Monday , June 18 2018
Home / شہر کی خبریں / مخالف مسلم تحفظات قانون داں کو تلنگانہ کا ایڈوکیٹ جنرل مقرر کرنے پر سخت اعتراض

مخالف مسلم تحفظات قانون داں کو تلنگانہ کا ایڈوکیٹ جنرل مقرر کرنے پر سخت اعتراض

کے سی آر تحفظات کی فراہمی میں غیر سنجیدہ، محمد علی شبیر ڈپٹی اپوزیشن لیڈر تلنگانہ تلنگانہ کونسل کا ردعمل

کے سی آر تحفظات کی فراہمی میں غیر سنجیدہ، محمد علی شبیر ڈپٹی اپوزیشن لیڈر تلنگانہ تلنگانہ کونسل کا ردعمل

حیدرآباد۔/22جون، ( سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز کونسل میں اپوزیشن کے ڈپٹی لیڈر محمد علی شبیر نے تلنگانہ حکومت کی جانب سے مخالف مسلم تحفظات قانون داں کو تلنگانہ کا ایڈوکیٹ جنرل مقرر کئے جانے پر سخت اعتراض کیا ہے۔ حکومت کے اس تقرر پر تبصرہ کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہا کہ ایڈوکیٹ جنرل کی حیثیت سے کے رام کرشنا ریڈی کے تقرر سے تحفظات کے مسئلہ پر حکومت کی پالیسی بے نقاب ہوجاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس دور حکومت میں مسلمانوں کو تحفظات کی فراہمی کے خلاف رام کرشنا ریڈی عدالت سے رجوع ہوئے تھے اور انہوں نے نہ صرف ہائی کورٹ بلکہ سپریم کورٹ میں بھی مسلم تحفظات کی مخالفت میں بحث کی۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ اب جبکہ تحفظات کا مسئلہ سپریم کورٹ میں زیر دوران ہے اور رام کرشنا ریڈی مخالف تحفظات درخواست گذاروں کے وکیل کی حیثیت سے برقرار ہیں انہیں کس طرح چندر شیکھر راؤ تلنگانہ کا ایڈوکیٹ جنرل مقرر کرسکتے ہیں۔ انہوں نے چندر شیکھر راؤ سے مطالبہ کیا کہ وہ مسلم تحفظات کے مسئلہ پر اپنی پالیسی کی وضاحت کریں۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس نے انتخابی منشور میں درج فہرست اقوام اور مسلمانوں کو 12فیصد تحفظات کی فراہمی کا وعدہ کیا۔ چیف منسٹر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد چندر شیکھر راؤ نے اس وعدہ کا نہ صرف اعادہ کیا بلکہ اسمبلی میں اعلان کیا کہ اس سلسلہ میں جلد ریٹائرڈ جج پر مشتمل کمیشن قائم کیا جائے گا اور اس سے رپورٹ حاصل کرتے ہوئے 12فیصد تحفظات کی قانون سازی کی جائے گی۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ مخالف تحفظات نظریات رکھنے والے قانون داں کو ایڈوکیٹ جنرل کے عہدہ پر فائز رکھتے ہوئے حکومت کس طرح تحفظات کی فراہمی کو یقینی بنا سکتی ہے۔ اگر کمیشن کے قیام کے سلسلہ میں بھی ایڈوکیٹ جنرل سے مشاورت کی گئی تو ہوسکتا ہے کہ ان کی رائے تحفظات کی مخالفت میں ہو۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت تحفظات کی فراہمی کے سلسلہ میں سنجیدہ نہیں ہے اسی لئے مخالف تحفظات وکیل کو حکومت کا ایڈوکیٹ جنرل مقرر کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر نے کُل جماعتی اجلاس کی طلبی کا وعدہ کیا تھا لیکن ابھی تک اجلاس طلب نہیں کیا گیا حالانکہ آئندہ ہفتہ سے میڈیکل و انجینئرنگ کی کونسلنگ کا آغاز ہوجائے گا۔ حکومت نے یہ بھی واضح کردیا کہ جاریہ تعلیمی سال اقلیتوں کو 12فیصد تحفظات نہیں مل پائیں گے، لیکن رام کرشنا ریڈی کے تقرر سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ 4فیصد تحفظات پر عمل آوری بھی خطرہ میں پڑ جائے گی۔ محمد علی شبیر نے سابق وزیر اعظم پی وی نرسمہا راؤ کی جینتی تقاریب تلنگانہ حکومت کی جانب سے شاندار پیمانہ پر منعقد کرنے کے فیصلہ پر بھی تنقید کی اور کہا کہ چندر شیکھر راؤ حکومت کا یہ فیصلہ اقلیتوں کے جذبات کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔اگر ٹی آر ایس حکومت حقیقی معنوں میں اقلیتوں کی ہمدرد ہے تو اسے اپنے دونوں فیصلوں سے فوری دستبرداری اختیار کرنی چاہیئے۔

TOPPOPULARRECENT