Thursday , June 21 2018
Home / ہندوستان / مذہب کا بڑے گوشت پر امتناع سے تعلق نہیں: حکومت مہاراشٹرا

مذہب کا بڑے گوشت پر امتناع سے تعلق نہیں: حکومت مہاراشٹرا

ممبئی ۔ 22 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) حکومت مہاراشٹرا نے آج بمبئی ہائیکورٹ سے کہا کہ مذہب کا گایوں، بیلوں اور زرعی بیلوں کے ذبیحہ، استعمال کرنے اور قبضہ میں رکھنے پر حالیہ امتناع کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ایڈوکیٹ جنرل سنیل منوہر نے مہاراشٹرا تحفظ مویشیان (ترمیمی) قانون کے تحت بڑے گوشت پر امتناع کو چیلنج کرتے ہوئے پیش کردہ چند درخواستو

ممبئی ۔ 22 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) حکومت مہاراشٹرا نے آج بمبئی ہائیکورٹ سے کہا کہ مذہب کا گایوں، بیلوں اور زرعی بیلوں کے ذبیحہ، استعمال کرنے اور قبضہ میں رکھنے پر حالیہ امتناع کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ایڈوکیٹ جنرل سنیل منوہر نے مہاراشٹرا تحفظ مویشیان (ترمیمی) قانون کے تحت بڑے گوشت پر امتناع کو چیلنج کرتے ہوئے پیش کردہ چند درخواستوں کی مخالفت کرتے ہوئے عدالت کے اجلاس پر بیان دیا۔ ایڈوکیٹ جنرل نے یہ مسئلہ عدالت میں اٹھایا اور کئی تنظیموں سے جنہوں نے مداخلت کی درخواستیں امتناع کی تائید میں عدالت میں داخل کی ہیں، جوابی دلائل پیش کرتے ہوئے تمام تنظیموں سے اپیل کی کہ گائے کو ہماری قوم مقدس سمجھتے ہے۔ ریاستی حکومت کا ارادہ مذہب کی وجہ سے اس امتناع میں دخل اندازی کا نہیں ہے۔ جسٹس وی ایم کناڑے اور جسٹس ایم ایس سونال پر مشتمل ایک ڈیویژن بنچ نے اس سے اتفاق کیا اور کہا کہ ریاستی حکومت کے بموجب مذہب کو امتناع سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ ادعا نہ تو درخواستوں گذاروں دلیل کے ساتھ پیش کیا ہے اور نہ ریاستی حکومت نے اسلئے درخواست گذاروں کو چاہئے کہ اس مسئلہ پر دلائل کو وسعت نہ دیں۔ عدالت نے سوال کیا کہ کیا وہ عدالتی نظرثانی کے ایک حصہ کے طور پر امتناع کے پس پردہ حقیقی مقصد کو یقینی طور پر جان سکتی ہے۔ ایڈوکیٹ سبھاش جھا نے درخواست گذاروں میں سے ایک وردھمان پریوار کی پیروی کرتے ہوئے دلیل پیش کی کہ مہاراشٹرا میں بھی کہا گیا ہیکہ گائے کا تحفظ ضروری ہے۔

TOPPOPULARRECENT