Wednesday , September 26 2018
Home / اضلاع کی خبریں / مدہول میں انتخابات کے پیش نظر سیاسی سرگرمیوں کا آغاز

مدہول میں انتخابات کے پیش نظر سیاسی سرگرمیوں کا آغاز

مدہول ۔17جنوری ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) عنقریب پارلیمنٹ اور اسمبلی کے انتخابات ہوں گے جس کے پیش نظر سیاسی قائدین حرکت میں آچکے ہیں ‘ اس کے ساتھ ساتھ سرکاری طور پر بھی انتخابات کی تیاریوں کا آغاز کردیا گیا ۔ سیاسی قائدین کو اپنی اپنی پارٹیوں کے ٹکٹ کے حصول اور پارٹی کی تشہیر کیلئے کمربستہ ہوچکے ہیں ۔گذشتہ پانچ سالوں میں عوام کے اتنے قریب

مدہول ۔17جنوری ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) عنقریب پارلیمنٹ اور اسمبلی کے انتخابات ہوں گے جس کے پیش نظر سیاسی قائدین حرکت میں آچکے ہیں ‘ اس کے ساتھ ساتھ سرکاری طور پر بھی انتخابات کی تیاریوں کا آغاز کردیا گیا ۔ سیاسی قائدین کو اپنی اپنی پارٹیوں کے ٹکٹ کے حصول اور پارٹی کی تشہیر کیلئے کمربستہ ہوچکے ہیں ۔گذشتہ پانچ سالوں میں عوام کے اتنے قریب نہیں تھے جتنا کہ اب نظر آرہے ہیں ‘ ہر کوئی اب وعدے بھی کریں گے ‘ بعد میں بے وفائی بھی کریں گے ۔ بہرحال کسی طرح سے عوام کو اپنی طرف راغب کرنے کی ہر ایک کو فکر ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ مقامی سیاسی لیڈرس ایک پارٹی سے دوسری پارٹی میں چھلانگ لگائیں گے چونکہ انکو اپنے ذاتی مفادات سے محبت ہے وہ صرف عوام کو زبانی بڑے بڑے دعوے کرتے ہوئے نظر آئیں گے اور جہاں پر ان کے مفادات کی تکمیل ہوتی ہے اس پارٹی میں ہی کام کریں گے ۔ جب بھی الیکشن ہوتے ہیں ان کیلئے ایک بہار کا موسم ہوتا ہے ۔ اس موسم میں جتنا فیض یاب ہوسکتے ہیں ہو جائیں۔ ملت ‘ قوم ‘ مذہب مسلمانوں کے مفادات سب کو نظرانداز کردیا جاتا ہے ‘ صرف اور صرف اپنا ذاتی مفاد مقدم ہوتا ہے لیکن بہت کم مسلمان ایسے ہوتے ہیں جو سمجھ بوجھ کر بغیر کسی کی باتمانے حق رائے دہی کا استعمال کرتیہیں جبکہ مسلم سیاسی قائدین اور مسلمانوں میں سمجھ بوھ سکنے والوں کی ذمہ داری ہوتی ہیکہ مسلمانوں کے حق میں کونسا قائد بہتر ہے اور کونسی پارٹی بہتر ہے‘اس کا فیصلہ حلقہ سطح مقامی سطح اور ضلعی سطح ‘ریاستی سطح پر کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔ اسی طرح حلقہ اسمبلی مدہول میں ہر پارٹی میں دو دو امیدوار دعویدار نظر آرہے ہیں اور ہر امیداور ٹکٹ کے حصول کیلئے ابھی سے اپنی کوشش شروع کرچکے ہیں ۔ پارٹی کسی کو ٹکٹ دے گی وہ پارٹی ہائی کمان فیصلہ کرے گی ۔ ضلع عادل آباد میں کانگریس پارٹی میں زبردست پھوٹ ہے جس کے سبب دو گروپ ہوچکیہیں ۔

مدہول حلقہ میں بھی ہر پارٹی میں دو گروپ ہوچکے ہیں ‘کچھ ظاہری اورکچھ اندرون ہے ۔ حلقہ اسمبلی مدہول سے کانگریس پارٹی میں بی نارائن راؤ پٹیل سابق رکن اسمبلی مدہول دوسرے سینئر کانگریس پارٹی لیڈر جی وٹھل ریڈی پارٹی میں مسٹر وجئے کمار ٹی آر ایس کنوینر حلقہ مدہول مسٹر وینو گوپال چاری رکن اسمبلی مدہول تلگودیشم پارٹی سے ٹی آر ایس میں شامل ہوگئے ‘اب تلگودیشم پارٹی میں مسٹر نگر نارائن ریڈی کنوینر حلقہ اسمبلی مدہول ہے ۔ اس سے قبل بھی تلگودیشمپارٹی کیلئے انہوں نے بہت خدمت کی تھی لیکن مسٹر بی نارائن راؤ پٹیل کو ان کا ٹکٹ حاصل ہوگیا تھا ‘ وہ کامیاب بھی ہوئے تھے ۔ اس طرح تلگودیشم پارٹی اور بی جے پی سے مفاہمت ہوتی ہے تو ان کا ٹکٹ بی جے پی کو جاسکتا ہے ۔

اس طرح سیاسی پارٹیوں میں کشمکش نظر آرہی ہے اس لئے ہر کوئی ٹکٹ کے حصول کیلئے فکر مند ہے ۔ اس طرح سرکاری مشنری بھی اب متحرک ہوچکی ہے اور ضلعی اور حلقہ سطح پر آنے والے انتخابات کو کسی طرح بہتر انداز میں انجام دیا جائے ۔ اس کیلئے صلع کلکٹر عادل آباد نے ہر حلقہ اسمبلی کو ووٹر لسٹ میں نئے ناموں کے اندراج اور ناموں کی تصیح کا کام سونپ دیا اور ہر تعلقہ کو ووٹر لسٹ میں ناموں کے اندراج کا ٹارگٹ دیا گیا تھا ۔ اس طرح حلقہ اسمبلی مدہول کیلئے 27 ہزار نئے ووٹرس کا اضافہ کرنا تھا جس کے منجملہ 21912 ووٹرس کا اضافہ مکمل کیا گیا ۔ اس طرح حلقہ اسمبلی مدہول میں نئے ناموں کے اندراج اس طرح ہے ۔ مدہول 4480 ‘ بھینسہ 6589 ‘ کوبیر 4705 ‘کنٹالہ 2178 ‘ لوکشورم 1732 ‘ تانور 2137 ۔ اس طرح حلقہ مدہول کے چھ منڈلس میں 21ہزار 912 ووٹرس کا اضافہ ہوگیا جو 2014ء کے انتخابات میں نئے ووٹرس کو حق رائے دہی کا موقع فراہم ہوگا ۔ نئے ووٹرس اب کسی طرح اپنے حق رائے کا استعمال کرتے ہوئے حلقہ مدہول کو ترقی کی راہ ہموار کرنے میں مدد دیتے ہیں ۔ آنے والا وقت ہی حلقہ مدہول کی ترقی لائے گا یا پھر سابق کی طرح رہے گا یہ فیصلہ ووٹرس کریں گے ۔

TOPPOPULARRECENT