفر اس طرح جملہ 190 سال بھر میں واقعات پیش آئے ہیں ۔ خواتین سے متعلق جرائم کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ 2014ء میں جہیز کی اموات 13 ، 2015ء میں 7 اور 2016ء میں 8 ، جہیز کیلئے ہراساں اور 498A IPC کے 2014ء میں 415ء ،2015ء میں 305اور 2016ء میں 239 واقعات پیش آئے ہیں۔ چھیڑ چھاڑ سے متعلق 2014ء میں 88 ، 2015ء میں 79اور 2016ء میں 72، چھیڑ چھاڑ کے 2014ء میں 90 ، 2015ء میں 74 اور 2016ء میں 85 ،خواتین کے خلاف جرائم کے واقعات 2014ء میں 606، 2015ء میں 465 اور 2016ء میں 843 جملہ سال 2015ء میں 1554 اور سال 2016ء میں 1247 واقعات پیش آئے ہیں۔ موٹر وہیکل ایکٹ کے تحت سال 2014ء میں 97190 مقدمات درج کرتے ہوئے 1,03,61,020/- روپئے کے جرمانے عائد کئے گئے ۔ 2015ء میں 103349 مقدمات اور 1,33,46,050/- روپئے کے جرمانے عائد کئے گئے اور 2016ء میں 123105 مقدمات اور 1,64,66,100/- روپئے کے جرمانے عائد کئے گئے ہیں۔ قمار بازی سے متعلق سال 2016ء میں 54,43,385 روپئے کے جرمانے عائد کئے گئے۔ ایس سی ، ایس ٹی سے متعلق سال 2016ء میں 34مقدمات درج کئے گئے ۔ تلاش گمشدہ کے 88 ، 18سال سے کم عمر کے اطفال کی تلاش گمشدہ کے 21واقعات پیش آئے ہیں۔ خودکشی کے 332 ، خاندانی جھگڑوں سے متعلق 159 مقدمات درج کئے گئے ۔سڑک چھاپ اطفال سے متعلق باز آبادکاری کے 137 ، ڈائیل یوور کمشنر کے جملہ 342 کالس وصول ہوئے ۔ 285 کالس کی یکسوئی کی گئی اور 57 زیر التواء ہے ۔ ڈائیل 100 کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک سال میں 28,530 کالس موصول ہوئے ۔خواتین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے واقعات پر قابو پانے کیلئے شی ٹیمس کا قیام عمل میں لایا گیا جس میں 361افراد کو تحویل میں لیتے ہوئے 335  افراد کو عدالت میں پیش کیا گیا اور 126افراد کی کونسلنگ کی گئی ۔ ہریتا ہرم کے تحت محکمہ پولیس کی جانب سے اسکول اور پولیس و دفاتر ، دیہاتوں میں 2.40لاکھ پودوں کی شجرکاری کی گئی ۔ نوٹ بندی کے بعد محکمہ پولیس کی جانب سے اقدامات کئے گئے ۔ پولیس کمشنر مسٹر کارتیکیا نے 2017 ء کی منصوبہ بندی کرتے ہوئے بہتر سے بہتر سہولتیں فراہم کرتے ہوئے امن و ضبط کی برقراری کیلئے اقدامات کرنے اور پولیس اسٹیشن سطح پر جائزہ لیتے ہوئے درخواست گذاروں کے ساتھ انصاف اور خواتین کے چھیڑ چھاڑ کے واقعات میں کمی و دیگر اقدامات کرنے کا ذکر کیا ۔

TOPPOPULARRECENT