مدینہ منورہ کی ہوٹل میں آتشزدگی ، 15 معتمرین جاں بحق ، 130 زخمی

ریاض ۔ 8 ۔ فروری : ( سیاست ڈاٹ کام ) : مدینہ منورہ میں آج ایک افسوسناک سانحہ وقوع پذیر ہوا جہاں ایک ہوٹل میں اچانک آگ لگ گئی ۔ اس کی وجہ سے 15 معتمرین جاں بحق اور تقریبا 130 زخمی ہوگئے ۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق یہ حادثہ ہفتہ کی دوپہر پیش آیا ۔ اس ہوٹل میں تقریبا 700 معتمرین قیام کئے ہوئے تھے ۔ عہدیداروں نے جاں بحق ہونے والوں ک

ریاض ۔ 8 ۔ فروری : ( سیاست ڈاٹ کام ) : مدینہ منورہ میں آج ایک افسوسناک سانحہ وقوع پذیر ہوا جہاں ایک ہوٹل میں اچانک آگ لگ گئی ۔ اس کی وجہ سے 15 معتمرین جاں بحق اور تقریبا 130 زخمی ہوگئے ۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق یہ حادثہ ہفتہ کی دوپہر پیش آیا ۔ اس ہوٹل میں تقریبا 700 معتمرین قیام کئے ہوئے تھے ۔ عہدیداروں نے جاں بحق ہونے والوں کی شناخت نہیں کی اور صرف اتنا کہا کہ یہ تمام ادائیگی عمرہ کے بعد زیارت مدینہ منورہؐ کے لیے یہاں آئے ہوئے تھے ۔ مصر کے سرکاری ٹیلی ویژن سے علحدہ اطلاع میں بتایا گیا کہ تمام 15 جاں بحق ہونے والوں کا تعلق مصر سے ہے ۔ تفصیلات کے بموجب ہوٹل اشراق المدینہ میں آج دوپہر اچانک آگ لگ گئی ۔ چند گھنٹوں بعد آگ پر قابو پالیا گیا اور اس ہوٹل میں قیام کرنے والے دیگر معتمرین کو دوسری ہوٹل منتقل کردیا گیا ۔ حکام نے اس حادثہ کی تحقیقات شروع کردی ہے ۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ ہوٹل میں 2.33 بجے دن آگ لگی اور جاں بحق ہونے والوں کا تعلق مختلف ممالک بشمول مصر اور ترکی سے ہے ۔ سیول ڈیفنس کے آتش فرو عملہ نے 5 بجے شام تک آگ پر قابو پایا ۔

گورنر مدینہ پرنس فیصل بن سلمان نے اس واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیا ہے ۔ یہ معلوم کیا جارہا ہے کہ آگ لگنے کی وجوہات کیا تھیں ۔ ابتدائی رپورٹس میں یہ اشارہ ملا کہ شارٹ سرکٹ کے نتیجہ میں یہ سانحہ پیش آیا ۔ 30 زخمیوں کا برسر موقع علاج کیا گیا ۔ جب کہ دیگر کو کنگ فہد ہاسپٹل اور انصار ہاسپٹل منتقل کیا گیا ۔ کئی معتمرین کی دم گھٹنے کی وجہ سے موت واقع ہوئی ۔ بعض افراد جو آگ لگنے کی وجہ سے ہوٹل میں پھنس گئے تھے عمارت کی چھت پر چڑھ گئے ۔ ہوٹل کے سامنے بھی عوام کا ہجوم جمع ہوگیا تھا جس سے بچاؤ اقدامات میں مشکل ہورہی تھی ۔ ایک ہندوستانی خاتون معتمر جو متصل عمارت میں مقیم ہیں بتایا کہ وہ بعد ادائیگی نماز واپس ہورہی تھیں انہوں نے ہوٹل کی عمارت سے دھواں نکلتا دیکھا ۔ بعض لوگ کھڑکیوں سے مدد کے لیے پکار رہے تھے ۔

TOPPOPULARRECENT