Monday , July 23 2018
Home / ہندوستان / مردانہ لباس پہننے والی لڑکیاں زنخے پیدا کرتی ہیں؟

مردانہ لباس پہننے والی لڑکیاں زنخے پیدا کرتی ہیں؟

کیرالا کے پروفیسر کا متنازعہ ریمارک، خواتین کی برہمی
پروفیسر رجت کمار کے خلاف قانونی کارروائی کرنے حکومت کا منصوبہ

نئی دہلی ۔ 5 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) لباس کے انتخاب کے بارے میں کہا جاتا ہیکہ یہ انسان کے ذوق، اس کی فطرت و عادات و اطوار کے عکاسی کرتا ہے۔ لباس کے باعث کسی بھی انسان کے مزاج کا باآسانی اندازہ بھی لگایا جاسکتا ہے اور اس میں کوئی دو رائے بھی نہیں ہے۔ لباس کے بارے میں ایک اور اہم بات یہ ہیکہ ایک اچھا بلکہ قیمتی لباس زیب تن کرنے سے کوئی جاہل عالم نہیں بنتا کیونکہ قیمتی لباس میں بھی اس کا اندازگفتگو چال و چلن، حرکات و سکنات اس کے بارے میں سب کچھ بتادیتے ہیں۔ ہاں… یہ درست بات ہیکہ لباس عیوب کو چھپانے میں مددگار ثابت ہو تو سکتے ہیں لیکن انسان جب زبان کھولتا ہے تو اس کی حقیقت عیاں ہوجاتی ہے۔ یہ تو رہے لباس کے بارے میں چند حقائق لیکن اب یہ سوال پیدا ہورہا ہیکہ ایسی لڑکیاں و خواتین جو مردانہ لباس (جینس ٹی شرٹس وغیرہ) زیب تن کرنے کو ترجیح دیتی ہیں، انہیں پیدا ہونے والی اولاد اکثر و بیشتر زنخا ہوتی ہے! چونکئے مت! اگر کیرالا کے ایک پروفیسر کی تحقیق اور تجربہ و مشاہدہ پر بھروسہ کیا جائے تو ایسا ہی ہوتا ہے۔ نباتیات کے پروفیسر نے یہ کہہ کر ہنگامہ مچا دیا ہیکہ جینس پہننے والی خواتین عجیب جنس والی اولاد پیدا کرتی ہیں۔ اس پروفیسر نے اس پر اکتفاء نہیں کیا بلکہ یہ بھی کہا کہ جن جوڑوں کے کردار اچھے نہیںں ہوتے، ان کے ملاپ سے دماغی امراض جیسے Autistic (یہ ایسی بیماری ہے جس میں بچے کم گو ہوتے ہیں اور اپنے آپ میں مگن رہتے ہیں) اور دماغی فالج (Cerebral Palsy) سے متاثرہ بچے پیدا ہوتے ہیں۔ باٹنی کے پروفیسر رجت کمار کے اس متنازعہ بیان پر نہ صرف عوام میں بلکہ سیاستداں میں بھی ہلچل مچ گئی ہے۔ ریاستی حکومت نے تو رجت کمار کے خلاف ان کے متنازعہ ریمارکس پر قانونی کارروائی کرنے کا منصوبہ بنا لیا ہے۔ کیرالا کے کاسر گوڈ میں طلبہ کیلئے ایک شعور بیداری کلاس کے دوران پروفیسر رجت کمار نے مذکورہ ریمارکس کئے۔ انہوں نے کلاس میں کہا ایسی لڑکیاں اور خواتین جو جینس، ٹی شرٹس اور مردوں سے مشابہت والے دیگر لباس پہنتی ہیں وہ صنف کے اعتبار سے ناپسندیدہ بچوں کو جنم دیتی ہیں۔ کیرالا میں 6 لاکھ سے زیادہ زنخے ہیں‘‘۔ پروفیسر نے مزید کہا کہ صرف وہی والدین ہر لحاظ سے صحتمند بچے جنم دیتے ہیں جو مرد و عورت کی حیثیت سے زندگی گذارتے ہیں۔ پروفیسر رجت کمار نے ایک اور حیرت انگیز بات کی کہ خراب کردار کے حامل والدین کے بچے مختلف نوعیت کی نفسیاتی بیماریوں سے متاثر پیدا ہوتے ہیں۔ میڈیا رپورٹس میں واضح کیا گیا ہیکہ پروفیسر رجت کمار نے پہلی مرتبہ اس قسم کے متنازعہ ریمارکس نہیں کئے بلکہ اس سے قبل کیرالا کے دارالحکومت تھرواننتاپورم میں ویمنس کالج کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے طالبات کے خلاف اہانت آمیز ریمارکس کئے تھے جس پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ایک طالبہ نے بطور احتجاج واک آوٹ کیا تھا۔ رپورٹس میں بتایا گیا ہیکہ ریاستی حکومت پروفیسر کمار کے خلاف قانونی کارروائی کا منصوبہ رکھتی ہے اور انہیں حکومت کی اسپانسر کردہ شعور بیداری کلاسیس سے دور رکھا جائے گا۔ یہ کلاسیس اسکولوں اور کالجوںمیں چلائی جاتی ہیں۔ پروفیسر رجت کمار کے ان ریمارکس کے بارے میں سوشیل میڈیا پر کئی افراد نے تبصرہ کیا ہے جس میں سے اکثر نے یہی کہا ہیکہ موت و حیات پیدائش سب قدرت کے نام ہیں۔ مختلف دینی و نفسیاتی امراض و نقائص کے حامل بچوں کی پیدائش میں خالق کائنات کی مصلحت پوشیدہ ہوتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT