Wednesday , December 12 2018

مدن پلی میں آزاد امیدواروں کے روشن امکانات

مدن پلی31 مارچ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) ضلع چتور میں بلدیہ انتخابات کا پرامن اختتام ہوا ۔ چتور کارپوریشن اور مدن پلی پلینر ، نگری ، پتور ، پنگنور ، کالاہستی ، میونسپالٹی کیلئے ہوئے انتخابات میں 76.38 فیصد پولنگ ہوئی جو گذشتہ انتخابات سے بہتر ہے ۔ چتور کارپوریشن کے 50 ڈیویژن کیلئے ہوئی رائے دہی میں دو تین دن قبل ہی سے کشیدگی کا ماحول تھا ۔ مح

مدن پلی31 مارچ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) ضلع چتور میں بلدیہ انتخابات کا پرامن اختتام ہوا ۔ چتور کارپوریشن اور مدن پلی پلینر ، نگری ، پتور ، پنگنور ، کالاہستی ، میونسپالٹی کیلئے ہوئے انتخابات میں 76.38 فیصد پولنگ ہوئی جو گذشتہ انتخابات سے بہتر ہے ۔ چتور کارپوریشن کے 50 ڈیویژن کیلئے ہوئی رائے دہی میں دو تین دن قبل ہی سے کشیدگی کا ماحول تھا ۔ محکمہ پولیس نے بالخصوص ایس پی چتور نے مکمل بندوبست کے ساتھ پولنگ پر کڑی نظر ج مائے رکھا اور پولنگ سے قبل ہی چند قائدن کو حراستمیں لے لیا اور رائے دہی پرامن ہونے میں کامیاب ہوئے ۔ نگری میں اداکارہ روجا اور سابق وزیر جنگا ریڈی کے حامیوں کے درمیان کشیدگی پائی اور پولیس کو لاٹھی چارج کرنا پڑا ۔ کانگریس اور وائی ایس آر کانگریس کے حامیوں کے درمیان پولیس نے صلح کرائی اور 88.5 فیصد پولنگ ہوئی ۔ مدن پلی میں 14 ویں وارڈ میں الکٹرانک مشن کی خرابی کی وجہ سے یکم اپریل کو پھر سے رائے دہی ہوگی ۔ مدن پلی کے 35 وارڈوں میں سے ایک وارڈ کیلئے بلامقابلہ فیصلہ ہونے کی وجہ سے 34 وارڈوں میں رائے دہی ہوئی ۔ علی الصبح سے ہی رائے دہندوں نے پولنگ مراکز پر پہونچ کر لمبی قطاروں میں کھڑے نظر آئے ۔ جیسے جیسے سورج چڑھتا گیا ووٹروں کے پسینے چھوٹنے لگے ۔ کڑی دھوپ میں پولنگ مراکز پر کھڑے ہوئے معمرین کی حالت بہت خراب نظر آئی ۔ چند مراکز پر معمرین کا خیال کرتے ہوئے پولیس محکمہ نے رائے دہندوں کی اجازت سے قطار میں کھڑے ہوئے بغیر سیدھے ووٹ ڈالنے میں مدد کی ۔ اسی طرح ایک معمر خاتون جن کا نام یشودماں ہے اور عمر90 سال ہے باوجود اپنی علالت کے ووٹ کا استعمال کیا ۔ تقسیم ریاست کے بعد سے ضلع چتور میں کانگریس پارٹی کی حالت بہت نازک ہوچکی ہے ۔

ضلع بھر میں کانگریس کے امیدواروں کی کمی صاف نظر آئی ۔ مدن پلی میونسپالٹی قائم ہونے سے لیکر آج تک کانگریس کے قبضہ میں رہی ۔ تلگودیشم کے قیام کے بعد حلقہ اسمبلی میں تلگودیشم کی کامیابی کے باوجود میونسپالٹی کانگریس کے قبضہ ہی میں رہی ۔ مدن پلی ، کانگریس کیلئے محفوظ جگہ مانی جاتی تھی ۔ لیکن اس مرتبہ 35 وارڈوں کیہلئے صرف کانگریس کا ایک ہی امیدوار پرچہ نامزدگی داخل کیا ۔ سابق چیرمین بلدیہ مجیب حسین اور سابق چیرمین نریش کمار ریڈی نے اپنا آزاد امیدواروں کا پیانل بنایا اور امید کی جاتی ہے کہ ان آزاد امیدواروں سے تلگودیشم اور YSRCP کو کافی نقصان ہوا ۔ رکن اسمبلی شاہ جہاں باشاہ جو تقسیم کے بعد کانگریس سے دوری اختیار کرئے ہوئے ہیں اور کسی بھی پارٹی میں شامل نہیں ہوئے وہ بھی اپنے چند امیدواروں کو آزاد امیدوار کے حیثیت سے کھڑا کیا ۔ چیرپرسن بلدیہ مدن لی کو BC-GEN کیلئے تحفظ کیا گیا ہے ۔ تلگودیشم نے ابھی تک چیرپرسن کیلئے کسی کا نام نہیں بتلایا مگر BC قائد کے شیوا پرساد کا انتخآب کرنے کی امید کی جارہی ہے ۔ YSRCP نے چیرپرسن کیلئے سابق چیرپرسن محترمہ شمیم اسلم کا نام کا اعلان کردیا ہے ۔ دیکھنا یہ ہے کہ ووٹوں کے گنتی کے بعد کسی پارٹی کے کونسلروں کی اکثریت ہوگی بروز اتوار کو ہوئے رائے دہی سے یہ صاف نظر آتا ہے کہ مدن پلی میں آزاد امیدواروں کی کامیابی چند وارڈوں میں یقینی ہوگی اور ان ہی کے بلبوتے پر چیرپرسن کا تقرر ہوگا ۔

TOPPOPULARRECENT