Monday , August 20 2018
Home / ہندوستان / مدرسوں میں ’’دقیانوسی نظام تعلیم‘‘ سے کوئی فائدہ نہیں

مدرسوں میں ’’دقیانوسی نظام تعلیم‘‘ سے کوئی فائدہ نہیں

آج تک یہاں سے انجینئر ، ڈاکٹرس یا سائنس داں تیار نہیں ہوئے : وزیر اقلیتی بہبود یوپی

لکھنؤ۔5 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) حکومتِ اُترپردیش نے آج اِن خدشات کو دور کرنے کی کوشش کی کہ دینی مدارس میں این سی ای آر ٹی کتابوں کو متعارف کرنے سے ان اسلامی تعلیمی اداروں کا تعلیمی نصاب متاثر ہوگا۔ حکومت نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ’’دقیانوسی‘‘ (قدامت پسند) تعلیمی نظام کسی انفرادی شخص، ریاست یا ملک کی ترقی کو یقینی نہیں بنا سکتا۔ وزیر اقلیتی بہبود لکشمی نارائن چودھری نے حکومت اترپردیش نے دینی مدارس کے تعلیمی نصاب کو متاثر کرنے یا اس میں تبدیلی لانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی، لیکن یہ حقیقت ہے کہ دقیانوسی نظام تعلیم کسی انفرادی شخص، ریاست یا ملک کو یقینی نہیں بنا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کے اس دور میں دینی مدارس سے کوئی انجینئر، ڈاکٹر، سائنس داں یا سیول سروینٹ تیار نہیں ہوا۔ ہم چاہتے ہیں کہ ریاست بھر میں واقع مدرسوں میں روزگار سے مربوط تعلیمی نظام پر عمل ہو اور تیکنیکی تعلیم دی جائے۔ اس وقت مدارس کے نصاب میں تاریخ اور ثقافت کو خاطر خواہ طور پر شامل نہیں رکھا گیا ہے، ہم تاریخ، جغرافیہ، سنسکرت کو اضافی مضامین کے طور پر متعارف کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ ان پر آئندہ تعلیمی سیشن سے عمل ہوگا۔ ریاست اُترپردیش میں 19,000 مُسلّمہ مدارس ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کتابیں، این سی ای آر ٹی اور یوپی بورڈ کی ہوں گی، تاہم فی الحال یہ منصوبہ بندی کے مرحلہ میں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ کتابیں اُردو میں ہوں گی اور ان میں سے بعض پہلے ہی بازار میں دستیاب ہیں۔ اس کا بنیادی مقصد مدارس میں تعلیم کو قومی دھارے کے تعلیمی نظام سے جوڑنا ہے۔ یوگی ادتیہ ناتھ حکومت نے 30 اکتوبر کو این سی ای آر ٹی کتابیں اترپردیش کے مدارس میں متعارف کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ ان اسکولس میں انٹرمیڈیٹ کی سطح پر ریاضی اور سائنس کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT