مدھیہ پردیش میں انتخابی مہم ختم ۔ کل رائے دہی

بھوپال 26 نومبر ( سیاست ڈٹ کام ) مدھیہ پردیش اسمبلی انتخابات کیلئے انتہائی شدت کے ساتھ چلائی گئی مہم کا آج شام اختتام عمل میں آیا جہاں بی جے پی اور کانگریس کے علاوہ دوسری جماعتوں کے بھی اہم قائدین نے کئی انتخابی ریلیوں سے خطاب کیا اور اپنے امیدواروں کے حق میں روڈ شوز بھی منعقد کئے ۔ شام پانچ بجے یہاں انتخابی مہم کا اختتام عمل میں آیا اور 230 رکنی نئی اسمبلی کی تشکیل کیلئے چہارشنبہ کو ووٹ ڈالے جائیں گے ۔ انتخابی میدان میں جملہ 2,907 امیدوار میدان میں ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی ‘ کانگریس کے صدر راہول گاندھی اپنی اپنی جماعتوں کی انتخابی مہم کے روح رواں رہے اور انہوں نے کئی انتخابی ریلیوں سے ریاست بھر میں خطاب کیا ۔ انتخابی مہم کے دوران ایک دوسرے پر الزامات اور جوابی الزامات کا سلسلہ جاری رہا اور سیاسی ماحول انتہائی گرم ہوگیا تھا ۔ انتخابی مہم کے دوران قومی اور ریاستی مسائل چھائے رہے ۔ اس دوران رافیل معاملت ‘ نوٹ بندی ‘ ترقیاتی امور ‘ جی ایس ٹی ‘ کرپشن ‘ موروثی سیاست اور شیوراج سنگھ حکومت کی کارکردگی کو سیاسی جماعتوںن نے موضوع بحث بنایا ۔ بی جے پی کے صدر امیت شاہ نے بھی ریاست میں مہم میں حصہ لیا جہاں ان کی پارٹی لگاتار چوتھی معیاد کیلئے کوشاں ہے جبکہ کانگریس نے بھی پوری شدت کے ساتھ مقابلہ کیا ہے ۔ جہاں بی جے پی کو یقین ہے کہ وہ چوتھی معیاد کیلئے منتخب ہوجائیگی وہیں اپوزیشن کانگریس نے بھی اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ ریاست میں تبدیلی کی لہر چل پڑی ہے اور کانگریس پارٹی یہاں تین معیادوں کے بعد اقتدار چھیننے میں کامیاب ہوجائے گی ۔ اس دوران کہا گیا ہے کہ مدھیہ پردیش اسمبلی انتخابات کیلئے تمام تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔ ریاست میں 1.80 لاکھ سکیوریٹی اہلکاروں کو انتخابات کے آزادانہ اور منصفانہ انعقاد کو یقینی بنانے متعین کیا گیا ہے ۔ چیف الیکٹورل آفیسر وی ایل کانتا راو نے کہا کہ 3,00,782 سرکاری ملازمین کو انتخابی ڈیوٹی پر متعین کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سخت ترین سکیوریٹی انتظامات بھی کئے جا رہے ہیں تاکہ رائے دہی کے دوران کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے ۔ مرکزی نیم فوجی دستوں سمیت جملہ 1.80 لاکھ سکیوریٹی اہلکاروں کو انتخابی ڈیوٹی کیلئے متعین کیا گیا ہے ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT