Sunday , August 19 2018
Home / دنیا / مختصر مدتی تصّرف بل سینیٹ میں مسترد، امریکہ میں شٹ ڈاؤن

مختصر مدتی تصّرف بل سینیٹ میں مسترد، امریکہ میں شٹ ڈاؤن

وفاقی حکومت کے تمام ادارے حسب معمول کُھلے رہیں گے تاہم تنخواہ نہیں ملے گی
1996 ء کا شٹ ڈاؤن 21 دن اور 2013 ء کا 16 دنوں تک جاری تھا
شٹ ڈاؤن کے باوجود صدر ٹرمپ ورلڈ اکنامک فورم میں شرکت کریں گے

واشنگٹن ۔ 20 جنوری ۔(سیاست ڈاٹ کام) گزشتہ پانچ سالوں میں پہلی بار سینیٹ کی جانب سے مختصر مدتی ’’اسپینڈنگ بل‘‘ (تصرف بل ) کو مسترد کئے جانے کے بعد امریکی حکومت کی سرگرمیاں عملاً ٹھپ پڑ گئی ۔ اسپینڈنگ بل کا مقصد وفاقی حکومت کی کارکردگی جاری رکھنا تھا ۔ اس طرح اب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی چار سالہ میعاد کا پہلا ایک سال افراتفری کے دوران اختتام پذیر ہوا ۔ تفصیلات کے مطابق امریکی حکومت ٹھپ پڑنے کا عمل ٹھیک دوپہر بارہ بجے (مقامی وقت ) اُس وقت شروع ہوا جب کچھ ری پبلکنس نے ڈیموکریٹس کے ساتھ شامل ہوکر پنٹگان اور دیگر وفاقی ایجنسیوں کیلئے مختصر مدتی فنڈس کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کردیں جس کیلئے صدر ٹرمپ نے بھی ڈیموکریٹس کو مورد الزام ٹھہرایا ہے جو دراصل اُن کے ( ٹرمپ) امریکہ کے 45 ویں صدر کی حیثیت سے حلف لینے کے پورے ایک سال بعد رونما ہوا ۔ ٹرمپ نے کہاکہ ڈیموکریٹس ٹیکس کٹوتی کی کامیابی کو دُھندلا کرنے کیلئے یہ بتانا چاہتے ہیں کہ دیکھو ہم ملک کی معیشت کے لئے کیا کررہے ہیں۔ آخری لمحات تک اجلاس کے انعقاد کا سلسلہ جاری رہا لیکن اس کے باوجود حکومت کو 16 فروری تک فنڈس فراہم کرنے والے بل کو درکار 60 ووٹس نہیں مل سکے ۔ سینیٹ نے 50-48 کے فرق سے فنڈنگ کے اقدامات کی راہ مسدود کردی ۔ یاد رہے کہ مختصر مدتی اسپینڈنگ بل کو ایوان نے جمعرات کے روز منظور کیا تھا ۔ یہ دراصل ڈیموکریٹس کی حکمت عملی ہے جس کے لئے صدر ٹرمپ اور ری پبلکنس پر دباؤ ڈالا جاسکے کہ غیرقانونی تارکین وطن کے موضوع پر اُن سے بات چیت کی جائے جنھیں اس وقت ملک بدر ہوجانے کا خطرہ لاحق ہے ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ دلچسپ ہوگا کہ امریکی حکومت کو ٹھپ پڑنے والی سرگرمیوں کااصل احساس پیر سے ہوگا جب وفاقی حکومت کے ملازمین اپنی ملازمتوں پر نہیں جاسکیں گے اور انھیں جبری طورپر بغیرتنخواہ کے اپنے اپنے گھروں میں ہی رہنے کی ہدایت دی جائے گی ۔ یہ بتایا جارہا ہے کہ ایسے ملازمین کی تعداد آٹھ لاکھ سے بھی متجاوز ہوچکی ہے ۔ صرف ’’انتہائی لازمی خدمات‘‘ جاری رہیں گی۔ امریکہ میں حکومت کی سرگرمیاں عملاً ٹھپ پڑجانے کاواقعہ قبل ازیں 2013 ء میں رونما ہوا تھا ۔ قبل ازیں آفس آف دی منیجمنٹ آف بجٹ کی جانب سے بھی ایک بیان جاری کیا گیا تھا جس میں کہا گیا تھاکہ وہ ’’شومرشٹ ڈاؤن‘‘ کے لئے پوری طرح تیار ہے ۔ مذکورہ آفس کے ڈائرکٹر ملک مُلوانی نے اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہاکہ یہ کوششیں کی جارہی ہیں کہ حکومت کی سرگرمیاں ٹھپ پڑجانے ( شٹ ڈاؤن) کے اثرات 2013 ء کے شٹ ڈاؤن کے اثرات سے کم ہوں ۔ ہم شٹ ڈاؤن کے ذریعہ عوام کو تکلیف پہنچانا نہیں چاہتے ۔ خصوصی طورپر ایسے لوگ جو اس وفاقی حکومت کے لئے خدمات انجام دیتے ہیں ۔ فوج اپنے فرائض انجام دے گی۔ سرحدوں پر حسب معمول فوجی گشت ہوگی ۔ آتش فرو عملہ اپنی ڈیوٹی انجام دے گا ، پارکس بڑوں اور بچوں کیلئے کُھلے رہیں گے لیکن ان تمام سرگرمیوں اور فرائض انجام دینے والوں کو اُن کی اُجرت ادا نہیں کی جائے گی ۔ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے ملوانی نے مزید کہا کہ پوسٹ آفسس کُھلے رہیں گے، فینی اور فریڈی بھی کھلے رہیں گے لیکن بات وہی ہے کہ اُنھیں یہ تمام کام بغیر تنخواہ کے کرنے پڑیں گے جو ایک انتہائی غیرواجبی بات ہے۔ 2013 ء میں حکومت کی سرگرمیاں ٹھپ پڑنے (شٹ ڈاؤن) کا سلسلہ 21 دنوں تک جاری رہا تھا تاہم موجودہ شٹ ڈاؤن کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ ایک ایسے وقت رونما ہوا ہے جب دونوں ایوان ، سینیٹ اور وائیٹ ہاؤس ایک ہی پارٹی کے کنٹرول میں ہیں۔ دوسری طرف یہ بھی کہا جارہا ہے کہ شٹ ڈاؤن کے باوجود امریکی صدر ٹرمپ سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈاؤس میں منعقد شدنی ورلڈ اکنامک فورم میں شرکت کریں گے ۔ ٹرمپ انتظامیہ کے ایک سینئر عہدیدار نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ ٹرمپ آئینی ذمہ داری نبھانے ڈاؤس کا دورہ کریں گے ۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے یہ بات کہی ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT