Wednesday , December 13 2017
Home / ہندوستان / مرد بھی حمل کی تکلیف برداشت کرے !

مرد بھی حمل کی تکلیف برداشت کرے !

lصنفی مساوات کی شروعات پیدائش سے ہی ہونی چاہئے
lمرکز کی حج پالیسی پر مہاراشٹرا کے عالم دین کی شدید تنقید
ممبئی ۔ 11 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) صنفی مساوات کو یقینی بنانے کیلئے ایک مرد بھی خاتون کے ساتھ نصف مدت تک حاملہ کیوں نہیں ہوسکتا؟ مہاراشٹرا کے عالم دین نے مرکزی حج کمیٹی کی تیار کردہ حج پالیسی کے مسودہ پر شدید تنقید کرتے ہوئے یہ سوال اٹھایا۔ حکومت نے اس مقدس سفر کیلئے 45 سال سے زائد عمر کی خاتون کو اگر وہ چار افراد کے گروپ کے ساتھ ہو تو ایسی صورت میں محرم کے بغیر سفر کی اجازت دی ہے۔ سکریٹری جمعیت العلماء مہاراشٹرا یونٹ مولانا گلزار اعظمی نے کہا کہ اسلام کسی عورت کو محرم کے بغیر سفر کی اجازت نہیں دیتا ۔ حکومت اسلامی تعلیمات کو سمجھنے کی بجائے عوام کو راحت فراہم کرنے کے نام پر مسلمانوں کے مسائل میں اضافہ کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی یہ تجویز ناکام ہوجائے گی کیونکہ حکومت سعودی عرب کسی خاتون کو حج ویزا جاری نہیں کرتی۔ اگر حکومت مرد اور خواتین کے مابین مساوات سے اس قدر دلچسپی رکھتی ہے تو پھر یہ مرحلہ بچے کی پیدائش سے ہی شروع ہوجانا چاہئے۔ جب عورت حاملہ ہوجائے تو ساڑھے چار ماہ وہ اور مابقی ساڑھے چار ماہ کی مدت حمل مرد کو برداشت کرنی چاہئے۔ اس طرح ہر دو مساوی ذمہ داری ادا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ سفر حج پر جانے والوں کو آخر حکومت کیوں نشانہ بنارہی ہے۔ مولانا گلزار اعظمی کے اس تبصرہ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سابق صدرنشین مہاراشٹرا ویمنس کمیشن سسبین شاہ نے کہا کہ حکومت کو سفر حج کیلئے عمر کی حد بھی ختم کرنی چاہئے تاکہ کوئی بھی خاتون یہ فریضہ تنہا انجام دے سکے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی خواتین سیکولر ہیں اور سب کیلئے یکساں قانون پر یقین رکھتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT