Wednesday , January 24 2018
Home / سیاسیات / مذہبی مقامات پر حملوں کیخلاف کانگریس کا لوک سبھا میں احتجاج

مذہبی مقامات پر حملوں کیخلاف کانگریس کا لوک سبھا میں احتجاج

نئی دہلی ۔ 22 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) مذہبی مقامات پر ہوئے حالیہ حملوں کے مسئلہ پر لوک سبھا میں آج حکمراں اور اپوزیشن قائدین کے درمیان زبردست لفظی تصادم ہوگیا۔ اپوزیشن کے تنقیدی حملوں کو بے اثر کرنے کی کوشش کے طور پر کہا کہ کس کے دورحکومت میں ایسے کتنے واقعات پیش آئے ہیں، ان کی تمام تفصیلات ایوان میں پیش کرنے کیلئے تیار ہیں۔ مسٹر سنگھ ن

نئی دہلی ۔ 22 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) مذہبی مقامات پر ہوئے حالیہ حملوں کے مسئلہ پر لوک سبھا میں آج حکمراں اور اپوزیشن قائدین کے درمیان زبردست لفظی تصادم ہوگیا۔ اپوزیشن کے تنقیدی حملوں کو بے اثر کرنے کی کوشش کے طور پر کہا کہ کس کے دورحکومت میں ایسے کتنے واقعات پیش آئے ہیں، ان کی تمام تفصیلات ایوان میں پیش کرنے کیلئے تیار ہیں۔ مسٹر سنگھ نے کہا کہ ’’اگر مجھے اجازت ملتی ہے تو میں ایوان میں تمام تفصیلات پیش کرنے تیار ہوں تاکہ یہ دکھایا جائے کہ کس کے دورحکومت میں کتنے گرجا گھروں اور دیگر عبادت گاہوں پر حملے ہوئے تھے‘‘۔ وزیرداخلہ نے کہا کہ ملک کے کسی بھی ہونے والے مبینہ فرقہ وارانہ واقعات کو پارلیمنٹ میں موضوع بحث بنانے کی دانستہ کوشش کی جارہی ہیں۔ فرقہ وارانہ ہنگاموں کے واقعات کو بار بار پارلیمنٹ میں اٹھانے دانستہ کوششوں سے متعلق ان کے ریمارکس پر اپوزیشن ارکان نے سخت برہمی کا اظہار کیا۔ کانگریس، انڈین یونین مسلم لیگ اور بائیں بازو کی جماعتوں نے ان ریمارکس پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کردیا۔

راجناتھ سنگھ نے وقفہ صفر کے دوران یہ ریمارک کیا جب کے سی وینو گوپال (کانگریس) نے ملک کے مختلف حصوں میں عیسائی گرجاگھروں اور دیگر مذہبی مقامات پر حملوں میں اضافہ پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ وینو گوپال نے کہا کہ ’’اقلیتی طبقات کے اداروں پر حملے آئے دن کا معمول بن گئے ہیں۔ یہ انتہائی خطرناک رجحان ہے‘‘۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے وزیراعظم نریندر مودی کی طرف سے دیئے گئے تیقنات کے باوجود یہ سب کچھ ہورہا ہے۔ وینو گوپال نے ہندو مہا سبھا کی ایک جنرل سکریٹری (سادھو دیواٹھاکر) کے متنازعہ ریمارکس کا حوالہ بھی دیا۔ وزیر پارلیمانی امور راجیو پرتاپ روڈی کے اعتراف پر اسپیکر سمترا مہاجن نے کانگریس رکن کی طرف سے کئے گئے بعض ریمارکس کو حذف کردیا۔ وینو گوپال کی تائید کرتے ہوئے کانگریس کے لیڈر ملکارجن کھرگے نے کہا کہ اس مسئلہ کو اٹھانے کے سواء کوئی اور متبادل نہیں ہے کیونکہ ایسے کئی واقعات وقوع پذیر ہونے کے باوجود تاحال کسی ایک خاطی کے خلاف بھی مقدمہ درج نہیں کیا گیا ہے۔

وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ نے کہا کہ حکومت چاہتی ہیکہ اقلیتی طبقات میں اعتماد کا احساس دیکھا جائے اور انہیں مناسب تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ وہ کسی خوف و خدشہ کے بغیر اپنے اعتقاد پر عمل پیرا رہیں۔ کانگریس لیڈر راہول گاندھی نے آج نریندر مودی حکومت پر الزام عائد کیاکہ وہ انٹرنیٹ کی جگہ بعض کارپوریٹ گروپس کے حوالے کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ اس الزام کو حکومت نے پرزور طور پر مسترد کردیا۔ لوک سبھا میں وقفہ صفر کے دوران مسئلہ کو اٹھاتے ہوئے راہول گاندھی نے کہاکہ حکومت چاہتی ہے کہ صنعتکاروں میں انٹرنیٹ کی جگہ تقسیم کرنا چاہتی ہے۔ جبکہ ہر ایک نوجوان کو انٹرنیٹ تک رسائی حاصل ہونی چاہئے۔ یہ حکومت انٹرنیٹ پر چند کارپوریٹس کی ہی اجارہ داری کا موقع دینا چاہتی ہے اور اسے چند کارپوریٹس کے حوالے کرنے تیار ہے۔ انھوں نے اس خصوص میں مطالبہ کیاکہ موجودہ قوانین میں ترمیم کی جائے یا ایک نیا قانون بنایا جائے۔ کانگریس اور بی جے پی ارکان نے اس مسئلہ پر لفظی تکرار کرتے ہوئے ایوان میں شوروغل برپا کردیا۔

TOPPOPULARRECENT