Monday , February 19 2018
Home / Top Stories / مختصر مدتی فنڈنگ بل پر ٹرمپ کے دستخط، شٹ ڈاؤن 8 فروری تک ٹل گیا

مختصر مدتی فنڈنگ بل پر ٹرمپ کے دستخط، شٹ ڈاؤن 8 فروری تک ٹل گیا

ٹرمپ ڈیموکریٹس کے ووٹ پر خوشی سے سرشار
عارضی وفاقی ملازمین نے سکون کی سانس لی
سینیٹ میں 81-18 اور ایوان میں 266-150
کے فرق سے منظوری

واشنگٹن ۔ 23 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) صدر ڈونالڈ ٹرمپ شاید یہ جانتے تھے کہ امریکہ میں شٹ ڈاؤن زیادہ دنوں تک چلایا نہیں جاسکتا کیونکہ یہ سوپرپاور ملک کے وقار کا سوال بن چکا تھا۔ آج انہوں نے مختصر مدتی حکومتی فنڈنگ بل پر دستخط کرتے ہوئے خود کو ایک فاتح قرار دیا جس سے نہ صرف تین روز سے جاری شٹ ڈاؤن ختم ہوجایء گا بلکہ غیریقینی کی کیفیت بھی ختم ہوجائے گی۔ یاد رہیکہ ڈیموکریٹس نے حکمراں ری پبلکنس کے ساتھ ایک سودا کرتے ہوئے امریکی معیشت کی بازکشادگی کیلئے ووٹس دیئے۔ سودے کے مطابق ایسے نوجوان تارکین وطن جن کے پاس امریکہ آنے کے کوئی دستاویزی ثبوت نہیں ہیں، ان کے مستقبل پر ایک مباحثہ منعقد کیا جائے گا۔ اس مختصر مدتی فنڈنگ کی آخری تاریخ 8 فروری ہے جب یہ اختتام پذیر ہوجائے گا جسے سینیٹ اور ایوان نے گذشتہ شب متفقہ طور پر منظور کیا جو دراصل اپوزیشن ڈیموکریٹس کو حکمراں ری پبلکنس کی جانب سے ہزاروں نام نہاد ’’ڈریمرس‘‘ جو امریکہ میں سہانے خواب لیکر غیرقانونی طور پر اس وقت لائے گئے جب وہ بچے تھے اور اب ان کے مستقبل کی بقاء کیلئے ری پبلکنس نے بالآخر وعدہ کر ہی لیا۔ تصرف بل نے سینیٹ میں 81-18 کے فرق سے منظوری حاصل کی جبکہ ایوان نمائندگان میں 266-150 کی نسبت سے منظور کیا گیا۔ اس منظوری کے بعد حکومت کو 8 فروری تک فنڈس ملنے کا سلسلہ جاری رہے گا اور 8 فروری سے قبل ہی ڈیموکریٹس اور ری پبلکنس کو ایک طویل مدتی حل کیلئے باہمی رضامندی کا اظہار کرنا پڑے گا کیونکہ یہ بلا ابھی عارضی طور پر ٹلی ہے، اس کا مستقل حل نکالا جانا ہنوز باقی ہے جو خصوصی طور پر حکومت فنڈنگ غیرقانونی تارکین وطن سے مربوط ہے۔ بہرحال، اس وقت ٹرمپ کی خوشیوں کا کوئی ٹھکانہ نہیں اور وہ پھولے نہیں سمارہے کیونکہ ڈیموکریٹس کے ساتھ ٹکراؤ کی صورتحال میں ٹرمپ کو فتح حاصل ہوئی ہے۔

ٹرمپ نے اپنی دستخط کے ذریعہ اس تاریخی اقدام کو قانون میں بدل دیا اور اس طرح اب حکومت کی تمام سرگرمیاں معمول کے مطابق شروع ہوجائیں گی۔ اس موقع پر ایسے ہزاروں عارضی وفاقی ملازمین جنہیں ہفتہ سے بغیر تنخواہ کے رخصت لینے پر مجبور کیا گیا تھا، انہوں نے تازہ ترین صورتحال پر سکون کی سانس لی ہے۔ ٹرمپ نے اس موقع پر ایک بیان دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس بات پر خوش ہیں کہ بالآخر کانگریس میں ڈیموکریٹس نے ہوش کے ناخن لئے اور اس بات کیلئے تیار ہوگئے ہیں کہ امریکہ کی عظیم فوج، سرحدی صیانت اور خطرات سے لاحق بچوں کے انشورنس کیلئے فنڈنگ کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ امیگریشن پر وہ ایک طویل مدتی معاہدہ اس وقت کریں گے جب انہیں (ٹرمپ) یہ محسوس ہوگا کہ یہ ملک کیلئے بہتر ہے اور حکومت کو فنڈس ملنے کے بعد مسائل کی یکسوئی کیلئے مناسب ہے۔ جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا ہیکہ جیسے ہی میری حکومت کو فنڈس حاصل ہوگئے تو میرا انتظامیہ غیرقانونی اور غیرمناسب امیگریشن سے پیدا ہوئے مسئلہ کی یکسوئی کی جانب کام کرنا شروع کردے گا۔ لہٰذا میں ایک بار پھر کہنا چاہتا ہوں کہ امیگریشن پر میں طویل مدتی معاہدہ صرف اور صرف اسی وقت کروں گا جب مجھے اس بات کا یقین ہوجائے کہ یہ ملک کیلئے بہتر ہے۔ دوسری طرف وائیٹ ہاؤس سے جاری بیان میں کہا گیا ہیکہ اگر ڈیموکریٹس کے ساتھ اختلافات پیدا ہوئے تو اس کے باوجود بھی بات چیت کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔ ہمیں امید ہیکہ آئندہ دو تین ہفتوں میں ہم یہ کارنامہ بھی کر دکھائیں گے۔ ہم جہاں ہیں وہیں رہنا چاہتے ہیں اور ڈیموکریٹس جہاں ہیں انہیں وہیں رکھا جائے گا۔ اپنی روزمرہ کی نیوز بریفنگ کے دوران وائیٹ ہاؤس پریس سکریٹری سارہ سینڈرس نے اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے یہ بات کہی۔ حکومت کے شٹ ڈاؤن کو ختم کرنے کیلئے ڈیموکریٹس نے جو ووٹ دیئے ہیں اس سے یہ معلوم ہوتا ہیکہ انہیں یہ احساس ہوگیا تھاکہ انہوں نے کیا موقف اختیار کیا ہے۔ انہیں سب سے پہلے امریکی فوج کی فنڈنگ کی جانب توجہ دینی تھی اور اس کے بعد سرحدی علاقوں کی صیانت اور CHIP پروگرام کے تحت بچوں کا تحفظ۔ یہ درجہ بندی اس لئے کی گئی ہیکہ اسی کے مطابق ترجیحات پر عمل کیا جائے۔ اگر کوئی بھوکا ہوتو اسے کھانا کھلایا جاتا ہے، پانی نہیں پلایا جاتا لہٰذا اب یہ بات انتہائی وثوق سے کہہ سکتی ہوں کہ اس سلسلہ میں ٹرمپ انتظامیہ کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔

TOPPOPULARRECENT