Friday , November 24 2017
Home / مذہبی صفحہ / مرسل : ابوزہیر نظامی حضرت سیدنا امام جعفر صادق ؓکے فرامین

مرسل : ابوزہیر نظامی حضرت سیدنا امام جعفر صادق ؓکے فرامین

حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی قدس سرہ العزیز ارشاد فرماتے ہیں :
٭ دوستی کے پانچ شرائط ہیں‘جس کسی میں وہ شرائط ہوں تم اُسکو دوستی کی طرف منسوب کرو ورنہ تم اُسکو دوست نہ سمجھو وہ شرائط یہ ہیںکہ ایک دوست اپنے دوست کی زینت اورخوشحالی کو اپنی زینت سمجھے ‘اور اُس کے لئے اپنے باطن کو ایسا ہی رکھے جیسے اس کا اپنا ظاہر ہے (اور وہ دوست ایسا ہوکہ ) کوئی مال اسکواپنے دوست کا مخالف نہ بنائے اور وہ اپنے دوست کو اپنی تمام تر محبت کا حقدار سمجھے اور وہ اپنے دوست کو مصیبتوں کے وقت تنہا نہ چھوڑے۔
٭  نیکی صرف تین چیزوں سے مکمل ہوتی ہے:
(۱)اس کو جلدی کرنے سے
(۲)اسکو چھوٹا سمجھنے سے (۳)اسکو چھُپانے سے ۔
٭  توبہ میں تاخیر کرنا دھوکہ ہے۔
٭  نماز‘ہر متقی کیلئے رب سے قربت کا ذریعہ ہے حج‘ ہر کمزور کا جہاد ہے‘ تدبیر‘ آدھی زندگی ہے اور محبت آدھی عقل ہے۔
٭  چار چیزیں ایسی ہیں جو تھو ڑی بھی ہوں تو بہت ہیں آگ ‘دشمنی‘  محتاجی‘اور بیماری ۔ مذکورہ فرمان اتنا مفید تر ہے کہ واقعی قبل از وقت ‘ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے والا شخص ہی آگ ‘ دشمنی ‘  محتاجی اور بیماری کے نقصانات سے بچ سکتا ہے ۔
٭  تقوی سے بہتر کوئی توشہ نہیں ہے خاموشی سے اچھی کوئی چیز نہیں ہے‘ جہالت سے زیادہ کوئی دشمن‘ نقصاندہ نہیں ہے اور جھوٹ سے بڑھکر کوئی بیماری نہیں ہے۔
٭  جوشخص اپنے عیب کے وقت حیاء نہ کرے بڑھا پے کے وقت بُرائیوں سے باز نہ آئے اور بن دیکھے اکیلے میں اللہ سے نہ ڈرے تو اُس شخص میں کوئی بھلائی نہیں ہے۔ اصل حیاء وشرم یہ ہے کہ آدمی گناہ اور عیب دارکاموں کے وقت حیاء کرے اور کم از کم بڑھاپے میں تو جرم اور گناہ سے باز آجائے اسی طرح بِن دیکھے اللہ تعالیٰ سے ڈرے تو اُسکو خیروبھلائی نصیب ہوتی ہے ۔
٭  آپ نے  اپنے صاحبزادے حضرت امام موسیٰ کاظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نصیحت فرمائی :  اے میرے پیارے بیٹے :ا گر تم کسی سے ملنا چاہتے ہو تو اچھوں سے ملو‘ بروں سے مت ملو کیونکہ بُرے ایسی چٹان کے مانند ہیں جس سے پانی نہیں نکلتا اور ایسے درخت کی طرح ہیں جس کے پتّے ہرے نہیں ہوتے اور ایسی زمین کی طرح ہیں جس سے گھاس نہیں نکلتی‘ حضرت علی رضا رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میرے والد حضرت موسیٰ کاظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ وصال تک اس نصیحت کو نہیں چھوڑے۔                      … جاری ہے

٭  سود کو حرام کرنے کی حکمت یہ ہے کہ لوگ ایک دوسرے کو نیکی وبھلائی سے نہ روکیں۔ اس سے پتہ چلاکہ سود ایسا گناہ عظیم ہے کہ اگر اس کوحرام نہ کیا جاتا تو لوگ ہر قسم کی نیکی سے نہ صرف دور رہتے بلکہ دوسروں کو نیکیوں سے روکتے رہتے  ۔
٭پانچ قسم کے آدمیوں سے پرہیز کرنا چاہئے ۔
(۱)  جھوٹا ‘  کیونکہ اسکی صحبت سے غرور پیدا ہوگا ۔
(۲)  احمق‘  کیونکہ وہ جس قدر بھلائی کرے گا اُسی قدر نقصان پہونچے گا۔
(۳)  بخیل‘  جسکی صحبت میں وقت ضائع ہوگا۔
(۴)  بزدل ‘  کیونکہ وہ ضرورت کے وقت پیٹھ دکھا کے بھاگے گا۔
(۵)  فاسق‘  کیونکہ وہ ایک لقمے کے عوض تجھکو بیچ ڈالے گا اور ادنیٰ اور معمولی چیز کا بھی لالچ کرے گا۔
٭  جسکو اللہ تعالیٰ کی پہچان حاصل ہوجاتی ہے وہ اللہ کے سوا ہر چیز سے کنارہ کش ہوجاتا ہے ۔
٭  ہر وہ گناہ جس سے پہلے خوف ہو اور جس کے بعد عذر ہو وہ ‘بندے کو خالق کے نزدیک کردیتا ہے اور ہر وہ عبادت جس سے پہلے امن وخوش فہمی ہو اور جس کے بعد تکبر اور غرور ہو وہ عبادت بندے کو خالق سے دور کردیتی ہے ۔
٭  آدمی کی نیک بختی اسی میں ہے کہ اسکا دشمن دانا اورعقلمند ہو ۔ ٭  تین چیزیں ایسی ہیںجنکی وجہ سے اللہ تعالیٰ مسلمان کی عزت بڑھا دیتا ہے ۔
(۱)  زیادتی کرنے والوں کو معاف کرنا۔
(۲)  محروم کرنے والوں کو عطا کرنا۔
(۳)  رشتہ داری کو ختم کرنے والوں سے رشتہ جوڑنا ۔
٭  کسی سید کو لائق نہیں کہ وہ چار چیزوں میں عار محسو س کرے:
(۱)  اپنے باپ کیلئے جگہ چھوڑنے میں ۔
(۲) اپنے مہمان کی خدمت کرنے میں ۔
(۳)  اپنے جانور کی خود نگہداشت کرنے میں ‘اگر چہ اسکے پاس سو غلام ہوں۔
(۴)  اپنے پاس علم حاصل کرنے والے کی خدمت کرنے میں ۔
(نور الابصار‘اسعاف الراغبین‘انوار اولیاء‘کشف المحجوب وغیرہ)

Top Stories

TOPPOPULARRECENT