Tuesday , November 21 2017
Home / ہندوستان / مذہبی تہواروں میں عدلیہ کی بیجا مداخلت

مذہبی تہواروں میں عدلیہ کی بیجا مداخلت

’ دہی ہانڈی ‘پر سپریم کورٹ کی تحدیدات پر راج ٹھاکرے کا ردعمل
ممبئی۔/18اگسٹ، ( سیاست ڈاٹ کام ) مہاراشٹرا نو نرمان سینا کے سربراہ راج ٹھاکرے نے آج ’ دہی ہانڈی ‘ تہوار میں نابالغ لڑکوں کی شمولیت پر سپریم کورٹ کی پابندی پر ذہنی تحفظات کا اظہار کیا ہے اور کہا کہ رسم و رواج اور ثقافتی معاملوں میں مداخلت سے عدالتوں کو باز آجانا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ عدالتوں کو مذہبی تہواروں میں مداخلت نہیں کرنا چاہیئے جو کہ برسہا برس سے جاری ہیں۔ اگرعدالتیں تمام فیصلے کرنے لگیں تو اب اسمبلی اور لوک سبھا انتخابات کی ضرورت باقی نہیں رہے گی اور عدالتیں ہر ایک فیصلہ کیلئے مختار کُل بن جائیں گی۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے کل ممبئی ہائیکورٹ کے احکامات میں نرمی برتنے سے انکار کردیا تھا جس نے مہاراشٹرا میں ’ دہی ہانڈی ‘ تہوار میں 18سال سے کم عمر کے نوجوانوں کو حصہ لینے پر پابندی عائد کردی تھی اور ’ دہی ہانڈی ‘ پھوڑنے کیلئے اہرام کی بلندی کو 20فٹ تک محدود کردیا گیا تھا۔ ایم این ایس سربراہ نے کہا کہ عدالتیں، ہندو تہواروں کا دائرہ تنگ کررہی ہے اور یہ سوال کیا کہ محرم میں بچوں کی شمولیت پر کارروائی کیوں کی جارہی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ’ دہی ہانڈی ‘ مسئلہ پر چیف منسٹر دیویندر فڈ نویس سنجیدہ نہیں ہیں۔ مسٹر راج ٹھاکرے نے کہا کہ سپریم کورٹ میں اس کیس پر بحث کیلئے حکومت کو ایک بہترین وکیل کا انتظام کرنا چاہیئے اور عدالت کی پابندی کیلئے چیف منسٹر ذمہ دار ہیں۔ واضح رہے کہ ممبئی میں دہی ہانڈی فیسٹول میں شرکت کیلئے بھاری ہجوم اُمڈ آتا ہے جبکہ تمام جماعتوں کے سیاستداں یہ ہانڈی پھوڑنے پر کروڑہا روپئے کا انعام دینے کا وعدہ کرتے ہیں لیکن یہ ہانڈی اس قدر بلندی پر ہوتی ہے کہ اُسے پھوڑنا مشکل ہوجاتا ہے اور یہ ہانڈی پھوڑنے کیلئے اہرام کی شکل بنائی جاتی ہے جس سے گر کر ہرسال کئی لوگ ہلاک اور ریڑھ کی ہڈیاں متاثر ہوجاتی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT