مرادوں کی محفل کے سپنوں میں کھویا

ڈاکٹر مجید خان

ڈاکٹر مجید خان
جناب محمد مصطفی علی سروری صاحب نے 30 مارچ 2014 کے سیاست کے اتوار کے ایڈیشن میں ایک اہم موضوع پر بحث شروع کی ہے ۔ اس بحث پر میں چاہوں گا کہ اہل فکر حضرات اپنے تاثرات کو قلمبند کریں ۔ اس موضوع پر تعمیری بحث ہونی چاہئے ۔ بے چینی اپنے قوم کی عجیب روش رہی ہے ۔ اس لئے کوئی ٹھوس نئی فکر مسلم سماج میں نظر نہیں آرہی ہے ۔ اس سکون کو توڑنا ضروری ہے انکا کہنا ہیکہ لڑکیوں کی اعلی تعلیم حاصل کرنے کے بعد اسی مناسبت سے اعلی تعلیم یافتہ مسلم لڑکے نہیں مل رہے ہیں ۔ ایسا سوچ کر لڑکیوں کی تعلیم ترک کروا کر ان کو گھر پر بٹھا لینا بھی مناسب نہیں ہے بلکہ لڑکیوں کو اس بات سے آگاہ کرنا چاہئے کہ وہ رشتوں کے انتخاب میں لڑکوں کی تعلیمی قابلیت کا ہی لحاظ نہ کریں ۔

رشتوں کا انتخاب اب ایک انتہائی پریشان کن مسئلہ بنتا جارہا ہے ۔ پرانے زمانے میں مشاطاؤں کا بول بالا تھا اور ان کی حکمت عملی کامیاب بھی ہوا کرتی تھی ۔ گو کہ وہ کوئی خاص تعلیم یافتہ عورتیں نہیں ہوا کرتی تھیں مگر پھر بھی معاملہ فہم ، تجربہ کار اور موقع پرست ہی نہیں بلکہ موقع شناس ہوا کرتی تھیں ۔ وہ ایسی قابل اعتماد اور سمجھدار خواتین ہوا کرتی تھیں جو دونوں خاندانوں سے واقف ہوا کرتی تھیں اور شادی کے بعد بھی تعلقات کو ہموار رکھنے میں اہم رول بھی ذمہ داری سے ادا کرتی تھیں ۔ تعلیم یافتہ نہ سہی مگر آجکل کے پیشہ ور لوگوں سے زیادہ زمانہ شناس ہوا کرتی تھیں ۔

