Monday , September 24 2018
Home / Top Stories / مرلی منوہر جوشی کرناٹک ، کلیان سنگھ مہاراشٹرا ، وی کے ملہوترا ہریانہ کے گورنر متوقع

مرلی منوہر جوشی کرناٹک ، کلیان سنگھ مہاراشٹرا ، وی کے ملہوترا ہریانہ کے گورنر متوقع

نئی دہلی ۔ /8 جون (سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی کے بزرگ قائدین جسے مرلی منوہر جوشی ، کلیان سنگھ اور وی کے ملہوترہ کو ریاستی گورنرس بنائے جانے کا امکان ہے ۔ انہیں علی الترتیب کرناٹک ، مہاراشٹرا اور ہریانہ کا گورنر بنایا جاسکتا ہے ۔ بی جے پی حکومت نے ریاستوں کے اعلیٰ دستوری عہدہ پر اپنے بزرگ اور سینئر قائدین کو فائز کرنے پر غور کیا ہے جن دیگر

نئی دہلی ۔ /8 جون (سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی کے بزرگ قائدین جسے مرلی منوہر جوشی ، کلیان سنگھ اور وی کے ملہوترہ کو ریاستی گورنرس بنائے جانے کا امکان ہے ۔ انہیں علی الترتیب کرناٹک ، مہاراشٹرا اور ہریانہ کا گورنر بنایا جاسکتا ہے ۔ بی جے پی حکومت نے ریاستوں کے اعلیٰ دستوری عہدہ پر اپنے بزرگ اور سینئر قائدین کو فائز کرنے پر غور کیا ہے جن دیگر قائدین کے نام زیرغور ہیں ۔ ان میں بی جے پی سے خارج کردہ جسونت سنگھ کا بھی نام شامل ہے ۔ جن سے حال ہی میں وزیراعظم نریندر مودی نے ملاقات کرکے دلجوئی کی تھی ۔ ان کے علاوہ لکھنؤ کے سابق ایم پی لال جی ٹنڈن ، پارٹی کے سینئر لیڈر مدھیہ پردیش کیلاش جوشی اور سابق اسپیکر اترپردیش کیسری ناتھ ترپاٹھی کا نام بھی گورنروں کے تقررات کی فہرست میں شامل ہے ۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ حکومت نے ریاستی گورنروں کے جلد تقررات کیلئے اقدامات کئے ہیں ۔

ہریانہ ، جھارکھنڈ اور مہاراشٹرا میں اس سال ہونے والے اسمبلی انتخابات کی تیاریاں شروع ہوگئی ہیں ۔ اس سے قبل این ڈی اے حکومت توقع ہے کہ ان ریاستوں میں نئے گورنرس کا تقرر عمل میں لائے گی ۔ موجودہ گورنروں میں ایچ آر بھردواج (کرناٹک) جگناتھ پہاڑیا (ہریانہ) دیوآنند کشور (تریپورہ) اور مارگریٹ الوا ( راجستھان) نے اپنی پانچ سالہ میعاد پوری کرلی ہے یا آئندہ 3 ماہ میں ان کی مدت پوری ہوگی ۔ جبکہ ایچ آر بھردواج کے کرناٹک کی سابق بی جے پی حکومت کے ساتھ کشیدہ تعلقات تھے ۔ بتایا جاتا ہے کہ مارگریٹ الوا کے چیف منسٹر راجستھان وسندھرا راجے کے ساتھ خوشگوار تعلقات میں جن گورنروں کی آئندہ 6 تا 8 ماہ میں میعاد ختم ہونے والی ہے ۔ ان میں کملا بنیول (گجرات) ایم کے نارائنن (مغربی بنگال) جے پی پٹنائک (آسام) شیو راج پاٹل ( پنجاب) اور ارمیلا سنگھ (ہماچل پردیش) قابل ذکر ہیں ۔ گجرات کی گورنر کملا بنیوال کا اس وقت کے چیف منسٹر نریندر مودی کے ساتھ ریاست میں لوک ایوکت کے مسئلہ پر بھی زبردست تنازعہ چلا تھا ۔ ان کی تبدیلی ممکن ہوسکتی ہے ۔

سابق چیف منسٹر دہلی شیلا ڈکشٹ کو مارچ میں ہی کیرالا کا گورنر بنایا گیا ہے ۔ جموں و کشمیر کے گورنر این این ووہرا کو اپریل 2013 ء میں دوسری میعاد دی گئی ہے اور سابق معتمد داخلہ وی کے دوگل کو گزشتہ ڈسمبر میں منی پور کا گورنر بنایا گیا تھا ۔ جن دیگر گورنروں کے نام این ڈی اے کی نئی حکومت کے زیرغور ہیں ان میں بی ایل جوشی (اترپردیش میں دوسری میعاد کے دوران خدمت انجام دے رہے ہیں) بی وی رانچو ( گوا) کے شنکر نارائن (مہاراشٹرا میں دوسری میعاد) کے روشیا (ٹاملناڈو) رام نریش یادو (مدھیہ پردیش) ڈی وائی پٹیل (بہار) سرینواس دادا صاحب پاٹل (سکم) عزیز قریشی (اتراکھنڈ) واکم پرشوتم (میزورم) اور سید احمد (جھارکھنڈ) شامل ہیں ۔ چھتیس گڑھ گورنر شیکھر دتا ، اروناچل پردیش کے گورنر لیفٹننٹ جنرل (ریٹائرڈ) نربھئے شرما ناگالینڈ کے اشونی کمار اور میگھالیہ کے کے کے پاول کو بھی نئی حکومت کی تنقیح کے تحت ہٹادیا جاسکتا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT