Wednesday , January 17 2018
Home / ہندوستان / مدرسوں میں بیرونی اساتذہ کا پتہ چلانے سروے

مدرسوں میں بیرونی اساتذہ کا پتہ چلانے سروے

نئی دہلی ۔ 12 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) بردوان میں ایک مدرسہ کے طلبہ کو درس دینے کیلئے بنگلہ دیشی معلمین کی موجودگی کی اطلاع پر فکرمند مرکز نے ملک بھر میں مدرسوں میں طلبہ کو پڑھانے والے بیرونی معلمین کا پتہ چلانے کیلئے سروے کرانے کا منصوبہ بنایا ہے۔ بین الاقوامی سرحد سے متصل بعض ریاستوں میں بنگلہ دیشی معلمین کی موجودگی کی اطلاع ہے۔ تحقیق

نئی دہلی ۔ 12 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) بردوان میں ایک مدرسہ کے طلبہ کو درس دینے کیلئے بنگلہ دیشی معلمین کی موجودگی کی اطلاع پر فکرمند مرکز نے ملک بھر میں مدرسوں میں طلبہ کو پڑھانے والے بیرونی معلمین کا پتہ چلانے کیلئے سروے کرانے کا منصوبہ بنایا ہے۔ بین الاقوامی سرحد سے متصل بعض ریاستوں میں بنگلہ دیشی معلمین کی موجودگی کی اطلاع ہے۔ تحقیقات کے بعد پتہ چلا ہیکہ مغربی بنگال کے ضلع بردوان میں مدرسہ میں تعلیم دینے والے تقریباً تمام اساتذہ بنگلہ دیشی شہری ہیں جہاں پر 2 اکٹوبر کو ایک دھماکہ میں 2 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ۔ مدرسہ کے معلمین ممنوعہ دہشت گرد گروپ جماعت المجاہدین بنگلہ دیش سے وابستہ ہیں۔ یہ لوگ مبینہ طور پر اپنے جہادی نظریہ سے ان طلبہ کو وابستہ کرتے ہوئے نوجوان طلبہ کی ذہن سازی کررہے ہیں۔ ایک خفیہ رپورٹ میں جسے وزارت داخلہ کو پیش کیا گیا سیکوریٹی ایجنسیوں نے بتایا ہیکہ جن مدرسوں میں ہندوستانی اساتذہ خدمات انجام دے رہے ہیں وہ کسی بھی جہادی یا علحدگی پسند سرگرمیوں یا نظریات کو فروغ دینے کے کاموں میں ملوث نہیں ہے۔

اس رپورٹ میں ان مدرسوں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے جہاں پر بنگلہ دیش یا پاکستانی نژاد اساتذہ ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہیکہ اس طرح کے مدارس نوجوان ذہنوں میں سرگرمی کے ساتھ تحریکی جذبات پیدا کررہے ہیں۔ وزارت داخلہ کے عہدیدار نے کہا کہ ہمیں اس بات کی تشویش ہیکہ ایسے کئی بیرونی اساتذہ ہیں جو ہندوستان کے کئی مدارس سے وابستہ ہوکر ہندوستانی شہریوں کو ورغلا رہے ہیں۔ یہ لوگ جعلی شناختی دستاویزات بناتے ہوئے یہاں پر قائم ہیں۔ اس لئے سروے کے ذریعہ ان کا پتہ چلایا جائے گا۔ بردوان کے مدرسوں میں بنگلہ دیش کے اساتذہ نے ووٹر شناختی کارڈس جیسے جعلی دستاویزات ساتھ رکھے ہوئے ہیں۔ یہ سروے ابتداء میں مغربی بنگال، آسام، اترپردیش اور بہار جیسی بین الاقوامی سرحدوں سے متصل ریاستوں میں کروایا جائے گا اس کے بعد دیگر ریاستوں میں بھی سروے کیا جائے گا۔ ملک میں مدرسوں کی جملہ تعداد کے بارے میں سرکاری طور پر کوئی اعداد و شمارنہیں ہے۔ تاہم غیرسرکاری طور پر اس طرح کے چھوٹے اور بڑے مدارس کی تعداد 35 ہزار بتائی جارہی ہے جہاں پر تقریباً 15 لاکھ طلبہ زیرتعلیم ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر مدارس غیرمسلمہ ہیں۔

TOPPOPULARRECENT