Thursday , January 18 2018
Home / شہر کی خبریں / مرکزی حکومت‘ اراضی بل پر قومی بحث کیلئے تیار

مرکزی حکومت‘ اراضی بل پر قومی بحث کیلئے تیار

ریاستوں کو قانون پر عمل آوری کے فیصلے کا اختیار ‘ وزیر پارلیمانی اُمور وینکیا نائیڈو کا بیان

ریاستوں کو قانون پر عمل آوری کے فیصلے کا اختیار ‘ وزیر پارلیمانی اُمور وینکیا نائیڈو کا بیان

حیدرآباد۔23مارچ ( سیاست نیوز) مرکزی وزیر ایم وینکیا نائیڈو نے آج دعویٰ کیا کہ این ڈی اے حکومت کی مجوزہ اراضی بل کسان دوست ہے اور اس سے غربت میں کمی ہوگی ۔ انہوں نے مجوزہ قانون سازی پر قومی بحث کے آغاز کی حمایت بھی کی ۔ مسٹر وینکیا نائیڈو نے یہاں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’’ کسانوں اور دیہی علاقوں کو ترقی کے ثمرات میں حصہ داری کی نئی سطح پر لیجانے کیلئے مساویانہ طور پر اہمیت کی حامل ہے ۔ ہمارا ارادہ ہے کہ کسانوں کو فائدہ اور ان کے بچوں کو روزگار حاصل ہوسکے ‘‘ ۔ وزیر پارلیمانی اُمور نے مزید کہا کہ ’’ میں تمام جماعتوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس قانون سازی پر پیشرفت کریں ‘ اس دوران بل پر قومی مباحثہ بھی کیا جاسکتا ہے ۔ ریاستوں کو اس بل یا یو پی اے حکومت کی بل پر عمل آوری کرنے سے متعلق فیصلہ کا مکمل اختیار و آزادی حاصل ہے ۔ انہیں ہی فیصلہ کرنے دیجئے ۔ اس میں مسئلہ ہی کہاں ہے ‘‘ ۔ اس آرڈیننس پر جس کی مدت بہت جلد ختم ہوجائیگی دوبارہ آرڈیننس کی اجرائی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ’’ اس کے امکانات اور حکمت عملی کا انکشاف نہیں کیا جاسکتا ‘ لیکن آپ ہم سے بہتر جانتے ہیں کیونکہ خود آپ بھی اپنے طور پر تحقیق کرتے ہیں‘‘ ۔ اس واضح سوال پر کہ آیا حکومت دوبارہ آرڈیننس جاری کرے گی ‘ انہوں نے جواب دیا کہ حکومت اس ضمن میں ماضی کی حکومت کی طرف سے قائم کردہ مثالوں کے علاوہ دستوری گنجائشوں کا جائزہ لے گی ۔ مسٹر وینکیا نائیڈو نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ رواں بجٹ سیشن کا پہلا مرحلہ انتہائی کارکرد اور ثمرآور رہا ۔ کارکردگی گذشتہ 10سال کے دوران سب سے زیادہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے دونوں ایوانوں میں کارروائی اطمینان بخش رہی جو ایک مثالی کامیابی ہے ‘ جس کے لئے انہوں نے پارلیمنٹ کے تمام ارکان کو مبارکباد دی ۔ مسٹر وینکیا نائیڈو نے کہا کہ ’’ یہ محض صرف ایک پارٹی یا حکومت کے سبب نہیں بلکہ تمام سیاسی جماعتوں کی دانشمندی اور مساعی کا نتیجہ ہے کہ ہم نے یہ کامیابی حاصل کی ہے ‘‘ ۔ انہوں نے کہا کہ پی آر ایس لیجسلیٹیو ریسرچ نے توثیق کی ہے کہ پارلیمانی کارکردگی کا اوسط 121فیصد رہا جو ایک دہائی کے دوران سب سے اعلیٰ ترین سطح ہے ۔

TOPPOPULARRECENT