Sunday , February 25 2018
Home / ہندوستان / ’’مذاکرات کی نہیں پاکستان کو منہ توڑ جواب دینے کی ضرورت ‘‘

’’مذاکرات کی نہیں پاکستان کو منہ توڑ جواب دینے کی ضرورت ‘‘

ابھی مناسب وقت نہیں ، بات ہوگی تو صرف مقبوضہ کشمیر پر ہوگی ، محبوبہ مفتی کی تجویز پر حلیف بی جے پی کا سخت ردعمل

جموں۔ 13 فبروری ۔( سیاست ڈاٹ کام ) جموں وکشمیر کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کے بیان کہ ’’تشدد کے خاتمے کے لئے پاکستان سے بات چیت لازمی ہے ‘‘ کے محض ایک روز بعد ریاستی حکومت کی حلیف بی جے پی نے آج کہا کہ موجودہ صورتحال میں پاکستان سے مذاکرات کی نہیں بلکہ اس کو منہ توڑ جواب دینے کی بات کی جانی چاہیے ۔ پاکستان کے ساتھ کب، کیسے اور کن معاملات پر بات ہونی چاہیے ،اُس کا فیصلہ کرنے کا حق صرف اور صرف مرکزی حکومت کو ہے ۔بی جے پی کے ترجمان اعلیٰ سنیل سیٹھی نے آج یہاں پارٹی ہیدکوارٹر پر ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ اگر پاکستان کے ساتھ کبھی بات چیت ہوگی تو وہ صرف اس کے قبضے والے کشمیر پر ہوگی۔ اس کو واپس حاصل کرنے پر ہوگی۔انہوں نے محبوبہ مفتی کا نام لئے بغیر کہا کہ سنجوان ملٹری اسٹیشن پر حملے سے یہ صاف ہوگیا کہ جنگجوؤں کو پاکستان کی مسلسل پشت پناہی حاصل ہے ۔ اس طرح کا رویہ ہو تو پاکستان کے ساتھ بات چیت کا کوئی جواز نہیں ہے ۔ بات چیت کے بجائے پاکستان کو منہ توڑ جواب دینے کی بات کی جانی چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ اگر کسی سیاسی حلقہ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ہندوستان کو پاکستان کے ساتھ بات کرنی چاہیے ، تو وہ وقت کی نزاکت کو دیکھے بغیر کیا ہوا مطالبہ ہے ۔بی جے پی ترجمان نے کہا کہ پاکستان سے بات چیت پر کوئی بھی فیصلہ کرنے کا حق صرف مرکز کو ہے ۔ یہ ایک خارجی معاملہ ہے۔انھوں نے کہا کہ موجودہ وقت میں پاکستان کے ساتھ بات چیت کا مطالبہ کرنا قومی مفاد میں نہیں ہے ۔ جب تک پاکستان جنگجوؤں اور علیحدگی پسندوں کی حمایت بند نہیں کرتا ہے ، تب تک اس کے ساتھ کوئی بات چیت ممکن نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان کے ساتھ کبھی بات چیت ہوگی تو وہ صرف اس کے قبضے والے کشمیر پر ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی یہ سوچ ہے کہ پاکستان کے ساتھ بات چیت صرف پارلیمنٹ میں منظور شدہ قرارداد کے مطابق ہی ہونی چاہیے ۔اس پارلیمانی قرارداد کو تمام جماعتوں نے متحد ہوکر منظور کیا تھا۔ اس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ بات چیت صرف اس کے قبضے والے کشمیر پر ہوگی۔ بات چیت کے ذریعہ پاکستان سے کہا جائے گا کہ وہ پی او کے (مقبوضہ کشمیر ) کو خالی کرے ۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ اگر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کوئی حل طلب مسئلہ ہے تو وہ پاکستان زیر قبضہ کشمیر کا مسئلہ ہے۔بی جے پی ترجمان نے اسمبلی میں گذشتہ روز ’پاکستان زندہ باد ‘کا نعرہ لگانے والے نیشنل کانفرنس رکن اسمبلی محمد اکبر لون کے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ لون صاحب کیخلاف سخت کاروائی کی جانی چاہیے ۔ اگر کاروائی نہیں کی گئی تو ایسے واقعات آئندہ بھی پیش آئیں گے ۔واضح رہے کہ ریاستی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے گذشتہ ڈیڑھ ماہ کے دوران متعدد مرتبہ پاکستان سے مذاکرات شروع کرنے کی وکالت کی ہے ۔ انہوں نے پیر کو اپنے ایک ٹویٹ میں کہا تھا ’’تشدد کے خاتمے کے لئے پاکستان سے بات چیت لازمی ہے ۔ میں جانتی ہوں یہ کہنے پر مجھے آج شام نیوز اینکرز قوم دشمن قرار دیں گے لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ جموں وکشمیر کے لوگ مصیبت میں ہیں۔ ہمیں بات چیت کرنا ہوگی‘‘۔

TOPPOPULARRECENT