Tuesday , December 12 2017
Home / مذہبی صفحہ / مرسل : ابوزہیر نظامی تیمم کے مسائل

مرسل : ابوزہیر نظامی تیمم کے مسائل

تیمم کی تعریف : (اصطلاح شرع میں ) پاک کرنے والی مٹی یا جنس مٹی پر بشرط نیت ہاتھ مار کر چہرہ اور دونوں ہاتھوں پر مسح کرنے کا نام تیمم ہے ۔
تیمم کے احکام : (۱) تیمم وضو اور غسل کا قائم مقام ہے ‘ یعنی بے وضو ‘ جنب پاک شدہ حائضہ و نُفَساء کو اگر پانی پر قدرت نہ ہو (حقیقتاً خواہ حکماً ) تو وضو اور غسل کے بجائے تیمم کرنا جائز ہے۔ (۲) جن امور میں طہارت شرط نہیں ( مثلاً بے وضو کا زبانی قرآن مجید پڑھنا ‘ زیارت قبور ‘ دفن میت وغیرہ) ان کے لئے پانی پر قدرت ہوتے ہوئے بھی تیمم جائز ہے ۔ (۳) جن امور کے لئے وضو کرنا فرض ہے ان کے لئے وضو کا تیمم بھی فرض ہے ۔ اور جن کے لئے وضو واجب یا سنت و مستحب ہے ان کے لئے وضو کا تیمم بھی واجب یا سنت و مستحب ۔ یہی حال غسل کے تیمم کا ہے ‘ غسل کے قیاس پر ۔ (۴) ایک تیمم سے کئی وقت کی نمازیں اور فرض و نفل وغیرہ سب ادا ہوسکتی ہیں (۵) تیمم وقت نماز سے قبل جائز ہے اور وقت کے جانے سے باطل نہیں ہوتا ۔ (۶) تیمم کیا ہوا شخص وضو کئے ہوئے آدمی کی امامت کرسکتا ہے ۔
تیمم کے صحیح ہونے کی شرطیں : تیمم کی چھ شرطیں ہیں : (۱)نیت ۔ (۲) مسح کرنا ۔(۳) تین یا زیادہ انگلیوں سے مسح کرنا ۔ (۴) مٹی یا جنس مٹی کا ہونا۔(۵) مٹی یا جنس مٹی کا مطہر ( پاک کرنے والی ) ہونا ۔ (۶) پانی پر قدرت نہ ہونا ۔ اس کے علاوہ (۷) حالت اسلام کا ہونا اور (۸) اعضاء تیمم پر مانع مسح کا نہ ہونا اور عورتوں کیلئے حیض و نفاس کا موقوف ہونا بھی شرط ہے۔ (تنبیہ ) اگر ان میں سے ایک شرط بھی فوت ہوجائے تو تیمم نہ ہوگا ۔
نیت کے احکام : (توضیح شرط اول ) : تیمم میں نیت شرط اور مطلق تیمم کے لئے حصول ثواب کی نیت کافی ہے لیکن نماز اسی تیمم سے جائز ہوگی جس میں کسی ایسی عبادت مقصودہ کی نیت کی جائے جو بغیر طہارت کے صحیح نہیں ۔ (تنبیہ) طہارت کی ‘ رفع حدث کی ‘ رفع جنابت کی اور نماز کے مباح ہونے کی نیت قائم مقام عبادت مقصودہ کی نیت کے ہے ۔ (۲) نفل نماز یا مطلق نماز کی نیت سے تیمم کیا جا کر فرض نماز اور دوسری عبادتیں ادا کی جاسکتی ہیں ۔ (۳) جو امور عبادت مقصودہ نہیں ( جیسے مسجد میں داخل ہونا ‘ قرآن مجید کا چھونا ‘ اذان و اقامت وغیرہ) یا جن میں طہارت شرط نہیں ( مثلاً بے وضو کا قرآن مجید پڑھنا ‘ زیارت قبور ‘ دفن میت وغیرہ ) اگر ان کیلئے تیمم کیا جائے تو اس سے نماز جائز نہیں ۔ (۴) اگر جنبی قرآن مجید پڑھنے کیلئے تیمم کرے تو اس سے نماز جائز ہے ۔ (۵) سجدہ تلاوت کے تیمم سے بھی نماز جائز ہے ۔ (۶) سجدہ شکر کی نیت سے یا دوسرے شخص کو تیمم کاطریقہ بتانے کے لئے جو تیمم کیا جائے اس سے نماز نہ ہوگی ۔ (۷) نماز جنازہ یا عیدین کے لئے اگر تیمم اس خوف سے کیا جائے کہ وضو میں مشغول ہونے سے یہ نمازیں فوت ہوجائیں گی تو اس تیمم سے اس خاص نماز کے سوا اور کوئی نماز جائز نہیں اور اگر پانی نہ ملنے یا بیماری کے باعث کیا ہو تو اور نمازیں بھی جائز ہیں ۔(۸) جنبی کا وضو کی نیت سے تیمم کرنا جائز ہے ۔( یعنی وضو کی نیت سے جنابت سے بھی پاک ہوجائے گا ) ۔ (۹) اگر بیمار کو دوسرا شخص تیمم کرائے تو نیت بیمار کو کرنی چاہئے ۔ (۱۰) اگر کوئی کافر اسلام لانے کیلئے تیمم کرے ‘ اس تیمم سے اسلام لانے کے بعد نماز پڑھنا جائز نہیں (کیونکہ تیمم میں نیت شرط ہے ‘ اور کافر نیت کرنے کا اہل نہیں)۔ (نصاب اہلِ خدمات شرعیہ، حصہ سوم)

TOPPOPULARRECENT