Saturday , December 15 2018

مذہب بیرونی اثر سے آزاد رہے، ژی جن پنگ

بیجنگ ۔ 21 مئی (سیاست ڈاٹ کام) چین میں مذہب، بیرونی اثر سے آزاد ہونا چاہئے اور اندرون ملک مذہبی گروپس کو ملک کے تئیں وفاداری کا عہد کرنا چاہئے۔ چین کے صدر ژی جن پنگ نے یہ بات کہی جبکہ چین اور وٹیکن کے درمیان کئی دہوں کے اختلافات کے بعد تعلقات میں بہتری کے آثار پیدا ہورہے ہیں۔ صدر چین نے برسراقتدار چینی کمیونسٹ پارٹی کے ایک اجلاس سے خطا

بیجنگ ۔ 21 مئی (سیاست ڈاٹ کام) چین میں مذہب، بیرونی اثر سے آزاد ہونا چاہئے اور اندرون ملک مذہبی گروپس کو ملک کے تئیں وفاداری کا عہد کرنا چاہئے۔ چین کے صدر ژی جن پنگ نے یہ بات کہی جبکہ چین اور وٹیکن کے درمیان کئی دہوں کے اختلافات کے بعد تعلقات میں بہتری کے آثار پیدا ہورہے ہیں۔ صدر چین نے برسراقتدار چینی کمیونسٹ پارٹی کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکام کو چاہئے کہ وہ مذہبی امور میں عوام کے اثر کی قدر کریں تاکہ وہ قوم کی ترقی، یکجہتی اور اتحاد کیلئے نمایاں خدمات انجام دے سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم مذہبی امور سے قانون کے مطابق نمٹتے ہیں اور مذہبی گروپ اپنے طور پر چلانے آزادی کے اصول کے پابند ہے۔ چین میں مذہب کا فروغ بیرونی اثر سے آزاد ہونا چاہئے اور اندرون ملک مذہبی گروپ کو ملک کے تئیں وفاداری کا اظہار کرنا چاہئے۔

واضح رہیکہ چین میں وٹیکن سے زیادہ مراسم کے بغیر حالیہ عرصہ میں عیسائیت کا فروغ ہونے کی اطلاعات ہیں۔ صدر چین نے جو برسراقتدار پارٹی کے جنرل سکریٹری بھی ہیں، کہا کہ سوشلسٹ سماج میں مذہب کو شامل کرنے کیلئے بھی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ حالانکہ چین میں اقتدار کا کوئی مذہب نہیں ہے لیکن یہاں بدھ ازم کا غلبہ حاصل رہا ہے۔ اجلاس سے اپنے خطاب کے دوران مسٹر ژی نے کہا کہ وہ مذہبی آزادی کی اپنی پارٹی کی پالیسی پر عمل کو یقینی بنائیں گے اور وہ چاہتے ہیں کہ مذہبی امور سے بھی قانون کے مطابق نمٹا جاسکے۔

TOPPOPULARRECENT