Thursday , December 14 2017
Home / ہندوستان / مخالفین کو قتل کرنے کا رجحان خطرناک : ہائیکورٹ

مخالفین کو قتل کرنے کا رجحان خطرناک : ہائیکورٹ

ممبئی۔ 12 اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) بامبے ہائیکورٹ نے آج اپنے تبصرہ میں کہا کہ ایک خطرناک رجحان تمام اپوزیشن کو اور فراخدلانہ اقدار کو ختم کرنے کا پیدا ہوگیا ہے۔ واضح طور پر اس کا اظہار بنگلورو میں صحافی گوری لنکیش کے قتل سے ہوتا ہے۔ جسٹس ایس سی دھرما ادھیکاری اور جسٹس بھارتی ڈانگرے پر مشتمل بینچ نے ایک درخواست کی سماعت کے دوران یہ تبصرہ کیا جس میں عدالت سے گذارش کی گئی تھی کہ معقولیت کے علمبردار گووند پنسارے اور نریندر ڈابھولکر کے قتل کی تحقیقات کی نگرانی کرے۔ عدالت نے کہا کہ فراخدل اقدار اور انداز فکر کی کوئی قدر نہیں ہے اور فراخدلانہ اصولوں کو دن بہ دن زیادہ تعداد میں نشانہ بنا رہے ہیں۔ نہ صرف مفکرین بلکہ کسی بھی شخص کو جس کی تنظیم فراخدلانہ اصولوں میں یقین رکھتی ہے، نشانہ بن سکتی ہے بشرطیکہ یہ میری مخالفت میں ہو اور میں کسی بھی شخص کو ختم کرسکتا ہوں۔ ہلاکتوں کا یہ رجحان جس میں تمام مخالفتوں کو ختم کیا جارہا ہے، خطرناک ہے۔ یہ ملک کو ایک نئی ساکھ دیتا ہے۔ بینچ نے نوٹ کیا کہ سی بی آئی اور مہاراشٹرا جرائم محکمہ تحقیقات نے اپنی تحقیقاتی رپورٹس جو دابھولکر اور پنسارے کے قتل کے متعلق ہیں، داخل کردی ہیں۔ تحقیقاتی اداروں کی کوششیں حقیقی ہیں لیکن یہ حقیقت برقرار رہتی ہے کہ اہم ملزمین اب بھی فرار ہیں اور ہر مقدمہ کی سماعت کے ہر التواء کے دوران ایک اور قیمتی جان ضائع ہورہی ہے۔ زندگی ختم ہورہی ہے ۔ گزشتہ ماہ جبکہ ہم ایک بدبختانہ حادثہ کی تحقیقات کررہے تھے، ایک وسیع النظر ہم خیال شخص کو بنگلورو کو ہلاک کردیا گیا۔ اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ مزید افراد کو جن کے عقائد اور اصول اس کے ہم آہنگ ہوں ، مستقبل میں ختم نہیں کئے جائیں گے

Top Stories

TOPPOPULARRECENT