Monday , December 18 2017
Home / دنیا / مذہبی آزادیوں سے محروم شہری مجرم بن جاتے ہیں: امریکہ

مذہبی آزادیوں سے محروم شہری مجرم بن جاتے ہیں: امریکہ

واشنگٹن ۔ 10 اگست (سیاست ڈاٹ کام) دنیا بھر میں مذہبی تعصب میں اضافہ کے دوران امریکہ نے آج کہا کہ جب کوئی حکومت مذہبی آزادی سے اپنے شہریوں کو محروم کردیتے ہے تو ان کا مجرم بن جانا غلط نہیں ہوتا۔ بین الاقوامی مذہبی آزادی برائے سال 2015ء کے زیرعنوان نائب وزیرخارجہ امریکہ انتھونی بلنکن نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ نفرت، مایوسی، الگ تھلگ کردیئے جانے کے نتیجہ میں کشیدگی پیدا ہوتی ہے اور مذہبی آزادی سے محروم شہری مجرم بن جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر معاشرہ زیادہ طاقتور، زیادہ مالدار، زیادہ محفوظ اور زیادہ مستحکم ہونا چاہتے ہیں تو انہیں اپنے شہریوں کو وہ تمام حقوق فراہم کرنے چاہئیں جن کے وہ مستحق ہیں۔ کمزوری، مذہبی تکثیریت ہر شہری کے مذہبی عقائد کا اہتمام اور انہیں مذہبی آزادی فراہم کرنے سے پورا معاشرہ کامیاب ہونے کا یقین ہوجاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری سالانہ رپورٹوں کا مرکز توجہ خاص طور پر حکومتوں کی کارروائیاں ہیں

لیکن ہم نے یہ بھی دیکھا ہیکہ غیرسرکاری عناصر بشمول دہشت گرد تنظیمیں جیسے داعش، القاعدہ، الشباب، بوکوحرم مذہبی آزادی کیلئے ایک بڑا خطرہ بن گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک مذہب کے پیرو دوسرے مذہب کے پیروؤں سے نفرت کرنے لگے ہیں۔ یہ صورتحال کسی ایک دیہات، بس یا کلاس روم تک محدود نہیں ہے۔ ایک گروپ کے ارکان دوسرے گروپ کے ارکان کو قتل کرنا یا غلام بنا لینا چاہتے ہیں۔ امریکی سفیر برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی ربی ڈیوڈ ناتھن ساپراسٹین نے کہا کہ یہ رپورٹ خون سرد کردینے والے انکشافات کرتی ہے۔ اہانت مذہب والے قوانین اکثر ردعمل پیدا کرتے ہیں اور قتل و خون کا بازار گرم ہوجاتا ہے۔ دنیا کے کئی علاقوں میں جہاں بھی ایسے قوانین موجود ہیں یہی ہورہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT