Friday , September 21 2018
Home / شہر کی خبریں / مختلف طبقات کے فلاحی اداروں کو ایک ادارہ کے تحت ضم کرنے کی تجویز

مختلف طبقات کے فلاحی اداروں کو ایک ادارہ کے تحت ضم کرنے کی تجویز

کارپوریشن کے انضمام پر چہارشنبہ کو قطعی فیصلہ ، مینجنگ ڈائرکٹرس کی کمیٹی کا اجلاس

کارپوریشن کے انضمام پر چہارشنبہ کو قطعی فیصلہ ، مینجنگ ڈائرکٹرس کی کمیٹی کا اجلاس
حیدرآباد ۔ 7 ۔ اپریل (سیاست نیوز) ریاست کی تقسیم کے بعد سرکاری اداروں کی تنظیم جدید کی سرگرمیوں کے تحت مختلف طبقات کے فلاحی اداروں کو ایک ادارہ کے تحت ضم کرنے کی تجویز کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جارہا ہے ۔ ایس سی ایس ٹی ، بی سی اور اقلیت کی بھلائی سے متعلق کارپوریشنوں کو محکمہ سماجی بھلائی کے تحت کرنے کی تجویز پہلے ہی اعلیٰ سطحی اجلاس میں پیش کی جاچکی ہے۔ اس بارے میں متعلقہ عہدیداروں کی رائے جاننے کیلئے ایس سی ، ایس ٹی ، بی سی اور اقلیت سے متعلق کارپوریشنوں کے مینجنگ ڈائرکٹرس پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ اس کمیٹی کے ٹیم لیڈر مسٹر جئے راج مینجنگ ڈائرکٹر آندھراپردیش ایس سی فینانس کارپوریشن ہیں جبکہ اقلیتی فینانس کارپوریشن کے مینجنگ ڈائرکٹر پروفیسر ایس اے شکور ، بی سی فینانس کارپوریشن کے مینجنگ ڈائرکٹر ملکارجن راؤ ، کرسچن فینانس کارپوریشن کے مینجنگ ڈائرکٹر نکولس اور ادتیہ نارائن بطور ارکان شامل ہیں۔ کمیٹی کا اجلاس آج سکریٹریٹ میں منعقد ہوا جس میں تمام کارپوریشنوں کو ایک ادارہ کے تحت ضم کرنے سے متعلق تجویز کا جائزہ لیا گیا ۔ اس کے علاوہ ہر ادارہ کی جانب سے عمل کی جارہی اسکیمات کو جاری رکھنے یا عمل آوری روک دینے کے بارے میں بھی عہدیداروں کی رائے حاصل کی گئی ۔ مختلف اداروں کے اکاؤنٹس کو باقاعدہ بنانے اور محکمہ سماجی بھلائی کی تنظیم جدید کے سلسلہ میں بھی عہدیداروں کی رائے حاصل کی گئی ۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن کے تحت تین اہم اسکیمات پر عمل کیا جارہا ہے جن میں ٹریننگ اینڈ ایمپلائمنٹ ، بینکوں سے مربوط سبسیڈی کی فراہمی اور مینجریل سبسیڈی اسکیم شامل ہے۔ نیشنل میناریٹی ڈیولپمنٹ فینانس کارپوریشن کی اسکیم سے متعلق قرض ادا کردیا گیا ہے لہذا اس اسکیم پر مزید عمل آوری کی ضرورت نہیں۔ پروفیسر ایس اے شکور نے اجلاس میں تجویز پیش کی کہ کارپوریشن کی جاریہ تینوں اسکیمات کو بہر صورت جاری رکھا جائے ۔ انہوں نے اقلیتی فینانس کارپوریشن کی علحدہ شناخت کی برقراری پر بھی زور دیا اور کہا کہ ایس سی ، ایس ٹی اور بی سی طبقات کے مقابلہ میں اقلیتوں کے مسائل علحدہ ہیں لہذا انہیں دیگر طبقات کے ساتھ منسلک نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے اقلیتی فینانس کارپوریشن کے تحت آئندہ مالیاتی سال سے بعض نئی اسکیمات کے آغاز کی سفارش کی جن میں کارپوریشن کو فوری طور پر 25000 روپئے تک کے قرض کی منظوری کا اختیار اور اقلیتی طلباء کو اعلیٰ تعلیم کے لئے اندرون و بیرون ملک قرض کی فراہمی جیسی اسکیمات شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی فینانس کارپوریشن کو دیگر کارپوریشنوں کے ساتھ ضم کرنے کے بجائے اسے اقلیتی بہبود کمشنریٹ کے تحت کیا جاسکتا ہے۔ ایس سی اور ایس ٹی کارپوریشن کے عہدیداروں نے بھی علحدہ شناخت کی برقراری کی تائید اور ان کے اداروں کو باہم ضم کئے جانے کی مخالفت کی ۔ اس سلسلہ میں قطعی فیصلہ کیلئے 9 اپریل کو پرنسپل سکریٹریز اور سکریٹریز کا اجلاس طلب کیا گیا ہے۔ اس اجلاس میں فلاحی سرگرمیوں سے متعلق کارپوریشنوں کے مستقبل کے بارے میں اہم فیصلے کئے جائیں گے۔

TOPPOPULARRECENT