Saturday , January 19 2019

مربوط جی ایس ٹی کی نقد رقومات ریاستوں کی دسترس سے باہر

نئی ٹیکس پالیسی کے نفاذ کے بعد کئی ریاستوں میں نقدی کی عارضی قلت سے مالی بحران جیسی صورتحال
نئی دہلی 11 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) گڈس اینڈ سرویس ٹیکس کے نفاذ کے بعد آمدنی و مصارف کے درمیان حائل ہونے والے فرق اور فوری رقومات کی ادائیگی کیلئے نقدی کی قلت کے دباؤ کے سبب کئی ریاستوں میں مالی بحران جیسی صورتحال پیدا ہوگئی ہے جس سے نمٹنے کے لئے چند ریاستوں نے متبادل اقدامات کے لئے تجاویز پیش کی ہیں۔ بعض ریاستوں نے الزام عائد کیاکہ 37000 کروڑ روپئے پر مبنی مربوط جی ایس ٹی ریاستوں کی دسترس سے باہر ہے۔ جموں و کشمیر اور بعض دیگر ریاستوں نے مربوط جی ایس ٹی سے صرفہ کے لئے ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) سے ’’وسائل اور ذرائع پر پیشگی‘‘ کا طریقہ کار استعمال کرنے کا اختیار دینے کی تجویز پیش کی ہے۔ بالخصوص جموں و کشمیر کے وزیر فینانس حسیب درابو بھی دیگر ریاستوں کے وزرائے فینانس میں شامل تھے جنھوں نے یہ تجویز پیش کی تھی۔ جس کو جی ایس ٹی کونسل نے مسترد کردیا۔ وزیر فینانس ارون جیٹلی نے وضاحت کی کہ آئی جی ایس ٹی صرف تخمینوں سے تعلق رکھتی ہے اور حکومت کی جانب سے اُس وقت تک استعمال نہیں کیا جاسکتا جب تک وہ انھیں بطور ٹیکس حاصل نہ ہوجائے۔ جیٹلی نے کہاکہ ’’یہ تخمینے صرف مرکزی یا ریاستی جی ایس ٹی کی ادائیگی کے لئے استعمال کئے جاسکتے ہیں‘‘۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT