Tuesday , November 21 2017
Home / ہندوستان / مدھیہ پردیش میں ضمنی انتخابات

مدھیہ پردیش میں ضمنی انتخابات

نوٹوں کی منسوخی ووٹوں پر اثر انداز ہونے کا اندیشہ
بھوپال ۔ 17 ۔ نومبر : ( سیاست ڈاٹ کام ) : شاہوڈل لوک سبھا اور نیپانگر اسمبلی نشست کے لیے انتخابی مہم آج شام اختتام پذیر ہوگی ۔ جہاں پر 19 نومبر کو ضمنی چناؤ منعقد ہوں گے ۔ اور یہ انتخابات حکمران بی جے پی کے لیے 500 اور 1000 روپئے کے نوٹوں کی منسوخی کے پیش نظر سخت آزمائش ثابت ہوں گے ۔ کیوں کہ حکومت کے اس اقدام سے عوام میں زبردست برہمی پائی جاتی ہے ۔ ایک کانگریس لیڈر نے بتایا کہ درج فہرست قبائل کے لیے مختص دونوں حلقوں کے ضمنی انتخابات میں کامیابی بی جے پی کے لیے اہمیت کا حامل ہے ۔ اگر کسی ایک نشست سے ناکامی کی صورت میں یہ تصور کیا جائے گا کہ اعلیٰ قدر کی نوٹوں کی منسوخی کے فیصلہ کو عوام نے قبول نہیں کیا ہے تاہم بی جے پی لیڈر نے یہ اعتماد ظاہر کیا کہ قابل لحاظ اکثریت سے ان کی پارٹی دونوں نشستوں پر کامیابی حاصل کرلے گی اور یہ ادعا کیا کہ نوٹوں کی منسوخی کا مسئلہ انتخابی امکانات پر اثر انداز نہیں ہوگا ۔ مدھیہ پردیش کانگریس کمیٹی صدر ارون یادو نے کہا کہ آمرانہ اقدام کی وجہ سے عوام کو سنگین مسئلہ درپیش ہے ۔ عام آدمی اور کسان طویل قطاروں میں ٹھہرے ہیں جب کہ کھاد اور تخم خریدنے کے لیے کسانوں کے پاس رقم بھی نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ اس فیصلہ سے اتفاق نہیں کرتے یقیناً وہ بی جے پی کے خلاف ووٹ دیں گے ۔ کانگریس لیڈر نے بتایا کہ حکومت نے 24 گھنٹے برقی سربراہی کا بلند بانگ دعویٰ کررہی ہے لیکن ترقیاتی سرگرمیاں نہ ہونے سے عوام مایوس ہیں اور کرنسی نوٹوں کی منسوخی سے برہمی میں تبدیل ہوگئی ہے ۔ تاہم بی جے پی لیڈر اور صدر نشین مدھیہ پردیش اسٹیٹ سیول سپلائز کارپوریشن لمٹیڈ ڈاکٹر ہتیش باجپائی نے کہا کہ قبائیلی اکثریتی علاقوں ( ضمنی انتخابات کے حلقوں ) میں نوٹوں کی منسوخی کوئی مسئلہ نہیں ہے جہاں پر غذائی اجناس کی دستیابی سے عوام بہت خوش ہیں ۔ قبل ازیں پارلیمانی حلقہ شاھڈول سے بی جے پی نے 2 لاکھ ووٹوں کی اکثریت سے کامیابی حاصل کی تھی ۔۔

TOPPOPULARRECENT