Thursday , September 20 2018
Home / ہندوستان / مخالف سکھ فساد کے 186 کیسوں کی جانچ کیلئے نئی ایس آئی ٹی

مخالف سکھ فساد کے 186 کیسوں کی جانچ کیلئے نئی ایس آئی ٹی

سوپروائزری پیانل رپورٹ پر سپریم کورٹ کا اقدام، مرکز سے مجوزہ کمیٹی کے لیے ناموں کو تجویز کرنے کی خواہش
نئی دہلی۔10 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے آج کہا کہ وہ ایک نئی سہ رکنی ایس آئی ٹی تشکیل دے گی جس کی سربراہی ہائی کورٹ کے سابق جج کریں گے اور یہ کمیٹی مخالف سکھ فساد کے 186 مقدمات کی تحقیقات کی نگرانی کرے گی، جو 1984ء میں اس وقت کی وزیراعظم اندرا گاندھی کے قتل کے بعد پیش آئے۔ ان مقدمات میں تحقیقات کو بند کردیا گیا تھا۔ چیف جسٹس دیپک مصرا کی زیر قیادت بنچ نے مرکز سے کہا کہ مجوزہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) میں تقرر کے لیے وہی ناموں کو تجویز کرے۔ سپریم کورٹ بنچ نے جس میں جسٹس اے ایم کھانولکر اور جسٹس ڈی وائی چندرچور بھی شامل ہیں، کہا کہ مجوزہ کمیٹی کی قیادت سابق ہائی کورٹ جج کریں گے اور یہ ایک ریٹائرڈ اور ایک برسر خدمت پولیس آفیسر پر مشتمل ہوگی۔ عدالت نے یہ بھی واضح کردیا کہ ریٹائرڈ پولیس آفیسر کا رتبہ سبکدوشی کے وقت ڈی آئی جی سے کمتر نہیں ہونا چاہئے۔ فاضل عدالت نے کہا کہ اس کے مقررہ نگرانکار ادارے نے پایا ہے کہ 241 کیسوں میں سے 186 مقدمات تحقیقات کے بغیر بند کردیئے گئے۔

عدالت نے آج اس ادارے کی رپورٹ کی جانچ کی جسے ایک لیدر باکس میں نمبر لاک سسٹم کے ساتھ عدالت کے روبرو پیش کیا گیا۔ یہ ادارہ جس نے قطعی رپورٹ پیش کی، فاضل عدالت کے سابق ججوں جسٹس جے ایم پانچل اور جسٹس کے ایس پی رادھا کرشنن پر مشتمل رہا۔ گزشتہ سال 16 اگست کو فاضل عدالت نے سوپروائزری پیانل مقرر کیا تھا کہ 1984ء کے مخالف سکھ فسادات سے متعلق معاملہ کے 241 کیسوں کو بند کردینے کے ایس آئی ٹی فیصلے کا جائزہ لیا جائے اور اسے تین ماہ میں رپورٹ پیش کی جائے۔ مرکز نے قبل ازیں کہا تھا کہ 250 کیسوں میں سے جن کی انکوائری ایس آئی ٹی نے کی، مقدمات کو بند کردینے کی رپورٹس 241 مقدمات میں داخل کیے گئے۔ اس نے کہا تھا کہ ہنوز 9 مقدمات کی ایس آئی ٹی تحقیقات کررہی ہے جبکہ دو کی جانچ سنٹرل بیورو آف انوسٹی گیشن کررہا ہے۔ سپریم کورٹ نے 24 مارچ 2017ء کو مرکز سے کہا تھا کہ ان فسادات سے متعلق 199 کیسوں کے بارے میں فائیلیں اس کے روبرو پیش کی جائیں جن کو وزارت داخلہ کی تشکیل کردہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم نے بند کردینے کا فیصلہ کیا۔ 1986ء بیاچ کے آئی پی ایس آفیسر پرمود استھانہ کی قیادت میں ایس آئی ٹی نے کام کیا اور اس کے اراکین میں ریٹائرڈ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راکیش کپور اور دہلی پولیس کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کمار گیانیش شامل رہے۔ اس وقت کی وزیراعظم اندرا گاندھی کے قتل کے بعد پیش آئے مخالف سکھ فسادات میں صرف دہلی میں 2733 جانیں تلف ہوئی تھیں۔ حکومت نے قبل ازیں ان کیسوں میں ایس آئی ٹی کی جانب سے کی گئی تحقیقات کے بارے میں موقف پر مبنی رپورٹ داخل کی تھی۔ درخواست گزار گرلاد سنگھ کہلون نے بنچ کو بتایا تھا کہ سہ رکن ایس آئی ٹی نے فساد سے متعلق جملہ 293 کیسوں کی تنقیح کی اور اس نے تنقیح کے بعد ان میں سے 199 کو بند کردینے کا فیصلہ کیا تھا۔ کہلون رکن دہلی سکھ گردوارا مینجمنٹ کمیٹی ہے۔

TOPPOPULARRECENT