مدرسہ عالیہ اور محبوبیہ گرلز اسکول سے حکومت کا کنٹرول ختم کرنے کا مطالبہ

تاریخی اسکولوں کو طلبائے قدیم کے حوالے کرنے پر زور ، ڈپٹی چیف منسٹر جناب محمود علی سے نمائندگی

تاریخی اسکولوں کو طلبائے قدیم کے حوالے کرنے پر زور ، ڈپٹی چیف منسٹر جناب محمود علی سے نمائندگی
حیدرآباد ۔ 3 ۔ فروری : ( نمائندہ خصوصی ) : حیدرآباد کے دو قدیم اور تاریخی اسکولوں مدرسہ عالیہ اور محبوبیہ گرلز ہائی اسکول کی حالت زار طلبائے قدیم کے لیے ایک صدمہ سے کم نہیں ۔ ان میں سے بیشتر ایسی شخصیتیں ہیں جنہوں نے اپنے اسکولس کی شکستہ حالت کو دیکھ کر کافی افسوس ظاہر کیا اور ان کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوگئے ۔ ان کے ذہنوں میں ماضی کے وہ مناظر گھومنے لگے جہاں یہ اسکولس حقیقت میں تعلیمی مراکز نظر آیا کرتے تھے ۔ ذہین طلبہ کو قابل ترین اساتذہ سے سننے پڑھنے سیکھنے کا موقع ملا کرتا تھا لیکن آج کسی بھی طرح سے مدرسہ عالیہ اور محبوبیہ گرلز ہائی اسکول کسی بھی طرح علمی مراکز نہیں دکھائی دیتے ۔ متعصب عہدیداروں نے مدرسہ عالیہ اور محبوبیہ گرلز اسکول کی عمارتوں کو ایک طرح سے کھنڈر میں تبدیل کردیا ہے ۔ ان دونوں مدرسوں کے سابق طلبہ کا کہنا ہے کہ ان تاریخی اسکولوں پر سے حکومت کا کنٹرول ختم کردینا چاہئے ۔ انہیں خود مختار اداروں کا موقف عطا کیا جائے ۔ ماضی کے ان دونوں ممتاز درس گاہوں کو بہتر انداز میں چلانے کے لیے ایک ایسی کمیٹی بھی تشکیل دی جائے جو 50 فیصد طلبائے قدیم اور 50 فیصد حکومت کی جانب سے نامزد کردہ ارکان پر مشتمل ہو ۔ ہندوستان کو قابل ترین شخصیتیں عطا کرنے والے عالیہ اسکول اور محبوبیہ گرلز ہائی اسکول کی عظمت رفتہ کی بحالی کے لیے چیف منسٹر تلنگانہ کی جانب سے خصوصی فنڈ مختص کیا جائے ۔ مدرسہ عالیہ اور محبوبیہ گرلز اسکول کے سابق طلباء وطالبات کا ایک خصوصی اجلاس منعقد ہوا جس میں اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا گیا کہ ان دونوں اسکولوں میں سرکاری دفاتر خاص کر محکمہ تعلیمات کے دفاتر کی موجودگی کے باوجود ان کے تحفظ پر کوئی توجہ مرکوز نہیں کی جارہی ہے ۔ جس سے محسوس ہوتا ہے کہ تاریخی عمارتوں کو جان بوجھ کر تعلیمی اداروں سے کھنڈرات میں تبدیل کیا جارہا ہے ۔ اجلاس میں ایک قرار داد بھی منظور کی گئی جس میں مدرسہ عالیہ اور محبوبیہ کو طلبائے قدیم کے حوالے کردینے پر زور دیا گیا ۔ اس میں مزید کہا گیا کہ وہاں سرکاری دفاتر کی موجودگی کے باوجود ان کی بیرونی دیواروں کو سرکاری پیشاب خانوں میں تبدیل کردیا گیا ۔ نتیجہ میں شہر کے اس اہم ترین علاقہ میں تعفن پھیلا ہوا ہے ۔ واضح رہے کہ طلبائے قدیم نے ان اسکولوں کا دورہ بھی کیا ، ان لوگوں کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ ان کے تاریخی اسکولوں کی عظمت رفتہ اور شان و شوکت کی بحالی و تحفظ کے لیے ٹھوس اقدامات کئے جائیں ۔ مدرسہ عالیہ کی دیواروں سے متصل جو بیت الخلاء اور پیشاب خانے تعمیر کئے گئے ہیں ۔ انہیں فورا منہدم کیا جائے جب کہ محبوبیہ اسکول کی حقیقی عمارت کو چھپانے والے ہورڈنگس کو بھی وہاں سے فورا نکالنے کے اقدامات کئے جائیں ۔ اجلاس میں مرزا بشیر بیگ سرپرست و بانی انجمن طلبائے قدیم ، بریگیڈیر ایم ایم ذکی ( صدر ) ، محترمہ دلناز بیگ ( نائب صدر ) ، تیج بہادر سنگھ ( نائب صدر ) ،محمد شاہد علی خاں ( سکریٹری ) ، انجینئر محمد ایوب مجاہد ( جوائنٹ سکریٹری ) اور مسز نیلم دیواسکر ( اسسٹنٹ سکریٹری ) کے علاوہ دیگر ارکان موجود تھے ۔ بعد میں انجمن طلبائے قدیم کے اس وفد نے ڈپٹی چیف منسٹر جناب محمود علی سے ملاقات کرتے ہوئے اجلاس میں منظورہ قرار داد سے انہیں واقف کرایا ۔ جس پر انہوں نے وفد کو تیقن دیا کہ وہ چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ کو اس بارے میں واقف کرائیں گے اور دونوں اسکولوں کی آن بان و شان بحال کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی جائے گی ۔ ویسے بھی ٹی آر ایس حکومت ریاست کے قدیم اسکولوں کے تحفظ پر خصوصی توجہ دے رہی ہے ۔ جناب محمود علی سے ملاقات کرتے ہوئے نمائندگی کرنے والے وفد میں جناب ابوالفتح سید بندگی باشاہ قادری بھی موجود تھے ۔ وفد نے ڈپٹی چیف منسٹر کو یاد دلایا کہ ان دونوں اسکولوں نے ملک و قوم کو قابل شخصیتیں عطا کی ہیں ۔ جو نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا کے مختلف ملکوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT