مخالف عسکریت پسندی کارروائی میں شدت کا تیقن

بیجنگ۔22مئی ( سیاست ڈاٹ کام ) پاکستان نے آج تیقن دیا کہ علحدگی پسند اسلامی عسکریت پسندوں کے گروپ ’’ مشرقی ترکستان فورس‘‘ کے خلاف کارروائی میں شدت پیدا کردے گا ۔ کیونکہ چین کے گڑبڑزدہ صوبہ ژن جیانگ میں بم دھماکوں سے کم ام کم 31افراد ہلاک ہوچکے ہیں ۔ صدر پاکستان ممنون حسین نے صدر چین جی ژن پنگ سے آج شنگھائی میں ملاقات کی اور عہد کیا کہ

بیجنگ۔22مئی ( سیاست ڈاٹ کام ) پاکستان نے آج تیقن دیا کہ علحدگی پسند اسلامی عسکریت پسندوں کے گروپ ’’ مشرقی ترکستان فورس‘‘ کے خلاف کارروائی میں شدت پیدا کردے گا ۔ کیونکہ چین کے گڑبڑزدہ صوبہ ژن جیانگ میں بم دھماکوں سے کم ام کم 31افراد ہلاک ہوچکے ہیں ۔ صدر پاکستان ممنون حسین نے صدر چین جی ژن پنگ سے آج شنگھائی میں ملاقات کی اور عہد کیا کہ چین کے ساتھ دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں مشترکہ کوشش کی جائے گی۔ مشرقی ترکستان دہشت گرد فورس دونوں ممالک کا مشترکہ دشمن ہے۔ سرکاری خبر رساں ادارہ جن ہوا کی اطلاع کے بموجب ان کا یہ تبصرہ 31افراد کی ہلاکت اور دیگر 90کے زخمی ہوجانے کے بعد منظر عام پر آیا ۔

شہر ارومقی میں کئی بم دھماکوں میں یہ ہلاکت واقع ہوئی تھیں ۔ پاکستان زیر قبضہ کشمیر کی سرحد سے متصل ژن جیانگ کے دارالحکومت اور افغانستان کی سرحد سے متصل علاقہ میں یہ حملہ کیا گیا تھا۔ چین اس کیلئے ترکستان اسلامی تحریک کو ذمہ دار قرار دیتا ہے جس نے ژن جیانگ میں تشدد برپا کررکھا ہے ۔یہاں کے متوطن ایغور مسلمان ہیں جو ہن چینی برادری کی نوآبادیوں کے سلسلہ میں شورش برپا کررہے ہیں ۔ شمالی ترکستان فورس کے قائدین کو پاکستان کے قبائلی علاقوں سے کنٹرول کیا جاتا ہے ۔ اُن کا تذکرہ چینی اور پاکستانی قائدین کے اجلاس میں کیا گیا ۔ ژی اور ممنون حسین نے اتفاق کیا کہ انسداد دہشت گردی کی کوشش میں تعاون میں اضافہ کیا جائے گا ۔ صدر پاکستان چوتھی چوٹی کانفرنس برائے تبادلہ خیال و بحالی اعتماد اقدامات برائے ایشیاء میں شرکت کیلئے شنگھائی کے دورہ پر ہیں ۔ دونوں قائدین نے ایک معاہدہ پر بھی دستخط کئے ۔ جس کا مقصد چینی امداد سے لاہور سریع الحرکت عوامی نظام حمل و نقل کی تعمیر ہے ۔ دونوں قائدین کی ملاقات میں صدر چین نے کہا کہ چین انسداد دہشت گردی حکمت عملی میں پاکستان کی تائید کرتا ہے اور باہمی صیانتی تعاون کیلئے تیار ہے

جس کے ذریعہ دونوں ممالک میں امن و استحکام کو یقینی بنایا جاسکے گا۔ ممنون حسین نے صدر چین کو تیقن دیا کہ پاکستان چینی شہریوں کے اور ملک کے پراجکٹس کے تحفظ کو یقینی بنانے مؤثر اقدامات کرے گا ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ۔چین دوستی پاکستانی خارجہ پالیسی کی بنیاد ہے ۔ پاکستان نے چین کی طویل مدتی تائید پر اس کی ستائش کی اور حکومت پر زور دیا کہ صدر چین سے عوام کو توقع ہے کہ وہ عنقریب پاکستان کا دورہ کریں گے ۔ صدر چین نے پاکستان کے سرکاری دورہ کا تیقن دیتے ہوئے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ باہمی دفاعی تعاون کو ایک نئی سطح پر پہنچایا جائے ۔صدر ژی نے کہا کہ دونوں ممالک کا معاشی تعاون مشترکہ طور پر چین پاکستان معاشی راہداری کی تعمیر کو فروغ دینے میں مضمر ہے کیونکہ یہ شاہراہ ریشم معاشی پٹی اور 21ویں صدی کی بحری شاہراہ ریشم راہداری کی تعمیر کیلئے اہمیت رکھتی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT