Tuesday , June 19 2018
Home / اداریہ / مدھیہ پردیش میں بھی بی جے پی ناکام

مدھیہ پردیش میں بھی بی جے پی ناکام

رنج کا خوگر ہوا انساں تو مٹ جاتا ہے رنج
مشکلیں اتنی پڑیں مجھ پر کہ آساں ہوگئیں
مدھیہ پردیش میں بھی بی جے پی ناکام
گذشتہ دنوں راجستھان میں ہوئے ضمنی انتخابات کے بعد اب مدھیہ پردیش کے ضمنی انتخابات میں بھی کانگریس پارٹی نے اپنی دو اسمبلی نشستوں پر قبضہ برقرار رکھا ہے اور یہاں ان دونوں نشستوں کو کانگریس سے چھین لینے کی بی جے پی نے ہر ممکن کوشش کی ۔ پارٹی کی جانب سے یہاں جارحانہ انتخابی مہم چلائی گئی ۔ پارٹی کے تمام اعلی اور سینئر قائدین نے مہم چلائی ۔ حد تو یہ ہے کہ خود چیف منسٹر شیوراج سنگھ چوہان نے بھی یہاں مہم چلائی اور کانگریس اور خاص طور پر جیوتر آدتیہ سندھیا کو ہزیمت کا شکار کرنے کی کوشش کی لیکن وہ ناکام ہوگئے ۔ حلقہ لوک سبھا گنا کے تحت آنے والی دو اسمبلی نشستوں ہنگاؤلی اور کولارس میں کانگریس کے امیدواروں کی موت کی وجہ سے ضمنی انتخاب ہوئے تھے اور بی جے پی نے اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش میں زبردست مہم چلائی تھی لیکن اسے ناکام ہوئی ہے ۔ یہ ناکامی اس لئے اہمیت کی حامل ہے کیونکہ یہاں بھی سال کے اواخر میں اسمبلی انتخابات ہوسکتے ہیں۔ اسمبلی انتخابات سے قبل کانگریس کیلئے یہ کامیابی حوصلے بلند کرنے کا باعث بن سکتی ہے اور بی جے پی کیڈر کے حوصلے پست ہوسکتے ہیں۔ اسی طرح راجستھان میں ہوئے دو لوک سبھا اور ایک اسمبلی حلقہ کیلئے ضمنی انتخاب میں تو کانگریس نے بی جے پی کو چار شانے چت کردیا تھا ۔ یہ تینوں ہی حلقے بی جے پی کے تھے اور بی جے پی ارکان کے انتقال کی وجہ سے یہاں ضمنی انتخاب ہوا تھا ۔ ان تینوں حلقوں میں کانگریس نے بی جے پی کو شکست دیتے ہوئے یہ حلقے اس سے چھین لئے تھے ۔ اس اعتبار سے ہندی پٹی میں انتہائی اہمیت کی حامل ان دو ریاستوں میں یہ تاثر عام ہوتا جا رہا ہے کہ یہاں کانگریس کا موقف مستحکم ہوتاجارہا ہے اور بی جے پی کی حکومتیں اپنی عوامی تائید سے محروم ہو رہی ہیں۔ راجستھان میں تو بی جے پی کی پہلی معیادہی چل رہی ہے اور اسی میں عوام اس سے ناراض ہونے لگے ہیں۔ مدھیہ پردیش میں شیوراج سنگھ چوہان تین معیادوں سے وزارت اعلی پر فائز ہیں اور ان کے خلاف عوامی مخالفت یا برہمی پھر قابل فہم کہی جاسکتی ہے ۔ کانگریس کیلئے تاہم یہ نتائج حوصلہ افزا کہے جاسکتے ہیں اور اس سے پارٹی کیڈر میں نئی جان پیدا کرنے میں مدد مل سکتی ہے اور پارٹی کے امکانات بہتر ہوسکتے ہیں۔
راجستھان اور مدھیہ پردیش پڑوسی ریاستیں ہیں اور یہ ہندی پٹی کی اہم ریاستیں سمجھی جاتی ہیں۔ جس طرح یو پی میں کامیابی سے مرکز میں اقتدار حاصل کرنے میں سہولت ہوتی ہے اسی طرح ان دونوں ریاستوں میں کامیابی بھی اہمیت کی حامل ہے ۔ اب جبکہ آئندہ لوک سبھا انتخابات کیلئے زیادہ وقت نہیں رہ گیا ہے ایسے میں اگر کانگریس اسی طرح سے اپنے موقف میں بہتری اور استحکام کیلئے کام کرتی رہے تو پھر اسے نہ صرف جاریہ سال کے اواخر تک ہونے والے مجوزہ اسمبلی انتخابات میں بلکہ آئندہ سال ہونے والے عام انتخابات میں بھی کامیابی مل سکتی ہے ۔ بی جے پی کی ریاستی اور مرکزی حکومتوں کے خلاف عوام کے دل و دماغ میں جو ناراضگی ہے اور انہیں جو مسائل درپیش ہو رہے ہیں ان کو اگر کانگریس کامیاب انداز میں اور ایک جامع حکمت عملی کے ساتھ اجاگر کرنے میں کامیابی حاصل کرتی ہے اور عوام میں حکومت کے خلاف اس ناراضگی کو برقرار رکھا جاتا ہے تو بی جے پی کی جو مسلسل کامیابیوں کا سفر چل رہا ہے اس کو روکا جاسکتا ہے ۔ ویسے تو گجرات میں جس طرح بی جے پی کو بمشکل اقتدار مل سکا ہے اس سے ہی یہ تاثر عام ہوتا جا رہا ہے کہ بی جے پی کی مقبولیت کا گراف بڑی تیزی سے گھٹ رہا ہے اور کانگریس اپنا کھویا ہوا وقار بحال کرنے کے سفر پر پیشرفت کر رہی ہے ۔ راجستھان اور مدھیہ پردیش میںبھی کانگریس اگر اچھی کارکردگی دکھانے میں کامیاب ہوتی ہے اور یہاں بی جے پی کو شکست دیتی ہے تو پھر اس کیلئے آئندہ عام انتخابات کا سامنا کرنا زیادہ مشکل نہیں رہ جائیگا ۔
جس طرح سے بی جے پی پوری کوششوں کے بعد بھی گجرات میں بمشکل اپنی اقتدار بچا پائی ہے اور کانگریس نے اپنے موقف میں بہترین استحکام پیدا کیا ہے اسی طرح راجستھان سے بھی پارٹی کیلئے مثبت اشارے ہیں۔ یہی اشارے اب مدھیہ پردیش تک بھی پھیلنے لگے ہیں۔ اوڈیشہ میں بھی ایک اسمبلی حلقہ کیلئے ضمنی انتخاب ہوا تھا اور یہاں بھی بی جے پی نے شدت سے اور جارحانہ انداز میں مہم چلائی تھی لیکن یہاں بھی اسے کامیابی نہیں مل سکی ہے ۔ ایسے میں اگر اپوزیشن جماعتیں اور خاص طور پر کانگریس پارٹی ایک جامع منصوبہ بندی اور حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھتی ہیں اور بی جے پی کو ناکام بنانے کے ایک نکاتی ایجنڈہ پر عمل پیرا ہوتی ہیں تو اس بات کو نا ممکن نہیں کہا جاسکتا کہ آئندہ عام انتخابات میں بی جے پی کو شکست دی جاسکتی ہے ۔ اس کیلئے بہار کی مثال بھی موجود ہے ۔ بحیثیت مجموعی بی جے پی کیلئے عام انتخابات کا سامنا کرنا آسان نہیںرہے گا ۔

TOPPOPULARRECENT