Saturday , November 25 2017
Home / Top Stories / مخالف اسلام تبصروں پر صدر ہندو مہاسبھا تیواری گرفتار

مخالف اسلام تبصروں پر صدر ہندو مہاسبھا تیواری گرفتار

دیوبند /4 دسمبر (سیاست ڈاٹ کام) اتر پردیش میں ہندو مہاسبھا کے کارگزار صدر کملیش تیواری کو گرفتار کرلیا گیا ہے، کیونکہ ان کے حوالے سے مقامی میڈیا میں مخالف اسلام تبصرے سامنے آئے ہیں۔ مسلمانوں نے ان متنازعہ بیانات کے دو روز بعد بھی یو پی کے کئی اضلاع میں غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے احتجاجی جلوس نکالے۔ دیوبند میں پولیس کے ساتھ ہجوم کی جھڑپ بھی ہوئی، کیونکہ لوگ قومی شاہراہ پر راستہ روک رہے تھے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ تیواری کے خلاف ان کے ریمارکس کی پاداش میں کارروائی کی جائے۔ ہجوم اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے دوران ایک پولیس عہدہ دار زخمی ہوا۔ نظم و نسق کو عوام کو منانے میں کافی دقت پیش آئی، جو تیواری کے خلاف کارروائی کے اپنے مطالبہ پر مصر تھے۔ دیوبند میں سیکڑوں مسلمانوں نے احتجاج کیا۔ ان کے ساتھ دارالعلوم دیوبند کے طلبہ بھی شامل ہو گئے۔ صدر نشین میونسپل بورڈ دیوبند معاویہ علی نے صورت حال کو بھڑکنے سے روکے رکھا اور احتجاجیوں کو دارالعلوم چوک تک محدود رکھنے میں کامیاب ہوئے۔ کئی اضلاع بشمول میرٹھ، بجنور اور شاملی میں تیواری کے اہانت آمیز تبصروں کے خلاف سڑکوں پر سیکڑوں مسلمانوں کو احتجاج کرتے دیکھا گیا۔ آج جمعہ کے موقع پر جمعیت شباب الاسلام کے مغربی یوپی یونٹ کے جنرل سکریٹری انوارالحق نے 51 لاکھ روپئے کے انعام کا اس شخص کے لئے اعلان کیا، جو تیواری کا سر لائے گا۔ انھوں نے کہا کہ ضلع کے تمام علماء کے اتفاق رائے سے تیواری کے لئے سزائے موت کا مطالبہ کیا گیا ہے، کیونکہ وہ پیغمبر اسلامﷺ کی شان میں گستاخی کا مرتکب ہوا ہے اور اگر حکومت ایسا کرنے میں ناکام ہوجائے تو ہم خود یہ کام کرگزریں گے۔ دریں اثناء لکھنؤ پولیس نے کملیش تیواری کو حضرت محمدﷺ کے خلاف مبینہ اہانت آمیز ریمارکس کے پاداش میں گرفتار کرلیا۔

TOPPOPULARRECENT