Monday , April 23 2018
Home / شہر کی خبریں / مرکزی بجٹ میں تلنگانہ کو نظر انداز کرنے پر کے سی آر کی خاموشی معنیٰ خیز

مرکزی بجٹ میں تلنگانہ کو نظر انداز کرنے پر کے سی آر کی خاموشی معنیٰ خیز

تشکیل تلنگانہ کے سال ، وعدے دھرے کے دھرے رہ گئے ، پونم پربھاکر
حیدرآباد ۔ 5 ۔ فروری : ( سیاست نیوز ) : کانگریس کے سابق رکن پارلیمنٹ پونم پربھاکر نے مرکزی بجٹ میں تلنگانہ سے ہوئی نا انصافی پر چیف منسٹر کی خاموشی پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اپنے آپ کو شیر قرار دینے والے کے سی آر وزیراعظم سے ڈر کر بلی کی طرح فارم ہاوز میں پناہ لئیے ہوئے ہیں ۔ آج گاندھی بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پونم پربھاکر نے کہا کہ تقسیم آندھرا پردیش میں تلنگانہ سے کئے گئے وعدے چار سال مکمل ہونے کے باوجود پورے نہیں کئے گئے اور نا ہی اس معاملے میں ٹی آر ایس نے کبھی مرکز پر دباؤ بنایا ہے ۔ یہاں تک مرکزی بجٹ میں بھی تلنگانہ سے کوئی انصاف نہیں کیا گیا پھر بھی چیف منسٹر کی خاموش معنیٰ خیز ہے ۔ مرکزی حکومت بجٹ میں زرعی شعبہ کے لیے 11 لاکھ کروڑ روپئے مختص کرنے کا بلند بانگ دعوے کررہی ہے ۔ اس سے کسانوں کی زندگیوں میں کوئی تبدیلی آنے والی نہیں ہے کیوں کہ زراعت کو اقل ترین قیمت ہی وصول نہیں ہورہی ہے ۔ ملک بھر میں 10 ہزار کسانوں نے خود کشی کرلی ہے ۔ جس میں صرف ریاست تلنگانہ کے ہی 3400 کسان شامل ہیں ۔ کسانوں کے خود کشی واقعات کی روک تھام کے لیے کوئی اقدامات نہیں کئے جارہے ہیں ۔ ماضی میں تلنگانہ سے نا انصافی ہونے پر مودی کے خلاف علم بغاوت کرنے کا اعلان کرنے والے کے سی آر اچانک خاموش کیوں ہوگئے ۔ اس پر غور کرنے ضرورت ہے ۔ تلنگانہ سے نا انصافی پر جنتر منتر پر احتجاج کرنے کی دھمکی کرنے والے چیف منسٹر آج لب کشائی سے گریز کررہے ہیں ۔ حکومت کے اس موقف پر عوام میں ناراضگی پائی جاتی ہے ۔ ملک میں 12 کروڑ بیروزگار نوجوان روزگار کا انتظار کررہے ہیں ۔ مودی نے نوٹ بندی کردیا جس سے 50 لاکھ افراد مزید بے روزگار ہوگئے ۔ جی ایس ٹی سے معیشت کا گراف گھٹ گیا ۔ تقسیم آندھرا پردیش کے بل میں تلنگانہ سے جو بھی وعدے کئے گئے اس میں ایک وعدے کو بھی پورا نہیں کیاگیا ۔ علحدہ تلنگانہ تحریک کے دوران بحیثیت کانگریس ارکان پارلیمنٹ ہم نے اپنی حکومت ہونے کی پروانہ نہ کرتے ہوئے تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے لیے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں احتجاج کیا ۔ یہاں تک کے پارلیمنٹ کی کارروائی سے معطل بھی ہوئے تھے ۔ ٹی آر ایس کے ارکان پارلیمنٹ این ڈی اے کا حصہ بھی نہیں ہے باوجود اس کے تلنگانہ یس ہونے والی نا انصافی پر آواز اٹھانا مناسب نہیں سمجھ رہے ہیں ۔ پونم پربھاکر نے ٹی آر ایس کے ارکان پارلیمنٹ کو استعفیٰ دیتے ہوئے تلنگانہ سے انصاف کے لیے مرکز پر دباؤ بنانے کا مطالبہ کیا ۔۔

TOPPOPULARRECENT