Monday , November 20 2017
Home / اضلاع کی خبریں / مخلوق کو خالق سے جوڑنا صوفیاء کرام کا اہم مشن

مخلوق کو خالق سے جوڑنا صوفیاء کرام کا اہم مشن

بیدر 12مئی (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)حضرت سید عبدالقادر شاہ ولی گنج سوائی گنج بخش بادشاہ ناگوری ؒ کا 459واںسالانہ سہ روزہ عرس شریف و مرکزی جلسہ انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ درگاہ آستانہ قادریہ بگدل شریف میں پیران طریقت ڈاکٹر الحاج خلیفہ شاہ محمد ادریس احمد قادری بگدلی سجادہ نشین آستانہ قادریہ کی نگرانی میںتزک و احتشام کے ساتھ منا گیا۔ صندل کے دوسرے دن بعد نماز مغرب جشن چراغاں ، درس تصوف ، گلہائے عقیدت ، سلام و نیاز،فاتحہ تقسیم و تبرکات عمل میں آئے۔ بعد نماز عشاء سجادہ نشین کی نگرانی میں جلسہ فیضان اولیاء اللہ کا انعقاد عمل میں آیا۔ جلسہ کو مخاطب کرتے ہوئے ڈاکٹر خلیفہ شاہ محمد ادریس احمد قادری نے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اولیاء اللہ‘ صوفیاء کرام کا مقصد مخلوق کی خدمت اور خلق کو خالق سے جوڑ نا ہوتاہے۔ خانقا ہوں میں بندوں کے دلوں میں جمی ہوئی سیاہی کو نکال کر ان کے دلوں کے ظاہر و باطن کو پاک کیا جاتاہے ۔ بندہ کو چاہئے کہ وہ اپنے ظاہر و باطن کوپہلے پاک کرے اور ہمیشہ اپنی آنکھ ،ناک،منہ، زبان اور جسم کے ہر عضو کو باوضو رکھے ۔انہوں نے کہا کہ صوفیا ء کرام کے نزدیک فنا کے بعد ہی بقاء کی منزل شروع ہوتی ہے۔ اولیاء اللہ کے آستانہ ہمیشہ روحانیت کے مرکز رہے ہیں۔ ان آستانوں میں دلوں میں جمی ہوئی سیاہی کو نکالا جاتاہے۔ آج بھی جنوبی ہند میں حضرت سید عبدالقادر شاہ ولی ؒگنج سوائی گنج بخش بادشاہ ناگوری ؒ کے آستانہ مبارک پر عقیدتمندان لاکھوں کی تعداد میں حاضری دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ آپ کے سامنے عرب گھوڑا جس کا نام زمزم ہے نے اولیاء کرام کے آستانوں کا بے حد احترام و تعظیم کرتاہے۔ حافظ شاہنواز نے قرأت فرمائی ، جناب مشتاق احمد بگدلی و دیگر نے حمد ،نعت،منقبت کا نذرانہ پیش کرنے کی سعادت حاصل کی۔ مولانا سید انوار اللہ حسینی افتخاری سجادہ نشین حضرت وطن ؒ حیدرآباد نے بعنوان ’’ا یمان اسلام‘اور احسان ‘‘ مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ حضور انور سرکار مدینہؐ سے عشق کے بغیر آخرت میں کوئی چیز کام آنے والی نہیں ہے ۔ اتباع سنتؐ میں ہی اہل ایمان کیلئے دنیا وآخرت کی بھلائی مضمر ہے۔ حضور ؐ کی ایک ایک سنت کو اپنا نا ہی عشق رسول ؐ کی علامت ہے۔ مولانا نے کہا کہ جس گھر میں والدین ہوں وہ گھر رحمت خداوندی کا آستانہ ہوتاہے۔ ماں ایک ایسی ہستی ہے جب اللہ تعالیٰ نے اپنی محبت کے بارے میں اپنے بندوں کو بتایا تویہ بتایا کہ اللہ تعالی اپنے بندوں سے ’’ماں ‘‘ سے 70 گنازیادہ محبت کرتاہے۔ مولانا نے بیشمار اسلامی معلومات پر سیر حاصل روشنی ڈالتے ہوئے تلقین کی کہ صحیح عقیدے پر قائم رہتے ہوئے قرآن اور صاحب قرآن کی تعلیمات کے ساتھ ساتھ اولیاء اللہ کے دامن کو مضبوطی کے ساتھ تھامے رکھیں۔مولانا عبدالحمید رحمانی چشتی صدر کل ہند تنظیم اصلاح معاشرہ نے کہاکہ او لیا ء اللہ کے آستانوں پر ہمیشہ اللہ کی رحمت برستی رہتی ہے انہوں نے کہا کہ حضور ؐ نے فرمایا مسجدوں میں پیاز ، لہسن کھاکر مت آؤاس کے کھانے سے منہ سے بو آتی ہے جس سے نمازیوں اور فرشتوں کو تکلیف ہوتی ہے ۔حضور ؐنے فرمایا جو میرے اہلبیت اطہارؓ سے محبت کرے گاوہ مجھ سے محبت کریگا گو یا وہ اللہ سے محبت کریگا۔ اللہ پاک کا فضل و کرم ہی ہے کہ حضور ؐ کے صدقہ میں ہند کے راجہ سلطان الہند حضرت غریب النواز ؒ کو ہندوستان بھیجا اور غریب النواز نے دین کی تبلیغ و اشاعت فرمائی جس کی وجہ سے آج دین اسلام ملک کے چپہ چپہ میں پہنچا ۔ شہ نشین پر پر وی ایم شاہ والحمید قادری ناگوری ، مولوی محمدلئیق احمد قادری بگدلی ، محمد نسیم الدین این پٹیل سابق صدر ضلع پنچایت بیدر‘مشائخین عظام ‘ اور صحافی و معززین موجود تھے ۔ہند و بیرونی ممالک کے مشائخین عظام ، مریدین و معتقدین کی کثیر تعدادنے شرکت کی ۔ سلام فاتحہ ، گلہائے عقیدت تقسیم تبرکات بدست سجادہ نشین عمل میں آئے ۔ بعد نماز فجر ختم قرآن مجید ، گلہائے عقیدت فاتحہ تقسیم تبرکات عمل میں آئے ۔ گوالیار کے مشہور قوال سلیم جھنکار اور گلزار نازاں نے اپنے ہمنواؤں کے ساتھ ساز پر نعتیہ ، منقبتی، عرفانی اور صوفیانہ کلام پیش کرکے خوب داد حاصل کی ۔ان دونوں قوالوں کو ایواراڈ سے نوازا گیا ۔آستانہ قادریہ کو رنگین برقی قمقموںسے روشن و منور کیا گیا تھا ۔ لنگر خانہ قادریہ میں لنگر کا اہتمام3دن جاری رہا۔ڈپٹی کمشنر مسٹرانوراگ تیواری اور سپرنٹنڈنٹ پولیس کی نگرانی میں بہترین بندو بست دیکھا گیا ۔ہر طرف انسانی سروں کا سمندر نظر آرہاتھا۔ڈاکٹر خلیفہ شاہ محمدادریس احمد قادری کی دعائے سلامتی کے بعدسہ روزہ عرس کے جلسہ کی نوارنی تقریب تکمیل پذیر ہوئی ۔

TOPPOPULARRECENT