مگر ظاہر ہے اس زمانے میں ان کی پہنچ محدود ہوا کرتی تھی غالباً اعداد و شمار کے مطابق ان کی کارکردگی کوئی خاص نہیں تھی مگر پھر بھی ان کا ایک مقام تھا ۔ سماجی رتبے کے لحاظ سے ان کا کوئی خاص اعلی مقام نہیں تھا ۔ شادیاں اکثر جغرافیائی قربت کے لحاظ سے ہوا کرتی تھیں کیونکہ دور دراز مقامات سے بہت کم روابط ہوا کرتے تھے ۔ لوگوں کے طرز زندگی میں بہت حد تک یکسانیت تھی ۔ امراء کا طبقہ الگ تھا ۔ سرکاری ملازموں کی دنیا الگ تھی ۔ دیہاتی کاشتکار اپنی خاص شبیہ رکھا کرتے تھے اور اکثر شادیاں اور رشتے جانی پہچانی برادری میں ہوا کرتے تھے ۔ تعلیم حاصل کرنے کے مواقع کم تھے ۔ گھریلو تعلیم اور دینی تعلیم ہی سے لوگ خواندہ جانے جاتے تھے ۔ لڑکیوں کی تعلیم نسوانی مدارس ہی میں ہوا کرتی تھی مگر آہستہ آہستہ حالات بدلنے لگے ۔ نقل و حرکت اور مواصلات کی سہولتیں بڑھنے سے لوگ شہروں کو منتقل ہونے لگے اور اجنبیت بڑھنے لگی ۔ دوسرے ممالک میں تلاش معاش کے سلسلے میں لوگ بیرونی ممالک کو جانے لگے اور خاندان بچھڑنے اور منتشر ہونے لگے ۔ رشتوں کیلئے اشتہارات ایک بہت بڑی تجارت بن گئی ہے اور یہیں پر لوگوں کو دھوکہ بھی ہورہا ہے ۔ چٹ منگنی پٹ بیاہ کے مصداق شادیاں ہورہی ہیں اور ازدواجی غلط فہمیاں بھی پیدا ہورہی ہیں ۔ تعلیم یافتہ لڑکیاں اپنے حقوق سے خوب واقف ہورہی ہیں ۔ سر جھکاکر گھریلو زیادتیوں کو برداشت کرنے کا مادہ ختم ہورہا ہے ۔ وہ بااختیار ہورہی ہیں ۔ ان کو اب قانونی طور پر مردوں کے برابر کا سرکاری اور قانونی مقام حاصل ہوچکا ہے ۔ بیشتر معاملوں میں تو وہ مردوںسے بہتر سماجی موقف حاصل کررہی ہیں ۔تعلیم یافتہ لڑکیاں اب تعلیم یافتہ لڑکوں کے مدمقابل آگئی ہیں اور اپنے مقام اور اختیارات سے واقف ہیں اور چاہتی ہیں کہ مرد ان کے اس تعلیم یافتہ اور باعزت مقام کا لحاظ رکھیں ۔ ان کو انکی اعلی تعلیم کی وجہ سے ذلیل نہ کریں ۔ تعلیمیافتہ ہونے کی وجہ سے ان کے ملازمت کے مواقع بھی وسیع ہورہے ہیں ۔ یہیں پر اختلافات ، تعلقات میں کشیدگی اور غلط فہمیاں پیدا ہونے لگیں ہیں جن کی پرانے زمانے میں کوئی نظیر نہیں ملتی ہے ۔ سب سے پہلی بات جس کو سمجھنا ضروری ہے وہ ہے مخلوط تعلیم ۔ لڑکے اور لڑکیوں کی ایک جگہ تعلیم بہت اہم موضوع ہے ۔ اس پر ایک ہی خاندان میں مختلف نظریے ہوسکتے ہیں ۔ ظاہر ہے مذہبی خاندان ہو یا پھر قدامت پسند لوگ ہوں ،ان کی اولاد کا مخلوط ماحول میں تعلیم حاصل کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اسلئے اس اہم نکتے پر لڑکے اور لڑکی والوں کو گفتگو کرنا چاہئے ۔ لڑکی برسرملازمت رہتی ہے اور اس کی اپنی کمائی ہوئی پونجی ہوتی ہے ۔ ظاہر ہے جب وہ مالی طور پر اپنے آپ کو مستحکم سمجھتی ہے تو شوہر اور سسرال والے اس برتاؤ کو غیر ذمہ دار آزادی سمجھ بیٹھتے ہیں ۔

آپ اور ہم کو غور کرنا چاہئے کہ کیا یہ رویہ غیر ذمہ دار آزادی سمجھا جاسکتا ہے ۔ اس ایک مسئلے پر ہم تفصیل سے بحث کریں اور روزمرہ کی مثالیں دے کر غور کریں تو یہ سب سے سنگین تعلقات کا مسئلہ سمجھ میں آسکتا ہے ۔ دوسرے اور کئی باہمی تصادم پیدا کرنے والے روزمرہ کی معمولی غلط فہمیاں ہوا کرتی ہیں جن پر گفتگو کرنے سے پیدا ہونے والی کدورت کو روکا جاسکتا ہے ۔ ایک بار سسرال کے لوگ جب اپنی نئی نویلی بہو کے تعلق سے اپنا ذہن بنالیتے ہیں تو اس بیچاری کی ہر حرکت پر انگشت نمائی ہوسکتی ہے ۔ ایک تجربہ کار بہو جو خود ساس بن چکی ہے کہتی ہیکہ پرانے زمانے میں شادی سے پہلے اور بعد میں رسومات ہوا کرتی تھیں جو آجکل کے زمانے میں عنقا ہوگئی ہیں ۔ مذہبی لحاظ سے ان کو ناپسندیدہ قرار دیا جاتا ہے مگر ذرا ان کے بعض تعمیری پہلوؤں پر غور کیجئے ۔

