Sunday , November 19 2017
Home / اداریہ / مدھیہ پردیش میں پولیس فائرنگ

مدھیہ پردیش میں پولیس فائرنگ

پیٹ سب کا اناج سے بھر کر
گولیاں کھانا کیا مقدر ہے
مدھیہ پردیش میں پولیس فائرنگ
مدھیہ پردیش کے ضلع منڈسور میں پولیس فائرنگ سے 5 افراد کی ہلاکت کا سیاسی طوفان اٹھنا یقینی تھا۔ کسانوں کے احتجاج کو کچلنے کیلئے بی جے پی حکومت نے طاقت کا استعمال کیا۔ ملک بھر میں کسانوں کے مسائل کو نظرانداز کردینے کی غلطی ایک دن مرکزی حکومت کیلئے مہنگی ثابت ہوسکتی ہے۔ ٹاملناڈو کے کسان دارالحکومت دہلی میں جنترمنتر پر احتجاج کرتے رہے اور وزیراعظم نریندر مودی نے انہیں نظرانداز کردیا۔ بی جے پی کی حکمرانی والی ریاست مدھیہ پردیش میں پولیس پر الزام ہیکہ اس نے پرامن احتجاج کرنے والے کسانوں کو نشانہ بنایا ہے۔ مجسٹریٹ نے فائرنگ واقع کی تحقیقات کا حکم دیا مگر اس سے انسانی جانوں کے اتلاف کی تلافی تو نہیں ہوسکے گی۔ کانگریس نے اس مسئلہ کو گرمانے کیلئے ریاست گیربند کا اعلان کیا تھا۔ نائب صدر کانگریس راہول گاندھی متوفی کسانوں کے ورثا سے ملاقات کرکے تعزیت پیش کرنا چاہتے تھے مگر پولیس نے انہیں منڈسور جانے سے روک دیا اور حراست میں لیا گیا۔ وہ پولیس کو چکمہ دے کر کار کے بجائے موٹر سیکل پر سوار ہونے اور ایک کے بعد دوسری موٹر سیکل تبدیل کرکے منڈسور پہنچنا چاہتے تھے مگر پولیس نے انہیں روک لیا اور گیسٹ ہاؤز منتقل کردیا۔ حکمراں بی جے پی نے کانگریس کے اس احتجاج کو سیاسی فائدہ حاصل کرنے کیلئے کسانوں کے احتجاج کا استعمال کرنے کا الزام عائد کیا جبکہ اسے یہ مسئلہ آگ کا شعلہ بننے نہیںد ینا چاہئے تھا۔ مدھیہ پردیش میں اس کی حکومت ہے اور کسان اپنے مسائل کی یکسوئی کیلئے سڑکوں پر نکل آئے تھے۔ فصلوں کی بہتر قیمت اور قرضوں میں راحت کا مطالبہ کوئی نیا نہیں ہے۔ حکومتیں اپنے علاقوں کے مسائل اور کسانوں کی شکایات کی سماعت کرتے ہوئے ان کی یکسوئی کرتی آرہی ہیں مگر حکمراں بی جے پی کو شاید اپنی قومی طاقت پر ضرورت سے زیادہ زعم ہے اس لئے اس نے کسانوں کو پولیس کی گولیوں کا شکار بنادیا۔ اسی وجہ سے اپوزیشن کانگریس کو یہ مسئلہ اٹھانے کا موقع مل گیا۔ راہول گاندھی نے مودی کو اس بات پر نشانہ بنایا ہیکہ مودی پیسوں کو لہرا کر اپنی خوشحالی اور شان و شوکت کا مظاہرہ کررہے ہیں مگر کسانوں کو راحت پہنچانے میں ناکام ہوچکے ہیں۔ وہ راحت نہیں بلکہ کسانوں کو پولیس کی گولیاں دے رہے ہیں۔ اپوزیشن لینڈر کو متاثرہ کسانوں کے ارکان خاندان سے ملاقات کی اجازت نہ دینا ایک غیرجمہوری عمل ہے۔ ملک میں اس وقت ایمرجنسی تو نافذ نہیں ہے پھر پولیس اپوزیشن قائدین کے ساتھ ایمرجنسی جیسے حالات کا برتاؤ کیوں کررہی ہے۔ ملک میں زرعی مسائل میں اضافہ تشویشناک بات ہے۔ حکومت ان مسائل کو حل کرنے سے قاصر ہے تو پھر زرعی بحران کے ذریعہ ملک کو معاشی انحطاط کا شکار ہونا پڑے گا۔ ملک میں زراعت کا مسئلہ ہر سال مانسون کے موقع پر نمودار ہوتا ہے۔ تقریبا 60 تا 70 فیصد خریف کی فصلیں بارش پر انحصار کرتی ہیں۔ اگر مانسون معمول کے مطابق یا معمول سے تھوڑا کم بھی ہو تو کسان ان حالات سے نمٹنے میں کامیاب ہوتے ہیں مگر جب مانسون مکمل ناکام ہوجائے تو کسانوں کی سال بھر کی محنت بغیر پانی کے خشک ہوجاتی ہے۔ مرکز اور ریاستی حکومتیں سالانہ بجٹ میں زرعی شعبہ کی ترقی کیلئے بجٹ مختص کرنے اور کسانوں کی بہبود و راحت والی پالیسیاں لانے کا اعلان کرتی ہیں مگر عملی طور پر یہ کسانوں کے چہروں سے عیاں نہیں ہوتا کیونکہ ان تک راحت پہنچائی نہیں جاتی۔ مدھیہ پردیش کی طرح مہاراشٹرا میں بھی کسانوں کے مسائل یکساں ہیں۔ یوپی انتخابات کے دوران بھی کسانوں کے مسائل اکھٹا کئے گئے تھے مگر بی جے پی نے چالاکی سے یوپی کے کسانوں کا ذہن دوسری جانب مبذول کرواکر کامیابی حاصل کرلی۔ کسانوں کے فصلوں کی تباہی کی صورت میں مالی امداد کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ فصلوں کیلئے اقل ترین امدادی قیمت کا تعین بھی حکومت کرتی ہے مگر جب ادائیگیوں کی بات آئی ہے تو یہ صرف چاول اور گیہوں کی فصل کیلئے ادا کی جاتی ہے ایسے میں دوسری اشیاء پیدا کرنے والے کسانوں کو نقصان سے دوچار ہونا پرتا ہے۔ مدھیہ پردیش کے کسانوں نے بھی اپنے دیرینہ مسائل کی یکسوئی کا مطالبہ کیا تھا مگر بی جے پی حکومت نے ان پر گولیاں برسا کر مخالف کسان پالیسی رکھنے کا ثبوت دیاہ ے۔ اس طرح ملک کی معاشی ترقی کے ایک شعبہ کو نظرانداز کرنا بھیانک غلطی ہے۔ اس مسئلہ کا استقدامی حل تلاش کرکے ریاستی حکومتوں کے ساتھ مل کر راحت اقدامات کرنے چاہئے۔ یہ بھی بڑی بدبختی کی بات ہیکہ کسانوں کو اپنے مسائل اور شکایات اٹھانے کیلئے تشدد کا سہارا لینا پڑ رہا ہے لیکن ان کا غم و غصہ قابل فہم ہے کیونکہ ان کی جانب حکومت کی عدم توجہی نے انہیں مضطرب کر چھوڑا ہے۔

TOPPOPULARRECENT