Monday , September 24 2018
Home / Top Stories / مرکزی حکومت پٹرول پراڈکٹس کو جی ایس ٹی میں شامل کرنے کی حامی

مرکزی حکومت پٹرول پراڈکٹس کو جی ایس ٹی میں شامل کرنے کی حامی

ریاستوں کے ساتھ اتفاق رائے پر اقدام کیا جائے گا ، پٹرولیم اشیاء پر زیادہ تر ریاستی محصولیات عائد ، راجیہ سبھا میں جیٹلی کا بیان

نئی دہلی ۔ 19 ڈسمبر۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) مرکزگڈس اینڈ سرویسیس ٹیکس (جی ایس ٹی) کے دائرۂ عمل میں پٹرولیم اشیاء کو شامل کرنے کا حامی ہے لیکن وہ ریاستوں کے ساتھ اتفاق رائے چاہے گا قبل اس کے کہ ایسے کسی اقدام پر عمل کیا جائے، وزیر فینانس ارون جیٹلی نے آج یہ بات کہی ۔ راجیہ سبھا میں وقفۂ سوالات کے دوران کانگریس لیڈر اور سابق وزیر فینانس پی چدمبرم نے جاننا چاہا کہ پٹرول اور ڈیزل کو جی ایس ٹی کے تحت لانے کے بارے میں مرکزی حکومت کا موقف کیا ہے ؟ انھوں نے یہ بھی استفسار کیا کہ کیوں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں خام تیل کی عالمی قیمتوں میں گراوٹ کے باوجود کم نہیں ہوئی ہیں۔ جیٹلی نے جواب میں کہا کہ اس مسئلے سے واقف کار شخص کی طرف سے یہ سوال پوچھا گیا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ یوپی اے نے اپنے مسودہ جی ایس ٹی بل میں پٹرول کو اس کے دائرہ کار سے باہر رکھا تھا کیونکہ اُسے معلوم تھا کہ یہ مسئلہ مرکز اور ریاستوں کے درمیان معاملت شکن بن جائے گا ۔ ’’اب آپ اپوزیشن میں ہیں اور اپنے موقف کو بدلنے میں زیادہ لچک دکھا سکتے ہیں ‘‘۔ وزیرموصوف نے کہاکہ موجودہ حکومت نے ریاستوں کو ترغیب دی ہے کہ پٹرول کو جی ایس ٹی کے اندرون شامل کرلیں اور ریاستوں نے پس و پیش کے ساتھ ایسا کرنے سے اتفاق کیا ہے ۔ جیٹلی نے کہاکہ مرکز پٹرول کو جی ایس ٹی کے ساتھ مربوط کرنے کا حامی ہے ۔ تاہم ایسا اُسی وقت کرنا چاہیں گے جب ریاستیں اس کا مطالبہ کرے اور اتفاق رائے اُبھر آئے ،

تب اس طرح کا اقدام کیا جائے گا ۔ اس الزام کا جواب دیتے ہوئے کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں عالمی قیمتوں کی مطابقت میں نہیں گھٹ رہی ہیں ، جیٹلی نے کہاکہ یہ بات ذہن نشین رکھنا ہوگا کہ ان پٹرولیم اشیاء پر عائد زیادہ تر محصولات خود ریاستوں کے عائد کردہ ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ مرکز کے مشورے پر بڑی تعداد میں ریاستوں نے اُن ٹیکسوں میں کٹوتی کی لیکن یو پی اے (کانگریس اور اُس کے حلیفوں کے زیراقتدار) ریاستوں نے ایسا نہیں کیا ۔ جی ایس ٹی کے تحت اُصول ہونے والی رقم کے تعلق سے ایک سوال پر جیٹلی نے کہاکہ بتدریج پیشرفت ہورہی ہے اور ریاستوں کو اس قانون سازی میں مصرحہ قواعد کی مطابقت میں ادائی کی جارہی ہے۔ جب بی جے پی رکن اجئے سنچیتی نے جی ایس ٹی شرحوں پر مختلف قائدین کے اظہارعدم اطمینان والے بیانات کے تعلق سے پوچھا تب جیٹلی نے کہاکہ مختلف ریاستوں کے وزرائے فینانس جی ایس ٹی کونسل کی میٹنگ کے دوران ان اُمور کے بارے میں اپنی رائے دے چکے ہیں ۔ تاحال تمام اُمور کا اتفاق رائے سے فیصلہ ہوا ہے ۔ ایک اور سوال کے جواب میں جیٹلی نے کہاکہ ایس بی آئی کا موجودہ طورپر کوئی والنٹری ریٹائرمنٹ اسکیم پیش کرنے کا منصوبہ نہیں ہے ۔ تاہم بعض بینک جو پہلے ہی ایس بی آئی کے ساتھ ضم ہوچکے ، اُن بینکوں کی ایسی بعض اسکیمات ہیں۔

TOPPOPULARRECENT