بہو کے آنے سے پہلے اس کے استقبال کی رسومات ہوا کرتی تھیں۔ ڈھولک کے گیت ، ہنسی مذاق ، ایک خوشگوار ماحول پیدا ہوتا تھا ۔ یہ ایک بہترین خوشیوں کا موقع سمجھا جاتا تھا اور دور دراز سے رشتہ دار اور مہمان آنا شروع کرتے تھے ۔ اب ذرا آپ غور کیجئے ۔ دولہن کی نفسیات یہاں سے نئی کروٹ لیتی ہے ۔ اس کے ذہن میں ایک نئی شناخت بننے لگتی ہے ۔ جس میں زندگی کی خوشیاں ، پھولوں کی خوشبو ، موسیقی ، ہنسی مذاق سب کچھ مل جاتے ہیں ۔ اس کے علاوہ بہترین پکوان اور روزانہ گل پوشی وغیرہ ایک خاص ماحول پیدا کردیتے تھے ۔
جب وہ ایک اجنبی گھرانے میں رخصتی کے بعد جاتی ہے تو وہاں بھی دل پسند استقبال ہوتا تھا ۔ کئی دنوں تک نندیں اور دوسری لڑکیاں خدمت میں لگی رہتی تھیں ۔ پانچ جمعگیوں (لغت میں یہ لفظ نہیں ہے) کے رسوم دولہن کو اپنے ماحول میں ڈھالنے کیلئے کئے جاتے تھے ۔ اس دوران تو دولہن کو دولہن کی طرح دیکھتے تھے ۔ سب اس سے لاڈ پیار کرتے تھے ۔ اس کو بعض نندیں تو اپنے ہاتھوں سے کھلاتی تھیں ۔ ان تجربہ کار ساس صاحبہ کا یہ کہنا ہیکہ اس زمانے میں لڑکیاں نئے ماحول سے مانوس اور آشنا ہوجاتی تھیں ۔ انہوں نے ایک ساس کی مثال دی ۔ سنا کہ یہ ساس ان کی طرح بہوؤں میں مقبول تھیں ۔ سنا کہ اس کی ساس ظالم تھی اور پہلی رات سے اس کے ساتھ نوکروں جیسا سلوک کیا اور اس کو ایک چٹائی پر سلاتی تھی ۔ سب کھانے کے بعد بچا کھچا اس کو دیتی تھی ۔ جب وہ ساس ہوئی تو اس نے دل میں ٹھان لیا تھا کہ اپنی بہوؤں کو خوش رکھوں گی ۔ اسلئے وہ اپنی بہوؤں میں بہت مقبول تھی ۔ دوستوں جیسا سب مل کر رہا کرتے تھے ۔

نئی نویلی دلہن کو نئے خاندان میں سکون اور پیار و محبت کے ماحول میں آباد ہونے کی فضا پیدا کرنی چاہئے ۔ ایک اور اہم مسئلہ رقمی معاملات سے جڑا ہوا ہے ۔ لڑکی کی پونجی اور زیورات پر کس کا قبضہ و حق ہونا چاہئے اس پر کوئی اختلاف رائے نہیں ہونا چاہئے ۔ لین دین کے معاملے میں تو لڑکے والے بلاجھجک مطالبات کرتے ہیں جن کو لڑکی والے کافی حد تک پورا بھی کرتے ہیں ۔ مگر شادی کے بعد بھی مطالبات کا سلسلہ لامتناہی نہیں ہونا چاہئے ۔ لڑکا اگر بیرون ملک سے اپنے والدین کیلئے رقم بھجواتا ہے تو لڑکی کو اس پر ناراضگی ظاہر نہیں کرنی چاہئے اور اسی طرح ماں باپ اور لڑکے اور لڑکیوں میں جو رقمی لین دین ہوتی ہے وہ موضوع بحث نہیں ہونی چاہئے ۔ ظاہر ہے ان تمام مسائل پر رشتے طے ہونے سے قبل گفتگو تو ہو نہیں سکتی ۔ اس لئے عوامی بحث اور مضامین اور سوشیل میڈیا کے ذریعہ ان دکھتے ہوئے مسائل پر روشنی ڈالنی چاہئے جسکی بدولت عوامی آگہی ہوگی اور سوچ آگے بڑھے گی ۔
مرادوں کی محفل کے سپنوں میں کھویا
محبت کی راہوں پہ ہم چل پڑے تھے
نوٹ
مضمون ’’جذبات کی مفلسی‘‘ گذشتہ ہفتے شائع ہوا تھا ، کافی قارئین کو پسند آیا ، اس موضوع پر میں نے ایک تفصیلی کتابچہ انگریزی میں تیار کیا ہے ۔ خواہشمند حضرات بغیر کسی معاوضے کے سٹی نرسنگ ہوم حمایت نگر سے حاصل کرسکتے ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT