Sunday , November 18 2018
Home / اداریہ / مدھیہ پردیش میں بی جے پی کو مشکلات

مدھیہ پردیش میں بی جے پی کو مشکلات

مانگنے والے سبھی ہیں نذر مانگیں یا خراج
دینے والے کی نظر میں میر و سلطاں سب گدا
مدھیہ پردیش میں بی جے پی کو مشکلات
بی جے پی کو استحکام بخشنے والی ریاست مدھیہ پردیش میں ایسا لگتا ہے کہ برسر اقتدار زعفرانی جماعت کیلئے مشکلات پیدا ہوتی جا رہی ہیں۔ تین معیادوں سے چیف منسٹر رہنے والے شیوراج سنگھ چوہان کی گرفت اب کمزور پڑنے لگی ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ ریاست میں بی جے پی اپنے عروج کی انتہا کو پہونچنے کے بعد اب عوام کی ناراضگی کا سامنا کرنے لگی ہے ۔ گذشتہ مہینے گجرات میں ہوئے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی ساری طاقت جھونک دینے کے باوجود اپنے مقررہ نشانہ کو حاصل نہیں کرسکی ہے اور اسے کانگریس نے سخت ترین مقابلہ دیا تھا اور سرکاری مشنری ہونے کی وجہ سے بی جے پی بمشکل تمام اپنی کرسی اور اقتدار کو بچاپائی ہے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے مسلسل گجرات دورے ‘ پارٹی صدر امیت شاہ کی توڑ جوڑ اور پیسے و دولت کے بے تحاشہ استعمال کی وجہ سے بی جے پی گجرات میں اپنا اقتدار بچاسکی ہے ورنہ اسے وہاں ہزیمت اٹھانی پڑتی ۔ اب ایسا لگتا ہے کہ گجرات کے بعد بی جے پی کیلئے مدھیہ پردیش میں پیدا ہونے لگی ہیں۔ مدھیہ پردیش میں مجالس مقامی انتخابات میں بی جے پی کو کانگریس نے کراری شکست سے دوچار کردیا ہے اور بی جے پی کی ایک چھوٹی سی بلدی کامیابی پر ملک بھر میں شور پکارا کرنے والا میڈیا اس تعلق سے ایک طرح سے مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے اور وہ اپنے پیشہ کی دیانتداری اور انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے میں یکسر ناکام ہے ۔ یہ میڈیا کی ناکامی سے زیارہ اس کی فتور ذہنی کی علامت ہے ۔ حالیہ وقتوں میں جہاں کہیں ضمنی انتخاب ہوئے ہیں اور مجالس مقامی کیلئے پولنگ ہوئی ہے کانگریس نے اپنے سابقہ موقف میں بہتری پیدا کی ہے اور بی جے پی کی نہ صرف نشستوں کی تعداد بلکہ اس کے ووٹوں کے تناسب میں بھی کمی آئی ہے ۔ اس کے باوجود میڈیا میں جو رپورٹس پیش کی جا رہی ہیں وہ حیرت انگیز ہیں اور اس سے بی جے پی کے زر خرید میڈیا کی ذہنیت کی عکاسی ہوتی ہے ۔ مدھیہ پردیش میں گذشتہ دنوں مجالس مقامی انتخابات ہوئے اور پارٹی کے مضبوط گڑھ سمجھے جانے والے علاقوں میں اسے بری شکست سے دو چار ہونا پڑا ہے ۔ چھ بلدیات میںسے چار میں بی جے پی کو شکست ہوئی ہے ۔ یہاں کانگریس کو زبردست عوامی تائید ملی ہے ۔
کانگریس کی کامیابی سے اشارے ملتے ہیں کہ چیف منسٹر شیوراج سنگھ چوہان کی مقبولیت میں کمی آئی ہے ۔ خاص طور پر شہری علاقوں میں بی جے پی کو مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ پارٹی کو یہی صورتحال گجرات میں بھی درپیش تھی ۔ دیہی علاقوں میں حالانکہ اسے قابل لحاظ عوامی تائید ملی لیکن شہری علاقوں میں اس کو عوام کی برہمی کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔ بی جے پی کی یہ شکست اس لئے بھی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ ریاست میں جاریہ سال ہی اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ بی جے پی یہاں تین مرتبہ سے اقتدار حاصل کرتی جا رہی ہے ۔ کانگریس نے مرکز میں اقتدار رکھتے ہوئے بھی یہاں اقتدار حاصل کرنے کی کوشش میں کامیابی حاصل نہیں کی تھی ۔ ایسا لگتا ہے کہ حالات اب بتدریج تبدیل ہوتے جا رہے ہیں۔ جہاں تین معیادوں کی حکمرانی کے بعد عوام میں مخالف حکومت لہر پیدا ہو رہی ہے وہیں کانگریس میں حالیہ عرصہ میں جو تبدیلیاں ہوئی ہیں ان کا بھی رائے دہندوں پر اثر ہونے لگا ہے ۔ کانگریس کی قیادت کیلئے جہاں راہول گاندھی نے ذمہ داری سنبھال لی ہے وہیں ریاست میں جیوتر آدتیہ سندھیا کو کو بڑھاوا دیا جا رہا ہے اور ان کی نوجوان قیادت میں عوام کو پارٹی سے قریب لانے کی مہم شروع کی گئی ہے ۔ کانگریس کی ان کوششوں میں سینئر قائدین کو تال میل کرنے اور نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرنے کی ضرورت ہے اور اس تعاون و اشتراک کے ذریعہ ہی ریاست میں پارٹی اپنے انتخابی امکانات کو بحال کرسکتی ہے اور عوام کو پارٹی سے قریب لانے کی اس کی کوششوں میں کامیابی مل سکتی ہے ۔
بی جے پی کو بلدی انتخابات میںراگھو گڑھ ‘ مناور ‘ بروانی اور دھار بلدیات میں کامیابی ملی ہے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ سینئر کانگریس لیڈر ڈگ وجئے سنگھ کے آبائی مقام راگھو گڑھ میں کانگریس نے 24 کے منجملہ 20 وارڈز میں کامیابی حاصل کی ہے ۔ یہ کامیابی اس لئے بھی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ ڈگ وجئے سنگھ بی جے پی اور آر ایس ایس کے کٹر مخالفین میں شمار کئے جاتے ہیں اور کھلے عام شدید تنقیدیں کرتے ہیں۔ ایسے میں اگر کانگریس کو یہاں کامیابی ملتی ہے تو یہ بی جے پی کیلئے واقعتا تشویش کی بات ہوسکتی ہے ۔ چیف منسٹر شیوراج سنگھ چوہان اپنی پارٹی کی ناکامی کیلئے باغی امیدواروں کو ذمہ دار قرار دیتے ہیں لیکن انہیں اس بات کو تسلیم کرنا ہوگا کہ اب ان کی گرفت کمزور ہونے لگی ہے اور تین معیادوں کی حکومت کے بعد ریاست کے عوام میں حکومت کے خلاف برہمی پیدا ہونے لگی ہے اور یہ برہمی اسے اسمبلی انتخاب میں بھی مشکل پیدا کرسکتی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT