Saturday , December 16 2017
Home / شہر کی خبریں / مرکزی حکومت کی نئی حج پالیسی سے عازمین حج پر راست اثرات

مرکزی حکومت کی نئی حج پالیسی سے عازمین حج پر راست اثرات

سبسیڈی کا بتدریج خاتمہ ، عازمین کے کرایہ میں تخفیف کی سفارشات
محرم کے بغیر سفر حج کی اجازت مشروط

حیدرآباد ۔ 11۔ اکتوبر (سیاست نیوز) مرکزی حکومت کی نئی حج پالیسی کے سلسلہ میں 5 رکنی کمیٹی نے جو سفارشات پیش کی ہیں، ان میں بعض ایسی سفارشات ہیں، جو عازمین حج پر راست اثر انداز ہوںگی۔ کمیٹی نے بتدریج سبسیڈی کے خاتمہ کے پس منظر میں عازمین حج پر کرایہ کے بوجھ میں کمی کیلئے بعض سفارشات پیش کی ہیں۔ اس کے علاوہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں رہائشی عمارتوں کے انتخاب کے سلسلہ میں شفافیت اور درمیانی افراد کے رول کو ختم کرنے بعض تجاویز پیش کی گئیں۔ مرکزی وزارت اقلیتی امور اور سنٹرل حج کمیٹی نے کمیٹی کی سفارشات ریاستی حج کمیٹیوں کو روانہ کی گئیں۔ اگرچہ ریاستی کمیٹیوں سے سفارشات کے بارے میں رائے حاصل نہیں کی گئی لیکن ریاستی حج کمیٹیوں نے اپنی ضرورتوں کے اعتبار سے حج کمیٹی کو اپنی رائے پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ نئی حج پالیسی میں محرم کے بغیر حج کی اجازت کے مسئلہ پر کافی تنازعہ پیدا ہوگیا ۔ تاہم سفارشات میں کمیٹی نے اس مسئلہ کو صرف ان مکاتب فکر تک محدود کردیا ہے جہاں محرم کے بغیر سفر حج کی اجازت ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ شافعی مسلک اور شیعہ فرقہ میں محرم نہ ہونے کی صورت میں خواتین کو گروپ کی شکل میںجانے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس طرح حج پالیسی میں اس سلسلہ میں جو سفارش کی گئی ، اس کا اطلاق حنفی اور دیگر مسالک پر نہیں ہوگا ، جن میں سفر حج کیلئے محرم کا ہونا لازمی ہے۔ لہذا عام مسلمانوں کو نئی حج پالیسی کی محرم سے متعلق تجویز سے الجھن کا شکار ہونے کی ضرورت نہیں۔ مفتی صادق محی الدین فہیم سے اس بارے میں جب استفسار کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ محرم کا لزوم حنفی مسلک میں صرف حج و عمرہ تک محدود نہیں بلکہ ہر سفر کیلئے اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شافعی مسلک میں اگر محرم دستیاب نہ ہو تو بااعتماد خواتین کے گروپ میں سفر حج کی اجازت ہے۔ چونکہ سعودی عرب میں حکومت کا مسلک حنبلی ہے لہذا اس سفارش کو سعودی حکومت کی منظوری کا حاصل ہونا لازمی ہے ، اسی وقت سنٹرل حج کمیٹی اس تجویز پر عمل کرسکتی ہے ۔ مفتی صادق محی الدین نے کہا کہ حج کمیٹی کی جانب سے عازمین کی روانگی کے موقع پر محرم کی موجودگی کی سختی سے جانچ کی جاتی ہے اور جس شخص کا نام محرم کے طور پر دیا جاتا ہے ، اس کی تفصیلات حاصل کی جاتی ہے لیکن بعض ٹراویل ایجنٹ زائد رقم حاصل کرتے ہوئے کسی بھی شخص کو محرم کے طور پر شامل کر رہے ہیں جو مناسب نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عام سفر کی صورت میں بھی حنفی مسلک میں محرم ساتھ ہونا چاہئے لیکن اکثر دیکھا جارہا ہے کہ سعودی عرب کو وزٹ ویزا پر روانگی کے وقت وہاں کی حکومت محرم کی شرط میں رعایت دے رہی ہے۔ اکثر و بیشتر شوہر اپنی بیوی کو وزٹ ویزا پر سعودی عرب بلاتے ہیں اور وہ محرم کے بغیر ہی سفر کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محرم سے متعلق سفارش کا اطلاق حنفی مسلک پر نہیں ہوگا کیونکہ واضح طور پر مکتب فکر یا مسلک میں اجازت کی شرط کے ساتھ یہ رعایت دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حج پالیسی کی سفارشات کا وسیع تر جائزہ لینے کی ضرورت ہے اور مذہبی جماعتوں اور قائدین کو عجلت میں تبصرہ کرنے سے گریز کرنا چاہئے ۔ اسی دوران حج پالیسی کی دیگر سفارشات میں 70 سال سے زائد عمر اور 4 مرتبہ مسلسل درخواست دینے والے عازمین سے متعلق محفوظ زمروں کو ختم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اگر یہ سفارش قبول کرلی جائے تو دونوں زمروں کے عازمین کو قرعہ اندازی کا سامنا کرنا پڑ ے گا۔ اکثر یہ دیکھا جاتا ہے کہ ریاستوں کو الاٹ کردہ کوٹہ کا تقریباً 70 تا 80 فیصد دونوں محفوظ زمروں کیلئے مختص ہوجاتا ہے اور عام زمرے کیلئے کم نشستیں دستیاب رہتی ہے۔ تلنگانہ میں حج 2017 ء کیلئے تقریباً 13,000 عام زمرہ کے عازمین کیلئے صرف 300 نشستیں تھیں جس کیلئے قرعہ اندازی کی گئی۔ کمیٹی نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں رہائشی عمارتوں کے انتخاب کے سلسلہ میں شفافیت کیلئے بعض تجاویز پیش کی ہیں، تاکہ درمیانی افراد کے رول کو ختم کیا جاسکے۔ کمیٹی نے کہا کہ اگر عمارت میں معیار کے مطابق سہولتیں دستیاب نہ ہوں تو عازمین حج کو حج کی تکمیل کے بعد رہائش کی رقم کا کچھ حصہ واپس کیا جانا چاہئے۔ کمیٹی نے سفری اخراجات میں کمی کیلئے ایرلائینس کمپنیوں سے بین الاقوامی ٹنڈرس طلب کرنے کی سفارش کی ہے۔ اس کے علاوہ عازمین حج کو سعودی عرب پہنچانے کے بعد خالی واپس ہونے والے طیاروں کے بجائے واپسی میں اسے کمرشیل فلائیٹ میں تبدیل کرنے کی سفارش کی گئی تاکہ ایرلائینس پر بوجھ کم ہوسکے۔ طیارہ خالی ہونے کے بجائے مسافرین کے ساتھ واپس ہونا چاہئے ۔ کمیٹی نے حج سے متعلق مختلف زمروں میں سفارشات پیش کی ہے جس کا مرکزی وزارت اقلیتی بہبود اور وزارت شہری ہوا بازی جائزہ لے رہی ہے۔ اسے منظوری کے بعد عمل آوری کیلئے سنٹرل حج کمیٹی روانہ کیا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT