Tuesday , December 19 2017
Home / شہر کی خبریں / مذہبی معاملات میں مداخلت جمہوریت کے قتل کے مترادف

مذہبی معاملات میں مداخلت جمہوریت کے قتل کے مترادف

طلاق ثلاثہ پر سپریم کورٹ کا فیصلہ شرعی قانون کے خلاف، تنظیم بنت حرم کا اجلاس، شرکاء کا خطاب
حیدرآباد۔/17ستمبر، ( راست ) تنظیم بنت حرم کی جانب سے تین طلاق اور سپریم کورٹ کا فیصلہ سے متعلق خصوصی اجلاس منعقد ہوا جس میں بنت حرم کے اراکین نے شرکت کی۔ حالات حاضرہ کا جائزہ لیتے ہوئے محترمہ صبیحہ صدیقی صدر تنظیم بنت حرم و رکن عاملہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے کہا کہ تین طلاق کا مسئلہ نہایت اہم ہے، اس سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ اور اس کے اثرات بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ غور اور خوض کے بعد جو رہنمایانہ ہدایت دے گا اس پر مسلم خواتین عمل کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ہم شریعت اسلامی پر مکمل عمل کریں تو مسائل خودبخود حل ہوجائیں گے۔ محترمہ عزیز محبوب جنرل سکریٹری تنظیم بنت حرم نے کہا کہ سپریم کورٹ کا قیمتی وقت بعنوان تین طلاق موضوع بحث رہا جس کا راست اثر ہمارے بنیادی حقوق پر ہوتا ہے۔ مذہبی معاملات میں دخل اندازی جمہوریت کے قتل کے مترادف اور شریعت میں دخل اندازی ہے جو ہمارے لئے ناقابل برداشت ہے۔ محترمہ رحمت النساء فاروقی نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کا احترام کرتے ہوہئے ہم یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ ہم اس پر عمل کرنے سے قاصر ہیں کیونکہ یہ شرعی قانون کے خلاف ہے۔ محترمہ سیدہ زینت سلطانہ رکن عاملہ تنظیم بنت حرم نے کہا کہ مسلمان شریعت پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے مسلم معاشرہ کئی مشکلات کا شکار ہورہا ہے۔ محترمہ میمونہ رکن عاملہ تنظیم بنت حرم نے کہا کہ ہمارے لئے جان سے زیادہ پیارا شریعت کا حکم ہے، شریعت میں کسی بھی قسم کی مداخلت نہیں چاہیئے۔ محترمہ شاکرہ کوثر رکن عاملہ تنظیم بنت حرم نے کہا کہ حکومت نے تین طلاق کا مسئلہ اٹھاکر انتشار پیدا کیا اور دستور ہند نے جو بنیادی حق دیا ہے اس سے انحراف کرتے ہوئے مسلم خواتین کے ساتھ زیادتی کی ہے۔ محترمہ ساجد النساء رکن عاملہ تنظیم بنت حرم نے کہا کہ شریعت کے قوانین رہتی دنیا تک کیلئے ہدایت ہیں۔ اسلام دین مکمل ہے اس میں کسی مداخلت کی ضرورت نہیں۔

TOPPOPULARRECENT