Monday , December 11 2017
Home / مضامین / مدارس اسلامیہ اور دعوت دین حق

مدارس اسلامیہ اور دعوت دین حق

ڈاکٹر سراج الرحمن فاروقی
ہندوستان بھر میں چند ایسی معروف فرقہ پرست تنظیمیں سرگرم ہیں جہاں مذہبی رواداری ، گنگا جمنی تہذیب والے اس ملک کے امن و امان کو خاک آلودہ کرنے کا خاص ایجنڈہ رکھتے ہیں ، جو معمولی باتوں کا ہوّا کھڑا کرتے ہوئے پرسکون فضا کو مکدر کرتے ہیں ۔ آج کی حکومت بھی بتدریج اپنے ایسے ہی افکار کے ساتھ رونما ہورہی ہے ، بشمول جنوبی ہند کے یہ کام صرف ہند میں ہی نہیں بلکہ عیسائیوں کے مقدس مقام ویٹیکن سٹی ، اٹلی میں بھی ہورہا ہے ، جہاں ریسرچ سنٹرس میں اسلامیات کے شعبے قائم ہیں تاکہ نظریاتی تنقید کے لئے اسلام کا مطالعہ کیا جائے ۔ ان اداروں میں مختلف زبانوں بشمول اردو کی تعلیم کا بھی نظم ہے ۔ ان میں بہت اہم کیتھولک یونیورسٹی بھی ہے یہاں پر بھی شعبہ اسلامیات ہے یہ صرف اسلام پر علمی اور فکری تنقید کے مراکز ہیں۔
اب امت مسلمہ سے غفلت دور کرنا ہے ، خصوصاً دینی مدارس کے نصاب میں ہو کہ مذہبی اداروں میں مذہب اسلام کو تبلیغ یا دعوت دین حق برادران وطن میں پہنچانے کا کوئی نظریہ ہی نہیں ہے ، جہاں یہ اہم پہلو پس پشت ڈالا گیا ہے ، افسوس اس بات کا ہے کہ وحدہ لاشریک کا پیغام پہنچانے کی ذمہ داری دے کر جس امت کو دنیا میں بھیجا گیا ، اسلام ہی واحد مذہب ہے ، رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم ساری انسانیت کے لئے کامل رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں ۔ قرآن کریم ساری انسانیت کے لئے دستور حیات ہے۔ ہم سب ایک باپ حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں ۔

مندرجہ بالا تمام حقائق کو پاس رکھنے والی امت نہ خود اس حقائق کو گہرائی سے جانتی ہے اس پیغام کی متلاشی ، پیاسی انسانیت کو یہ زندہ تابندہ پیغام کی تبلیغ کرنے کا تصور بھی اس کے پاس دور دور تک نظر نہیں آتا ۔ دعوتی نقطہ نظر سے مختلف مذاہب کے بارے میں سطحی معلومات نہ صرف دینی مدارس کے طلبہ کو ہے بلکہ مدارس کے علماء و فضلا بھی دیگر مذاہب کے بارے میں نہایت سطحی معلومات رکھتے ہیں ۔ استثنائی صورت ہر جگہ پائی جاتی ہے  ۔جب Field work کرنے کے خاطر خواہ تجربہ سے عاری ہیں لیکن کیا یہ چند قابل قدر نفوس سوا سو کروڑ سے زیادہ ہندوستان میں بسنے والے برادران وطن تک پیغام حق پہنچانے کے لئے کافی ہیں ؟؟ کیا ان تمام کا مقابلہ ، ان کی تمام کی بیداری کے لئے ہمیں دور بینی سے کام کرنے کی ضرورت نہیں ہے ؟کیا امت اس معاملہ میں  لاپروا اور غافل نہیں ہے اور کیا محافظین اسلام بھی اس سے بے خبر نہیں ہے ؟
لادینیت کا سیلاب تو ہمارے سروں سے اونچا ہوگیا ہے ۔ ایک طرف ہماری نسل مغربیت کے اصولوں میں اپنی کامیابی تلاش کررہی ہے ۔ مغربی تمدن کی یلغار میں اپنی شناخت کھورہی ہے ، موسیقی ، بے حیائی سے لطف اندوز ایسی بگڑتی نسل کی حفاظت ایک سنگین مسئلہ ہے ۔ یہ اس وقت کا سب سے بڑا مسئلہ ہے ۔ جیسا کہ علامہ اقبال کہتے ہیں
یوروپ کی غلامی سے رضامند ہوا تو
مجھ کو تو گلہ تجھ سے ہے یوروپ سے نہیں ہے

ایک طرف امت مسلمہ کو اپنی نئی نسل کی ایمان کی حفاظت کرنا ہے وہیں پر امت کے مستقبل کا معمار طبقہ دینی مدارس ، مذہبی اداروں میں زیر تربیت ہے جس سے احیاء دین ، احیائے سنت کی توقع ہے ان کے تعلیمی معیار کی تجدید و سرپرستی علمائے کرام ، دانشوران ملت کی اولین ترجیحات ہونی چاہئے ، جس سے مدارس سے نکلنے والا طالب علم مکمل خود اعتمادی  کے ساتھ حالات کا مقابلہ کرسکے ۔ لیکن دینی مدارس کے طلباء کی اکثریت میں اس اہم نکتے کا فقدان ہے ۔
وہ علم جس کی تجدید ہر زمانے میں ، ہر نسل کو ضروری ہے ۔ تاکہ وہ اس علم کے ذریعہ زمانے کے تغیرات ،  موسم ، آب و ہوا کی تبدیلی ، طبیعتوں و مزاج کا فرق کے علاوہ موجودہ حکومتوں کے ہتھکنڈوں ، ایجنڈوں وغیرہ کو مدنظر رکھ کر حاصل کیا جانے والا علم ہی ہماری نسل کو ایمانیات کی حفاظت کی ضمانت دیتا ہے ۔

نہ صرف یہ بلکہ دینی مدارس کے طلبہ کو دی جانے والا تعلیم میں خارجی مطالعہ کا اہم نکتہ برادران وطن میں دعوت دین حق کے بارے میں ضروری معلومات ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم ساری انسانیت کے لئے آخری کامل رسول ہیں ۔ خدا کا کوئی روپ نہیں ہوتا ہے وغیرہ جیسے حقائق کو آسان طریقے سے مختلف زبانوں میں چھوٹے ورقئے ، کتابچے حوالوں سے پیش کرنے کا مستقل نصاب دعوت حق شامل کیا جانا چاہئے ۔ دینی مدارس کے طلباء میں انگریزی زبان میں بلاغت کے ساتھ مقامی زبانیں تلگو ، تمل ، کنڑ ، ملیالی ، ہندی جیسی زبانیں سکھائی جائیں اور  برادران وطن سے گفتگو مباحثہ ، لکچرس دینے کے قابل بنانا  یہی دینی مدارس کی تعلیم کا مقصد ہو ۔ یہی ایجنڈے کی تکمیل میں ہند میں مخالف اسلام سازشوں کے سیلابوں کا منہ توڑ جواب ہے (آزادی ہند سے انگریزوں نے زور شور سے عیسائیت کی تبلیغ شروع کی گئی تھی جسکے ثمر آور نتائج نے مسلمانوں کی تہذیب و ثقافت کی عمارت کو کھنڈر بنادیا) رہی سہی شناخت کی حفاظت ہماری اولین ترجیحات ہونی چاہئے ۔ ان نونہالوں ، نوجوانوں کو تحریری و تقریری مشق کرائی جائے تاکہ یہ اسلام دشمن طاقتوں نے جو طوفان کھڑا کیا ہے اس کا مقابلہ بہ آسانی کیا جائے ۔

TOPPOPULARRECENT