Thursday , September 20 2018
Home / شہر کی خبریں / مخالف تلنگانہ قائدین کی چیف منسٹر کے پاس اہمیت

مخالف تلنگانہ قائدین کی چیف منسٹر کے پاس اہمیت

وزیر داخلہ کے بیان کے بعد ایم ایل اے محبوب نگر نے آواز بلند کی
حیدرآباد ۔ 12 ۔ جنوری : ( سیاست نیوز) : حکمران ٹی آر ایس میں اختلافات گروپ بندیاں ناراضگیاں اچانک منظر عام پر آرہی ہیں خود پارٹی کے قائدین حکومت اور پارٹی قیادت کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں ۔ وزیر داخلہ این نرسمہا ریڈی نے کہا کہ چیف منسٹر کے سی آر کے خلاف نازیبا ریمارکس کرنے والے اور تلنگانہ تحریک کی مخالفت کرنے والوں کو کابینہ میں شامل کرتے ہوئے انہیں اہم قلمدان سونپے گئے ہیں ۔ بشیر باغ پریس کلب میں 1969 تلنگانہ تحریک کے مجاہدین کی جانب سے تیار کردہ سال 2018 کیلنڈر کا رسم اجراء کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے یہ سنسنی خیز ریمارکس کیا ہے ۔ یہی نہیں انہوں نے کانگریس کے سابق چیف منسٹر ایم چنا ریڈی کو مرد مجاہد قرار دیا ۔ ان کی جانب سے تحریک کو نقصان پہونچانے کے الزامات کو مسترد کردیا ۔ اسمبلی حلقہ محبوب نگر کی نمائندگی کرنے والے ٹی آر ایس کے رکن اسمبلی سرینواس گوڑ نے بھی وزیر داخلہ این نرسمہا ریڈی کے پیش کردہ موقف کی بھر پور تائید کرتے ہوئے کہا کہ جب بھی مخالفین تلنگانہ کو کابینہ میں دیکھتے ہیں ان کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوجاتے ہیں ۔ وزیر داخلہ نے اسمبلی کونسل کے علاوہ کارپوریشن و بورڈ کے اہم عہدوں پر مخالفین تلنگانہ یا تلنگانہ تحریک میں حصہ نہ لینے والوں کو اہمیت دینے پر افسوس کا اظہار کیا ہے ۔ تلنگانہ میں ٹی آر ایس اپنی زمین کھو رہی ہے ۔ ٹی آر ایس کے سروے میں اس کا انکشاف ہوچکا ہے ۔ دوسری جماعتوں سے پارٹی میں شامل ہونے والے 25 ارکان اسمبلی میں بیشتر ارکان اسمبلی کو خود ٹی آر ایس کے کیڈر نے قبول نہیں کیا ہے ۔ اس کے علاوہ دوسری جماعتوں سے ٹی آر ایس میں شامل ہونے والے قائدین کو سرکاری و تنظیمی عہدے دینے پر ٹی آر ایس کے حقیقی قائدین اور سرگرم کارکنوں میں ناراضگی پائی جاتی ہے ۔ ٹی آر ایس کے قائدین اپنے جذبات کو دل میں چھپائے ہوئے تھے ۔ تاہم وزیر داخلہ نے جیسے ہی اپنی بھڑاس نکالی ہے ۔ ایک دن کی بھی دیری کرے بغیر رکن اسمبلی سرینواس گوڑ نے اس کی تائید کردی ہے ۔ بعد میں دونوں قائدین نے اپنی بات کو سنبھالنے کی کوشش کی ہے مگر اس وقت تک تیر کمان سے نکل چکا تھا ۔ ٹی آر ایس میں سب کچھ ٹھیک نہیں چل رہا ہے ۔ ابتداء سے پارٹی پرچم اٹھانے والوں کو اقتدار حاصل ہوتے ہی پارٹی قیادت کی جانب سے نظر انداز کرنے کی شکایت پائی جاتی ہے ۔ بھلے ہی چیف منسٹر کے سی آر اپوزیشن سے انتخابات میں نمٹنے کے لیے اپنی حکمت عملی تیار کررہے ہوں گے جب پارٹی میں ہی اختلافات ، گروپ بندیاں اور ناراضگیاں ہیں تو یہی چیف منسٹر و پارٹی سربراہ کے سی آر کے لیے بہت بڑا چیلنج ہے ۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ ٹی آر ایس کے کئی قائدین بشمول ارکان اسمبلی کانگریس اور بی جے پی سے رابطہ بنائے ہوئے ہیں ۔ اگر انہیں ٹکٹ سے محروم کیا جاتا ہے تو وہ اپنے حامیوں کے ساتھ ان دونوں میں کسی ایک جماعت میں شامل ہونے کی تیاریاں کررہے ہیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT