Monday , June 25 2018
Home / شہر کی خبریں / مرکزی حکومت پر عوامی تحریکوں کو ختم کرنے کی سازش رچنے کا الزام

مرکزی حکومت پر عوامی تحریکوں کو ختم کرنے کی سازش رچنے کا الزام

پروفیسر سائی بابا کی گرفتاری کے خلاف عوامی تحریکوں کا اندرا پارک پر احتجاجی دھرنا ، پروفیسر ہرا گوپال ، ورا ورا راؤ ، ڈاکٹر کے نارائنا و دیگر کی شرکت و خطاب

پروفیسر سائی بابا کی گرفتاری کے خلاف عوامی تحریکوں کا اندرا پارک پر احتجاجی دھرنا ، پروفیسر ہرا گوپال ، ورا ورا راؤ ، ڈاکٹر کے نارائنا و دیگر کی شرکت و خطاب
حیدرآباد۔13جون(سیاست نیوز)۔ ماوسٹوںسے تعلقات کے نام پر سماجی جہدکاروں بالخصوص پروفیسرس کے ساتھ پولیس کے رویہ کو قابلِ افسوس قراردیتے ہوئے پروفیسر ہرا گوپال نے مرکز کے مودی انتظامیہ پر عوامی تحریکوں کو ختم کرنے کی سازش رچنے کا الزام عائد کیا۔ عوامی تحریکوں کے متحدہ پلیٹ فارم کے زیراہتمام پروفیسر جی این سائی بابا کی غیر مشروط رہائی کے مطالبے پر اندرا پارک دھرنا چوک میں منعقدہ ایک روزہ احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ سائی بابا جیسے قابل پروفیسر کی غیرجمہوری انداز میںگرفتاری اس بات کی طرف اشارہ کررہی ہے کہ مرکزی انتظامیہ سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو جبراً دبانے کام کریگا۔ انہوں نے سائی بابا کی گرفتاری سے زیادہ ہندوستان بھر کی یونیورسٹیز پر پولیس کی مشکوک نظر کو تشویش ناک قراردیتے ہوئے کہاکہ پروفیسر جی این سائی بابا کی گرفتار ی کے بعد نہ صرف دہلی یونیورسٹی میں سیکشن 144نفاذ کیاگیا بلکہ ملک کی تمام یونیورسٹیز کے پروفیسر اور طلباء پر کڑی نظر رکھی جارہی ہے جو عوامی تحریکوں سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے مذکورہ پلیٹ فارم سے پروفیسر جی این سائی بابا کی غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ پدما شری ایوارڈ یافتہ پروفیسرس کے ساتھ پولیس نے مجرموں جیساسلوک کرتے ہوئے دہلی سے مہاراشٹرا منتقل کیا او رناگپور کی جیل کے انڈہ بیارک میں انہیں قیدی بناکر رکھا ہے جبکہ دہلی یوینورسٹی انتظامیہ نے پروفیسر جی این سائی بابا کی معطلی کے احکامات جاری کئے اور یونیورسٹی کی جانب سے جاری کردہ گھر چھوڑنے کی نوٹس جاری کردی۔ پروفیسر ہرا گوپال نے مزید کہاکہ اس قسم کی کاروائی کے ذریعہ پولیس عوامی تحریکوں سے وابستہ سماجی جہدکاروں کے دلوں میں خوف ودھشت کاماحول پید ا کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ انقلابی گلوکار ومصنف ورا ورا رائو نے احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ سوشلسٹ نظریات کے حامل تمام سماجی جہدکاروں کے دلوں میںخوف ودہشت کا ماحول پید ا کرنے کے لئے مرکزی انتظامیہ قومی سطح پر سماجی جہدکاروں کوماوسٹوں سے تعلقات کے الزام میں ہراساں وپریشان کرنے کی کوشش کررہا ہے ۔ ورا ورا رائو نے بھی پروفیسر جی این سائی بابا کی غیرمشروط رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ یوپی اے کے بعد این ڈی اے انتظامیہ سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف اٹھنے والی تمام آوازوں کو دبانے کاکام کررہاہے مگر جمہوری انداز میں مرکزی انتظامیہ کی مخالف عوامی تحریک پالیسیاں کارگر ثابت ہونے والی نہیںہیں۔ ڈاکٹر کے نارائنہ نے کہاکہ پروفیسر جی این سائی بابا کی غیر مشروط رہائی کے لئے ریاستی حکومت کی سنجیدہ جدوجہد بھی ناگزیر ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ٹی آر ایس سربراہ نے اقتدار میں آنے سے قبل اس بات کا بارہا اعلان کیاہے کہ ماوسٹ نظریات اور ٹی آر ایس پارٹی کی سونچ میںکوئی فرق نہیں ہے مگر ریاست تلنگانہ میںماوسٹ سرگرمیوںپر سے امتناع برخواست کرنے کے متعلق ریاست کے چیف منسٹر غیر یقینی حالات کا شکار دیکھا ئی دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ جمہوریت میںتمام طبقات اور اقوام کو اظہار خیال کی مکمل آزادی ہے مگر عوامی تحریکوں کے خلاف مرکزی اور ریاستی حکومتوں کا رویہ جمہوری اقدار کے قتل کے مترادف ثابت ہورہا ہے۔ڈاکٹر کے نارائنہ نے بھی پروفیسر جی این سائی بابا کی غیر مشروط رہائی کے علاوہ تلنگانہ میں ماوسٹ سرگرمیوں پر سے امتنا ع برخواست کرنے کا مطالبہ کیا۔ سینئر ایڈوکیٹ ہائی کورٹ وسماجی جہدکار بوجا تارکم نے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ سی آر پی سی کے تحت گرفتاری سے قبل گرفتاری کی وجوہات اور گرفتار کرنے والے عہدیدار کی تفصیلات فراہم کرنے کی ذمہ داری متعلقہ محکمہ پر عائد ہوتی ہے مگر پروفیسر جی این سائی بابا کی گرفتاری کے موقع پر مذکورہ تمام قواعدو ضوابط کونظر انداز کیاگیا۔ٹی پی ایف نائب صدر واسٹیٹ کوارڈینٹر ایم ویداکمار‘ صدر ٹی یو یف ویملا‘ صدر پی او ڈبلیو سندھیا‘ چیرمین ہیومن رائٹس فورم جیون کمار‘ راگھو ناتھ کے علاوہ دیگر نے بھی اس احتجاجی دھرنے سے خطاب کیا۔ سینکڑوں کی تعداد میںعوام نے بھی اس احتجاجی دھرنے میں شرکت کی

TOPPOPULARRECENT