Saturday , December 16 2017
Home / ہندوستان / مذہبی پیشواؤں کی رائے دہندوں پر اثراندازی قابل گرفت !

مذہبی پیشواؤں کی رائے دہندوں پر اثراندازی قابل گرفت !

۔20سال قدیم ہندوتوا فیصلہ پر سپریم کورٹ کا ازسرِ نو جائزہ
نئی دہلی۔/20اکٹوبر، ( سیاست ڈاٹ کام ) سپریم کورٹ نے ایک 20سالہ قدیم ہندوتوا فیصلہ کا تجزیہ شرو ع کردیا ہے اور یہ دریافت کیا کہ انتخابی مقابلہ نہ کرنے والے روحانی باباؤں اور مذہبی پیشواؤں کی جانب سے کسی مخصوص پارٹی کے ایس آر کے حق میں مہم چلانے پر انتخابی قانون کے تحت انہیں جوابدہ بنایا جاسکتا ہے کیونکہ رائے دہندگان پر اثر انداز ہونا انتخابی دھاندلی کی تعریف میں آتا ہے۔ چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر کی زیر قیادت 9رکنی دستوری بنچ نے یہ سوال کیا کہ ایک شخص جو کہ انتخابی مقابلہ کرتا ہے اور نہ ہی فتحیاب امیدوار ثابت ہوتا ہے لیکن قانون عوامی نمائندگان کے تحت انتخابی دھاندلیوں کے ارتکاب کی کوشش کیسے کرسکتا ہے۔ عدالت نے مذکورہ قانون کی دفعہ 123(3) کی گہرائی اور گیرائی کا بھی تجزیہ کیا جو کہ انتخابی دھاندلیوں سے نمٹتا ہے۔ آیا کسی امیدوار یا اس کے ایجنٹ اور دیگر اشخاص کی جانب سے رائے دہندوں سے مذہب ذات پات، کمیونٹی اور زبان کی بنیاد پر ووٹ مانگا جاسکتا ہے یا پھر مذہبی شعار اور قومی علامتیں استعمال کی جاسکتی ہیں جس کے ذریعہ دوسرے امیدوار کی کامیابی کے امکانات متاثر کئے جاسکتے ہیں۔ سینئر ایڈوکیٹ ارویندو تار سپریم کورٹ میں ایک درخواست گذار ابھیرام سنگھ کی نمائندگی کررہے ہیں جن کا 1990 میں سانتا کروڑ اسمبلی حلقہ ( ممبئی ) سے بی جے پی ٹکٹ پر انتخاب کو ہائیکورٹ نے کالعدم قرار دیا تھا اور سیکشن 123(3)کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ انتخابی ددھاندلیوں کا الزام اسوقت وضح کیا جاسکتا ہے جب دو حریف امیدوار یا ان کے ایجنٹ مذہب کے نام پر ووٹ طلب کریں۔ لیکن موجودہ کیس میں آنجہانی بال ٹھاکرے اور پرمود مہاجن جیسے افراد اس بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں تو اس میں امیدوار کی رضامندی بھی شامل ہوتی ہے۔ مذکورہ بنچ میں جسٹس بی لوکر، ایس اے بوبڈے، اے کے گوئیل ،یو یو للت، ڈی وانی چندرا جوذ اور ایل ناگیشورراؤ شامل ہیں۔

TOPPOPULARRECENT