Tuesday , December 11 2018

مذاکرات سے پہلے امریکہ اور یورپ کے نیوکلیئر ہتھیارکے خاتمہ کا ایرانی مطالبہ

تہران ۔4مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) ایران کی مسلح افواج کے ترجمان نے کہا ہے کہ ایران اس وقت تک اپنے بالسٹک میزائلوں کے بارے میں مذاکرات نہیں کرے گا جب تک امریکہ اور یورپ اپنے جوہری ہتھیار اور دور مار کرنے والے میزائل ختم نہیں کرتا۔ ایران نے اگرچہ اپنے ایٹمی پروگرام پر عالمی طاقتوں کے ساتھ معاہدہ کیا ہے لیکن وہ اپنے میزائل پروگرام پر بات جیت کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ایران کی خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق مسلح افواج کے ترجمان مسعود جزیری کا کہنا ہے ’ایران کے میزالوں پر بات چیت کے لیے شرط یہ ہے کہ امریکہ اور یورپ اپنے دور مار کرنے والے میزائل اور جوہری ہتھیار ختم کرے۔‘ایران کا کہنا ہے کہ اس کا میزائل پروگرام دفاعی نوعیت کا ہے اور ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان 2015 میں ہونے والے معاہدے کے ساتھ میزائل پورگرام کو کوئی تعلق نہیں ہے۔دوسری جانب ایران نے اس خبر کی تصدیق کی ہے کہ گذشتہ ماہ میونخ میں ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف اور سابق امریکی خارجہ جان کیری کی ملاقات ہوئی تھی۔امریکی اخبار دا نیو یارکر نے یہ خبر دی تھی کہ جان کیری نے ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف سے استدعا کی تھی کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ساتھ کشیدگی کے باوجود ایران 2015 میں ہونے والے ایرانی جوہری پروگرام کے معاہدے کو ختم نہ کرے۔امریکیوں کی خبر میں مزید کہا گیا ہے کہ اس ملاقات میں جان کیری کے علاوہ دیگر عالمی طاقتوں کے وہ افراد بھی موجود تھے جن کے ساتھ معاہدہ ہوا تھا۔خبر میں کہا گیا ہے کہ جان کیری نے ایران سے کہا کہ ٹرمپ انتظامہ جو بھی کہے ایران جوہری معاہدے کو ختم نہ کرے اور نہ ہی اس کی شرائط کی خلاف ورزی کرے۔

TOPPOPULARRECENT