Monday , November 19 2018
Home / Top Stories / مخالف بی جے پی محاذ کیلئے 22 نومبر کو دہلی میں اجلاس

مخالف بی جے پی محاذ کیلئے 22 نومبر کو دہلی میں اجلاس

جو جماعتیں ہمارے ساتھ نہیں ‘وہ بی جے پی کے ساتھ ہیں۔ چندرا بابو نائیڈو

امراوتی 10 نومبر ( پی ٹی آئی ) مخالف بی جے پی پارٹیوں کا 22 نومبر کو نئی دہلی میں اجلاس منعقد ہوگا جس میں مستقبل کے لائحہ عمل کا تعین کرنے ایک مشترکہ پلیٹ فارم تیار کرنے پر غور کیا جائیگا ۔ صدر تلگودیشم پارٹی و چیف منسٹر آندھرا پردیش این چندرا بابو نائیڈو نے یہ بات بتائی ۔ کانگریس جنرل سکریٹری اشوک گہلوٹ کے ساتھ ملاقات کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نائیڈو نے یہ بات کہی ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی سے مقابلہ کرنے کیلئے ہر ایک کو ساتھ ملانے کیلئے جدوجہد کی جا رہی ہے ۔ اشوک گہلوٹ نے کانگریس صدر راہول گاندھی کے قاصد کی حیثیت سے نائیڈو سے امراوتی میں ان کی قیامگاہ پر ملاقات کی ۔ چندرا بابو نائیڈو نے کہا کہ وہ 19 یا 20 نومبر کو چیف منسٹر مغربی بنگال ممتابنرجی سے ملاقات کرینگے ۔ نائیڈو نے کہا کہ یہ ایک وسیع تر مخالف بی جے پی پلیٹ فارم ہے ۔ یہ قوم کے مفاد میں ہے ۔ اس کا مقصد جمہوریت کو بچانا‘ قوم کو بچانا اور قومی اداروں کو بچانا ہے اور یہی ہمارا ایجنڈہ ہے ۔ یہی قوم کا ایجنڈہ ہے اور یہی سب سے اہم ایجنڈہ ہے ۔ تلگودیشم سربراہ نے حال ہی میں سابق وزیر اعظم ایچ ڈی دیوے گوڑا اور چیف منسٹر کرناٹک ایچ ڈی کمارا سوامی سے ملاقات کی تھی ۔ اس کے علاوہ انہوں نے ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کے اسٹالن سے بھی بی جے پی مخالف محاذ کی تشکیل کی کوششوں کے سلسلہ میں ملاقات کی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہر کسی کو مطمئن کرچکے ہیں ۔ ہر کوئی ہم سے تعاون کرنے کیلئے تیار ہے ۔ اس تجربہ میں کانگریس اصل اپوزیشن جماعت ہے اور ا س کی زیادہ ذمہ داری ہے ۔ ہمیںاس بات کا اعتراف کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دہلی میں ہونے والے اجلاس میں فیصلہ کیا جائیگا کہ مستقبل کا لائحہ عمل کیا ہونا چاہئے ۔ نائیڈو نے کہا کہ وہ اس سلسلہ میں پہلے ہی راہول گاندھی ‘ شرد پوار ‘ فاروق عبداللہ و دیگر سے ملاقاتیں کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو فیصلہ کرنا چاہئے کہ وہ کس کے ساتھ ہیں۔ اگر وہ ہمارے ساتھ نہیں ہیں تو پھر وہ بی جے پی کے ساتھ ہیں۔ اب ملک میں صرف دو پلیٹ فارم ہیں۔ ایک بی جے پی کا پلیٹ فارم اور دوسرا مخالف بی جے پی پلیٹ فارم ۔ تمام جماعتوں کو اس پر موقف اختیار کرنا چاہئے ۔

TOPPOPULARRECENT