Thursday , April 19 2018
Home / مضامین / مدرسہ عالیہ جس کا تعلیمی معیار مثالی تھا

مدرسہ عالیہ جس کا تعلیمی معیار مثالی تھا

حیدرآباد دکن کی ترقی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ ملک کی اکثر ریاستوں میں سڑکوں کے کنارے نالے اُبلتے ہوئے دکھائی دیں گے لیکن حیدرآباد میں 1930 ء میں ہی ایک ایسا زیرزمین ڈرینیج و سیوریج سسٹم بچھایا گیا جو برسوں بعد بھی عوام کی راحت کا باعث بنا ہوا ہے ۔ آزادی کے وقت ہندوستان میں صرف 9 ایرلائینز یا شہری ہوابازی کی کمپنیاں تھیں ان میں سب سے نمایاں ریاست حیدرآباد دکن کی ملکیت دکن ایرویز لمیٹیڈ تھی ۔ حیدرآباد دکن میں آصفجاہی حکمرانوں نے 1879 ء میں ریلوے کا نٹو رک قائم کردیا تھا ۔ 1932 ء میں جبکہ ہندوستان کے اکثر علاقوں میں حمل و نقل کی تیز رفتار سہولت نہیں تھی ریاست حیدرآباد دکن میں نظام اسٹیٹ ریل اینڈ روڈ ٹرانسپورٹ ڈپارٹمنٹ عوام کی بہتر انداز میں خدمات بجالارہا تھا ۔

محمد ریاض احمد
آصفجاہی حکمرانوں نے اپنے علمی تعمیری اور عوام کی بہبود کے لئے انجام دیئے گئے کارناموں سے حیدرآباد دکن کو نہ صرف ملک بلکہ بیرون ملک بھی شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا ۔ ایک ایسے وقت جبکہ ہندوستان کی 600سے زائد دیہی ریاستوں میں جہاں راجہ راجوڑوں اور نوابوں کی حکومتیں تھیں حیدرآباد دکن کو ہر لحاظ سے ملک کی سب سے خوشحال ترقی یافتہ ریاست کا اعزاز حاصل رہا ۔ آصفجاہی دور میں قائم کردہ تعلیمی ادرے بشمول عثمانیہ یونیورسٹی کا شمار آج دنیا کی قدیم اور باوقار یونیورسٹیز میں ہوتا ہے۔ ہندوستان میں حیدرآباد دکن کو کئی شعبوں میں ’’پہلے ‘‘ اور سرفہرست رہنے کا اعزاز حاصل رہا جس وقت تقریباً ہندوستان تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا حیدرآباد دکن میں روشنی بکھری ہوئی تھی ۔ آصفجاہی حکومت نے اپنے ملک میں بجلی کا معقول انتظام کرتے ہوئے دوسری دیسی ریاستوں کیلئے ایک قابل تقلید مثال قائم کی ۔ ریاست حیدرآباد دکن میں آصفجاہی حکمرانوں نے حیدرآباد اسٹیٹ الیکٹریسٹی ڈپارٹمنٹ قائم کیا اس کے تحت حسین ساگر تھرمل پاور اسٹیشن کی تعمیر عمل میں لائی گئی ۔ 1920 ء میں قائم کردہ اس تھرمل پاور پلانٹ کو ہندوستان کا پہلا تھرمل پاور اسٹیشن ہونے کابھی اعزاز حاصل رہا ۔

حیدرآباد دکن کی ترقی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ ملک کی اکثر ریاستوں میں سڑکوں کے کنارے نالے اُبلتے ہوئے دکھائی دیں گے لیکن حیدرآباد میں 1930 ء میں ہی ایک ایسا زیرزمین ڈرینیج و سیوریج سسٹم بچھایا گیا جو برسوں بعد بھی عوام کی راحت کا باعث بنا ہوا ہے ۔ آزادی کے وقت ہندوستان میں صرف 9 ایرلائینز یا شہری ہوابازی کی کمپنیاں تھیں ان میں سب سے نمایاں ریاست حیدرآباد دکن کی ملکیت دکن ایرویز لمیٹیڈ تھی ۔ حیدرآباد دکن میں آصفجاہی حکمرانوں نے 1879 ء میں ریلوے کا نٹو رک قائم کردیا تھا ۔ 1932 ء میں جبکہ ہندوستان کے اکثر علاقوں میں حمل و نقل کی تیز رفتار سہولت نہیں تھی ریاست حیدرآباد دکن میں نظام اسٹیٹ ریل اینڈ روڈ ٹرانسپورٹ ڈپارٹمنٹ عوام کی بہتر انداز میں خدمات بجالارہا تھا ۔ آپ کو بتادیں کہ صرف 27 بسوں اور 166 ملازمین کے ساتھ مملکت حیدرآباد دکن میں روڈ ٹرانسپورٹ سرویس کا آغاز کیا گیا تھا ۔ ریاست میں آصفجاہی حکمرانوں نے آبپاشی پراجکٹس کے ساتھ ساتھ نگہداشت صحت اور طبی تحقیق کو اولین ترجیحات میں شامل رکھا ۔ نظامیہ طبی شفا خانہ چارمینار ، عثمانیہ جنرل اسپتال ، عثمانیہ میڈیکل کالج اور بے شمار طبی تحقیقی ادارے آصفجاہی حکمرانوں بالخصوص آصفجاہ ششم نواب محبوب علی خاں اور آصف جاہ سابع حضور نظام نواب میر عثمان علی خاں بہادر کے دور حکمرانی میں قائم کئے گئے ۔
جہاں تک طبی تحقیق کا سوال ہے ۔ محبوب علی پاشاہ کی سرپرستی میں حیدرآباد کلوروفام کمیشن 1889 ء میں قائم کیا گیا اور حیدرآباد میڈیکل اسکول کے پرنسپل ڈاکٹر ایڈورڈ لاری Laurie نے یہ ثابت کیا کہ کلوروفام آپریشنوں کے دوران مریضوں کو بیہوش کرنے کا بہترین ایجنٹ ہے ۔ اسی طرح آصفجاہی دور میں حیدرآباد میں اس بات کا پتہ چلایا گیا کہ مچھر کے باعث ہی ملیریا ہوتا ہے ۔ اس ضمن میں سررونالڈ راس کو فراموش نہیں کیا جاسکتا وہ ایک برطانوی ڈاکٹر تھے انھیں ملیریا پر اُن کی تحقیق کیلئے 1902 ء میں طب کا نوبل انعام عطا کیا گیا ۔

انھوں نے دنیائے طب کو بتایا تھا کہ ملیریا کاطفیلی مادہ مچھر کی آنت میں پایا جاتا ہے ۔ بیگم پیٹ میں سررونالڈ راس انسٹی ٹیوٹ آف پیراسائٹالوجی آج بھی آصفجاہی حکمرانوں کی طبی شعبہ کو خالص رہی سرپرستی کا ثبوت ہے ۔ یہ دریافت 1895-1817 میں اسی عمارت میںتحقیق کے دوران کی گئی ۔ ریاست حیدرآباد دکن میں آصفجاہی حکمرانوں نے تعلیم و تحقیق کو بہت زیادہ اہمیت دی ہے۔ تعلیمی شعبہ میں ریاست کو ترقی کی راہ پر گامزن کروانے میں سر سالارجنگ اول اور عمادالملک بہادر ( سید حسین بلگرامی) کا اہم کردار رہا ۔ ان کے مشوروں پر ہی نظام کالج ، محبوبیہ گرلز اسکول ، حیدرآباد اورنگ آباد اور ورنگل میں فنی تعلیمی ادارے ، حیدرآباد میں آصفیہ اسٹیٹ سنٹرل لائبریری وغیرہ قائم کئے گئے ۔ 1885 ء میں لڑکیوں کیلئے قائم کردہ اسکول سارے ہندوستان میں اپنی طرز کا منفرد اسکول تھا ۔ جیسا کہ ہم نے سطور بالا میں لکھا ہیکہ آصفجاہی حکمرانوں نے تعلیمی شعبہ کو اولین ترجیحات میں شامل رکھا اور ریاست میں اعلیٰ معیاری تعلیمی اداروں کا جال پھیلایا اس ضمن میں یہاں یہ لکھنا ضروری سمجھتا ہوں کہ سٹی کالج کا اگرچہ میرعثمان علی خاں بہادر کے دور میں 1921 ء میں قیام عمل میں آیا لیکن اسے محبوب علی پاشاہ نے 1865 ء میں قائم کرکے مدرسہ دارالعلوم کا نام دیا اور میر عثمان علی خاں بہادر نے سٹی ہائی اسکول سے موسوم کردیا ۔ 1921 ء میں ہی سٹی ہائی اسکول موجودہ عمارت میں منتقل ہوا اور 1929 ء میں اسے ترقی دے کر کالج کا درجہ دیا گیا ۔ یہاں اس بات کاتذکرہ ضروری ہوگا کہ اُس وقت سٹی کالج کی تعمیر پر 8,36,919 روپئے کے مصارف آئے ۔ محبوب علی پاشاہ کی دلچسپی کے باعث ہی انگریزی تعلیم کے فروغ کی راہ ہموار ہوئی ۔ محبوب کالج سکندرآباد نظام کالج حیدرآباد اس کی بہترین مثال مثالیں ہیں ۔ بلبل ہند سروجنی نائیڈو کے والد اگھورناتھ چٹوپادھیا کو خاص طورپر نظام کالج کا پہلا پرنسپل مقرر کیا گیا ۔ انھیں بیالوجیمیں پی ایچ ڈی کرنے والے پہلے ہندوستانی ہونے کا اعزاز حاصل تھا ۔ انھوں نے اڈنبرگ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی تھی ۔

موضوع سے آگے بڑھنے سے پہلے آصفجاہی حکمرانوں کی تعلیمی دلچسپی کے تعلق سے عثمانیہ یونیورسٹی کا ذکر کرنا ضروری ہوگا۔ اس لئے کہ 1918 میں حضور نظام نواب میر عثمان علی خان بہادر کی جانب سے قائم کردہ اس باوقار یونیورسٹی کو جہاں ملک کی سات قدیم ترین اور باوقار یونیورسٹیز میں شامل ہونے کا اعزاز حاصل ہے وہیں دنیا کی یہ پہلی اردو یونیورسٹی بھی تھی لیکن افسوس کے جمہوریت کا سورج طلوع ہونے کے ساتھ جو برائیاں منظر عام پر آئیں ان میں لسانی تعصب بھی شامل تھا۔ اس لسانی تعصب کے باعث عثمانیہ یونیورسٹی کی شناخت اور اس کی پہچان کو مٹانے کی بھرپور کوششیں کی گئیں۔ اردو میڈیم تو ختم کردیا گیا لیکن متعصب ذہن اس کی شناخت اور پہچان ختم کرنے میں ناکام رہے۔ عثمانیہ یونیورسٹی کا ذریعہ تعلیم اردو مقرر کئے جانے کی نوبل لاریٹ رابندر ناتھ ٹیگور نے زبردست ستائش کی تھی۔ عثمانیہ یونیورسٹی کے ساتھ دائرہ المعارف بھی آصف جاہی حکمرانوں کی علمی دوستی کی ایک روشن مثال ہے۔ آصف جاہی حکمرانوں نے صرف اردو ہی نہیں بلکہ ہر زبان کی حوصلہ افزائی کی جن میں انگریزی، تلگو، مرہٹی وغیرہ شامل ہیں۔ ان حکمرانوں نے انگریزی کے فروغ کے لئے اور طلبہ کو انگریزی سے ہم آہنگ کرنے کے لئے انگریزی کے ایسے وسیع و عریض اور تمام سہولتوں سے آراستہ مدارس قائم کئے جن کا شمار ہندوستان نہیں بلکہ آکسفورڈ اور کیمرج سے ملحقہ اسکولوں میں ہوا کرتا تھا۔ اس طرح کے اسکولس میں مدرسہ عالیہ اور حیدرآباد پبلک اسکول نمایاں ہیں۔ حیدرآباد پبلک اسکول اگرچہ آج بھی تقریباً اسی آن بان اور شان کے ساتھ چلایا جارہا ہے لیکن کبھی دنیا کے چنندہ اور بہترین اسکولوں میں شامل مدرسہ عالیہ ویران کھنڈرات میں تبدیل ہو چکا ہے۔ جہاں کبھی صاف ستھری شیروانی و پاجامہ زیب تن کئے ہوئے ہر قسم کی آلودگی سے محفوظ حکمران طبقہ، امرائے عظام اور رئیسوں کے بچوں کے کھیل کود سے ماحول معطر ہو جایا کرتا تھا۔

TOPPOPULARRECENT