Wednesday , September 26 2018
Home / Top Stories / مرکزی حکومت کی ماؤسٹوں کے خلاف نرمی برتنے کی تردید

مرکزی حکومت کی ماؤسٹوں کے خلاف نرمی برتنے کی تردید

نئی دہلی۔ 3 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) چھتیس گڑھ میں نکسلائیٹ حملے کے دو دن بعد حکومت نے آج پارلیمنٹ میں کہا کہ ماؤسٹوں کی لعنت کا خاتمہ کرنے میں کوئی نرمی نہیں اختیار کی جارہی ہے اور تیقن دیا کہ ان کے ساتھ سختی سے نمٹنے کے لئے فوج کی بھرپور تائید کی جارہی ہے۔ لوک سبھا اور راجیہ سبھا ازخود بیان دیتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے وا

نئی دہلی۔ 3 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) چھتیس گڑھ میں نکسلائیٹ حملے کے دو دن بعد حکومت نے آج پارلیمنٹ میں کہا کہ ماؤسٹوں کی لعنت کا خاتمہ کرنے میں کوئی نرمی نہیں اختیار کی جارہی ہے اور تیقن دیا کہ ان کے ساتھ سختی سے نمٹنے کے لئے فوج کی بھرپور تائید کی جارہی ہے۔ لوک سبھا اور راجیہ سبھا ازخود بیان دیتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے واقعہ کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ فوج پر ماؤسٹوں نے حملہ کیا تھا۔ انہوں نے 12 نکسلائیٹس کی ہلاکت کے بعد 16 نومبر سے اپنی کارروائیاں دوبارہ شروع کردیں۔ حکومت کی کارروائی میں کوئی نرمی نہ ہونے کا ادعا کرتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ ریاستی حکومت کی ہر ممکن مدد کی جائے گی۔ ریاستی حکومت سے خواہش کی کہ ماؤسٹوں سے نمٹنے کثیر جہتی حکمت عملی اختیار کی جائے۔ انہوں نے کل رائے پور کا دورہ کیا اور صورتِ حال کا شخصی طور پر جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ صیانتی اقدامات کئے جائیں گے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ قبائیلیوں اور کمزور طبقات کے حقوق کا تحفظ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی حکمت عملی کی وجہ سے ماؤسٹوں کے حوصلے پست ہوچکے ہیں۔ کثیر تعداد میں ماؤسٹ ہتھیار ڈال رہے ہیں اور جاریہ سال ان کی قابل لحاظ تعداد خود سپردگی اختیار کرچکی ہے۔ یہ سلسلہ 2011ء سے ہی جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ امن کی برقراری، انتہا پسندی سے نمٹنے اور آفات سماوی کی صورت میں مرکزی حکومت عام طور پر ضروری غور کے بعد فوج کی خدمات فراہم کرتی ہے۔ مسلح پولیس ہمیشہ ریاستی حکومتوں کے احکام کی پابند رہتی ہیں۔ اور فوج سے بھی تعاون کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تازہ ترین حملے کے بعد 2,253 سی آر پی ایف اور 224 ریاستی پولیس کے سپاہی جملہ 2,477 سپاہی تعینات کئے گئے ہیں۔ فوج اور ماؤسٹوں کے درمیان کئی انکاؤنٹرس ہوچکے ہیں۔ مختلف ذرائع بشمول محکمہ سراغ رسانی اور ذرائع ابلاغ سے حاصل ہونے والی خبروں کے بموجب 21 نومبر کو 12 نکسلائیٹس بھی ہلاک ہوئے تھے، تاہم ہنوز اس اطلاع کی توثیق نہیں ہوئی۔ مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ کارروائی کے تیسرے مرحلے کا 27 نومبر سے آغاز ہوچکا ہے۔ گھنے جنگلاتی علاقہ میں تلاشی کارروائی جاری ہے۔ 223 سی آر پی ایف بٹالین اور 206 کوبرا بٹالین کے فوجی اپنے کیمپوں پر واپس پہنچ چکے ہیں۔ یکم ڈسمبر کو 10:30 بجے صبح حملے کا واقعہ پیش آیا جس میں 14 ملازمین پولیس ہلاک ہوگئے تھے۔

TOPPOPULARRECENT