Monday , November 20 2017
Home / Top Stories / مراقش میں برقعوں کی تیاری اور فروخت پر امتناع !

مراقش میں برقعوں کی تیاری اور فروخت پر امتناع !

رباط ۔  11جنوری (سیاست ڈاٹ کام) مراقش میں سیکوریٹی وجوہات کی بنیاد پر چہرہ کو مکمل طور پر چھپانے والے نقاب اور برقعہ کی تیاری اور فروخت پر امتناع عائد کردیا گیا ہے۔ شمالی افریقہ کے اس مسلم اکثریتی ملک میں حکام نے اگرچہ سرکاری طور پر کوئی اعلان نہیں کیا ہے۔ تاہم میڈیا نے کہا ہیکہ وزارت داخلہ کے احکام اس ہفتہ نافذ کئے جائیں گے۔ ایک خانگی نیوز چیانل نے وزارت داخلہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے حوالہ سے کہا کہ ’’اس مملکت کے تمام شہروں اور قصبوں میں اس لباس (برقعہ) کی تیاری، فروخت یا برآمد پر مکمل امتناع کیلئے قدم اٹھایا جارہا ہے‘‘۔ بیان کیا گیا ہیکہ ایسا محسوس ہوتا ہیکہ سیکوریٹی وجوہات کی بنیاد پر یہ قدم اٹھایا گیا ہے کیونکہ اکثر یہ دیکھا گیا ہیکہ سارقین بھی اپنے جرائم کی پردہ پوشی کیلئے یہ لباس استعمال کررہے ہیں۔ مراقش کے شاہ محمد ششم اعتدال پسند اسلام کی حمایت کرتے ہیں چنانچہ مراقش کی اکثر خواتین برقعہ کے بجائے صرف ایسے حجاب کو ترجیح دیتی ہیں جس سے چہرہ چھپایا نہیں جاتا لیکن نقاب استعمال کرنے کی صورت میں سارا چہرہ چھپا رہتا ہے اور صرف آنکھوں کے اطراف دو حلقے کھلے رہتے ہیں۔ بالخصوص مراقش کے قدامت پسند شمالی علاقہ میں نقاب استعمال کیا جاتا ہے اور یہ بھی اتفاق ہیکہ شمال سے ہی ہزاروں جہادی عراق اور شام روانہ ہوئے ہیں۔ ملک کا معاشی و تجارتی صدر مقام سمجھے جانے والے شہر کا سر بلدنکا میں شعور بیداری مہم شروع کی گئی ہے جہاں خواتین کو اس اقدام سے واقف کروایا جارہا ہے۔ یہ واضح نہیں ہوسکا ہیکہ مراقش بھی فرانس اور بلجیم جیسے یوروپی ممالک کی تقلید کرنے کا منصوبہ بنایا ہے جہاں مکمل طور پر چہرہ چھپانے والے نقاب پر امتناع عائد ہے۔

TOPPOPULARRECENT